معزز قارئین!14 مئی 2006ء کو صدر جنرل پرویز مشرف کے دَور میں دو سابق وزرائے اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے لندن میں ’’ میثاق جمہوریت‘‘ (Charter of Democracy) پر دستخط کئے لیکن ، وہ پرانی بات تھی۔ دونوں جماعتوں میں "Friendly Opposition"کا دَور ختم ہوگیا ہے ۔ آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر دونوں پارٹیوں کے قائدین ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کے تِیر برسا رہے ہیں ۔  یہ مسلم لیگ (ن) اور نااہل وزیراعظم نواز شریف کی بدقسمتی ہے کہ ’’ یوم میثاقِ جمہوریت ‘‘ پر  14مئی2018ء کو پاک فوج کی تجویز پر وزیراعظم ہائوس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر نواز شریف کی طرف سے 2008ء میں بھارتی شہر ممبئی پر اجمل قصاب وغیرہ کے حملوں جاری کئے گئے بیان پر اُن کی مذّمت کی گئی ۔ 

مسئلہ قومی سلامتی کا تھا اور پاکستان کے ازّلی دشمن بھارت کے خلاف قومی مؤقف اختیار کرنے کا ۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے وزراء وزیر دفاع / وزیر خارجہ خرم دستگیر خان اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی وزیراعظم عباسی کی ہمنوائی کرتے ہُوئے پاک فوج کی مسلح افواج اور دوسرے اداروں کے سربراہوں کی ہاں میں ہاں مِلا کر ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کے غلط اور گُمراہ کُن دعوے کو مسترد کردِیا۔

اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ، جنرل زبیر محمود حیات ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف نیول سٹاف ، ایڈمرل ظفر محمود عباسی، چیف آف ائیر سٹاف، ائیر مارشل مجاہد انور خان ، ڈائریکٹر جنرل ’’ آئی۔ ایس۔ آئی‘‘ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ ، سیکرٹری وزارتِ خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور سینئر سِول اور ملٹری افسران شریک تھے ۔ مزید حیرت یہ کہ ’’ اجلاس کے بعد وزیراعظم عباسی نے اسلام آباد میں (مریم نواز کے سمبندھی)میاں منیر کے گھر نااہل وزیراعظم سے ملاقات کی ۔ نااہل وزیراعظم نواز شریف قومی سلامتی کمیٹی میں اپنے بیان کے مسترد کئے جانے پر بہت برہم تھے۔ رپورٹ کے مطابق ،وزیراعظم عباسی نے اپنے قائد سے عرض کِیا کہ ’’ آپ میرے لیڈر ہیں ، آپ جو احکامات دیں گے ، اُن پر عمل کِیا جائے گا ‘‘۔ 

حضرت عیسیٰ  ؑ نے کہا تھا کہ ’’ دو آقائوں کا غلام کسی سے بھی وفادار نہیں رہ سکتا۔ اب وزیراعظم عباسی بہت سی مشکلات میں پھنس گئے ہیں ۔ اُنہوں نے اور دو وفاقی وزراء نے نہ جانے کِس ’’ اخلاقی دبائو ‘‘میں اپنے قائد کی مذمت کردِی؟۔ مسئلہ ضمیر کا تھا یا نہیں ؟ ۔ کوئی کیا کہہ سکتا ہے ؟۔ آصف زرداری کے دورِ صدارت اور نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کے تیسرے دَور میں مسلم لیگ (ن) اور ’’پی۔ پی۔ پی۔ ‘‘ نے مُک مُکا کی سیاست کی اور پاکستان میں ’’بدترین جمہوریت کا دَور دورہ رہا‘‘۔ دو حریف جماعتوں کے قائدین نے 14 مئی 2006ء کو لندن میں ’’ میثاق جمہوریت‘‘ پر دستخط کئے تو ’’شاعرِ سیاست‘‘ نے جمہور کی حمایت میں نظم لِکھی ۔تین شعر نذر قارئین ہیں… 

بہہ کے لندن دے محل دو محلیاں وِچّ ،

 پاکستانِیاں نال ،مذاق کردے!

قتل کر کے ،آپ جمہوریت نُوں ،

 جمہوریت دا، میثاق کردے!

…O…

بھولے بھالے ، لوکاں نُوں ، پھاہ لَیندے ، 

قومی دولت ایہہ لَے کے نس جاندے!

لُٹّ مار دے ، گُرو گھنٹال دوویں، 

کردے کمّ ، جہیڑا قزاق کردے!

…O…

پاکستان نُوں ، خُوشحال کردے ، 

بُوہے کھول دے اپنیاں رحمتاں دے!

رباّ سوہنیا سُن فریاد ، ساڈی ، 

ساڈے وَیریاں دا جیونا شاق کر دے!

جناب ذوالفقار علی بھٹو مسئلہ کشمیر کا حل کرنے کے لئے عوامی سیاست میں آئے تھے لیکن ’’سِویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے اُنہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے دو ٹکّے کا بھی کام نہیں کِیا۔ یہی روّیہ ، وزیراعظم کی حیثیت سے محترمہ بے نظیر بھٹو نے اور صدر پاکستان نے آصف زرداری نے اختیار کِیا ۔ صدارت کا منصب سنبھالتے ہی ، جناب آصف زرداری نے (نہ جانے کسے مخاطب کر کے ) کہا کہ ’’ کیوں نہ ہم 30 سال کے لئے مسئلہ کشمیر کو "Freeze" (منجمد) کر دیں ؟‘‘۔ صدر زرداری نے مولانا فضل اُلرحمن کو "Kashmir Committee" کا چیئرمین مقرر کِیا ہے ۔ نواز شریف وزیراعظم منتخب ہُوئے تو اُنہوں نے بھی مسئلہ کشمیر کو منجمد کرنے کے لئے مولانا فضل اُلرحمن ہی کو چیئرمین کشمیر کمیٹی مقرر کردِیا تھا۔ پھر مولانا فضل اُلرحمن کو کیا ضرورت تھی ؟ کہ وہ کشمیری عوام کے لئے میدان میں اُترتے ؟۔ 

وزیراعظم نواز شریف نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے تیسرے دَور میں پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ ہی مقرر نہیں کِیا۔ 11 مئی 2013ء کے عام انتخابات میں وفاق اور پنجاب میں بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے اعلان کِیا تھا کہ ’’ عوام نے مسلم لیگ (ن) کو بھارت سے دوستی اور تجارت کے لئے ووٹ دئیے ہیں! ‘‘۔ 26 مئی 2014ء (شبِ معراج رسولؐ) کو وزیراعظم نواز شریف بھارت کے نومنتخب وزیراعظم شری نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے دِلی میں تھے ۔ پھر خبر شائع ہُوئی ’’ وزیراعظم مودی نے وزیراعظم نواز شریف کو "Man of the Peace" (مردِ امن) کا خطاب دِیا ‘‘۔ مودی جی کی ماتا جی اور نواز شریف کی والدۂ محترمہ میں تحائف کا تبادلہ بھی کرایا گیا۔ 

25 دسمبر 2015ء کو قائداعظم ؒ اور وزیراعظم نواز شریف کی سالگرہ کے موقع پر مریم نواز کی بیٹی مہر اُلنساء کی تقریبِ رسمِ حنا میں وزیراعظم نریندر مودی اپنے پورے لائو لشکر سمیت جاتی عمرہ میں تھے ۔ وزیراعظم نواز شریف نے اُنہیں اپنی والدۂ محترمہ سے ملوایا ۔ خبروں کے مطابق ’’ والدۂ محترمہ نے دونوں سے کہا کہ ’’ مِل کر رہو گے تو خُوش رہو گے!‘‘۔ مودی جی نے سعادت مندی سے کہا کہ ’’ ماتا جی! ہم اکٹھے ہی ہیں! ‘‘۔ وزیراعظم نواز شریف نے شری مودی سے اپنے دونوں بیٹوں حسن نواز ،حسین نواز اور بھائی میاں شہباز شریف کو ملوایا ۔ اِس پر شاعرِ سیاست نے کہا کہ …

 دْکھ بانٹے کچھ غریبوں کے ، پڑھ لی نماز بھی!

مہر اْلنساء کی ، رسمِ حِنا کا جواز بھی!

شردھا سے پیش کردِیا ، حسن ؔاور حسین ؔکو!

مصروفِ کاراْن کا چچا ، شاہباز ؔبھی!

مَیں برتھ ڈے پہ قائداعظمؒ کی کیا کہوں؟

مودی ؔنواز نکلا، محمد نواز ؔبھی!

14 مئی 2018ء کے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد نواز شریف تو ، قومی مفادات کے لئے پاکستان کے قانون اورآئین کے تحت اپنا سر خم کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں ۔ کیوں؟۔ کیا وہ واقعی (اپنی خواہش کے مطابق ) موجودہ پاکستان کا شیخ مجیب اُلرحمن بننے کا فیصلہ کر چکے ہیں؟۔ 

معزز قارئین! ایک اور سوال یہ ہے کہ ’’ نااہل وزیراعظم کے نامزد اور منتخب صدرِ پاکستان جناب ممنون حسین جو ( آئین پاکستان کے تحت ) پاکستان کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کہلاتے ہیں ، اچانک نجی دورے پر سعودی عرب کیوں چلے گئے ؟ ‘‘۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کے بیرونی اور اندرونی دشمنوں کا قلع قمع کرنے کے لئے پاک فوج کے غازیانِ صف شِکن ہی کافی ہیں لیکن، کیا صدر ممنون حسین کا ، اِس نازک گھڑی پر سعودی عرب جانا بہت ضروری تھا؟۔ پاکستان کے کونے کونے میں نواز شریف پر غدّاری کے مقدمات چلانے کے لئے عوام میدان میں اُتر آئے ہیں ۔ عدالتوں میں بھی گہما گمی ہے لیکن، نواز شریف اُن کی بیٹی مریم نواز تو شاید غداریؔ کو اپنے لئے اعزاز سمجھ رہے ہیں ۔ ’’ شاعر سیاست‘‘ نے نواز شریف کی ذہنی کیفیت دیکھ کر، اُن کی طرف سے جو نظم لکھی ہے اُس کے صِرف پانچ شعر نذر قارئین ہیں…

سیاست میں ، کبھی نُور، کبھی نار وغیرہ!

کچھ اور بھی کُھل جاتے ہیں بازار وغیرہ!

…O…

اِک ؔخواجہ ہو ، دو ؔخواجہ ہوں، یا ڈار ؔوغیرہ!

یہ سب ہے ، میری رونقِ دربار وغیرہ!

…O…

ہے قطرؔ کا شہزادہ ، میرا یار وغیرہ!

پر ، مودی ؔکی چاہت ، مجھے درکار وغیرہ!

…O…

عباسی ؔکی ، شہباز ؔکی ، سرکار وغیرہ!

مَیں جانتا ہُوں ،اُن کا ہے کردار وغیرہ!

…O…

ہوتا نہیں مَیں ، لعن سے بیزار وغیرہ!

اب قوم مجھے کہتی ہے ، غدّار وغیرہ!