اصغر خان کیس میں میاں نواز شریف نے جواب داخل کرا دیا ہے، کہا ہے کہ انہوں نے کسی درانی یا یونس حبیب سے کوئی رقم نہیں لی اور یہ کہ وہ یہی بیان اس سے پہلے ایف آئی اے میں بھی ریکارڈ کرا چکے ہیں۔ معاف کیجیے گا میاں صاحب آپ کا بیان کوئی اور مان لے تو اور بات ہے‘ محب وطن عوام آپ کی بات نہیں مان سکتے۔ بلیک لاڈکشنری کی ڈیفی نیشن کے تحت آپ صادق ہیں نہ امین۔ چنانچہ ایسے شخص کا بیان قبول نہیں کیا جا سکتا جسے بلیک لاڈکشنری غیر صادق اورامین قرار دے چکی ہو آپ کو یہ خود ثابت کرنا ہو گا کہ آپ نے رقم نہیں لی۔ اعتزازی قانون صاف اور غیر مبہم الفاظ میں بتا چکا ہے کہ بار ثبوت آپ پر ہے۔ آپ نے رقم نہیں لی۔ یہ ثابت کریں کیسے کریں‘ یہ درد سر آپ کا ہے‘ استغاثے کا نہیں۔ ٭٭٭٭٭ چودھری پرویز الٰہی نے امید ظاہر کی ہے کہ پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ خود سے وابستہ توقعات پر پورا اتریں گے۔ لیجیے انہیں بھی ان سے توقع لاحق ہو گئی لیکن موصوف کے علم میں نہیں کہ نگران صاحب سے وابستہ جملہ توقعات کے منجملہ حقوق تحریک انصاف کے حق میں محفوظ ہیں۔ شاید چودھری صاحب سمجھتے ہیں کہ چونکہ خان صاحب کے پائوں میں ان کا اور شیخ رشید کا پائوں بھی شامل ہے اس لیے نگران صاحب شفافیاتی توقعات کا جو ابر باراں تحریک انصاف پر برسائیں گے اس کے کچھ چھینٹے آپ کی جماعت پر بھی جا پڑیں گے اگر وہ ایسا سمجھ رہے ہیں تو کوئی قابل رشک سمجھداری کامظاہرہ نہیں کر رہے۔ ٭٭٭٭٭ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی غیر جانبداری پر بعض حضرات سوال اٹھا رہے ہیں جو غلط ہے نگران صاحب نے حلف اٹھانے سے دو روز پہلے ہی ازراہ غیر جانبداری انتخابات ملتوی کرنے کی حمایت کی تھی اس بارے میں ان کا گراں قدر مقالہ خلیجی اخبار میں شائع ہوا تھا‘چودھریوں نے فوراً ہی ان کی قدر پہچان لی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ انتخابات کا اصل فیصلہ کن معرکہ پنجاب میں ہوتا ہے چنانچہ سب سے زیادہ غیر جانبدارانہ شفافانہ انتخابات کرانے کی ضرورت بھی پنجاب میں ہے چودھریوں نے یہ ضرورت پوری کر دی عسکری صاحب کے پائے کا غیر جانبدار ٹیکنو کریٹ فی الحال ان کے سوا کوئی اور دستیاب نہیں تھا۔ ایک ان کے پائے کا تھا یعنی نواز چودھری لیکن وہ خود الیکشن لڑ رہا ہے۔ عسکری صاحب آج سے نہیں 2014ء کے دھرنوں سے ہی غیر جانبدار چلے آ رہے ہیں۔ ٹی وی پر ہر روز سر شام وہ دھرنوں کے دوران آج گئی کل گئی کی غیر جانبدار نوید سنایا کرتے تھے اور مارشل لاء کے محاسن بیان فرمایا کرتے تھے ان کے وہ ارشادات آج بھی مشعل راہ نور ہیں اور ان کی غیر جانبداری پر دال۔ لیکن خان صاحب کے لیے مشورہ ہے کہ ساری توقعات ان کے نام پر وقف نہ کر دیں۔ پولنگ کے روز پولنگ بوتھوں کے اندر اڑن طشتریوں کی کمک کی ضرورت بہرحال رہے گی۔ ٭٭٭٭٭ ٹکٹوں کی تقسیم پر تحریک انصاف کے بعض کارکن ناراض ہیں اور خان صاحب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نادانی اور بھولپن کی بات ہے ہو سکتا ہے کہ خان صاحب کو تو خود بھی پتہ نہیں ہو کہ کسے ٹکٹ ملا ہے کسے نہیں۔ انہیں تو بنی بنائی لسٹ تھما دی گئی ہو ! بھولے کارکنو۔ جو حضرات دوسری جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ سے لوگ اٹھا اٹھا کر تحریک انصاف میں لائے وہ انہیں ووٹر کے طور پر تو نہیں لائے تھے۔ امیدوار کے طور پر ہی لائے تھے جو لائے تھے انہوں نے ہی ٹکٹ کا فیصلہ بھی کیا۔ خان صاحب کا کیا قصور! ٭٭٭٭٭ عجیب اتفاق ہے جس روز بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ کا مطالبہ چھپا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں‘ اسی روز خان صاحب کے دو اتالیق حضرات ایک روحانی ایک سرویاتی کی داد فریاد بھی ایک اخبار میں شائع ہوئی۔ روحانی اتالیق کا تو باقاعدہ نوحہ شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہی یہی ہے کہ انتخابات بے معنی‘ بے نتیجہ بے کار ثابت ہوں گے۔ یہاں تینوں الفاظ کے ایک ہی معنی تھے ۔گریہ میں زور پیدا کرنے کے لیے تین ہم مطلب الفاظ استعمال کیے گئے وہ یوں بھی کہہ سکتے تھے کہ الیکشن بے نتیجہ ضرب تین ثابت ہوں گے۔ یہ درد ناک نوحہ بہرحال بے کار ہے نہ بے معنی البتہ بانتیجہ ہونے کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایک اڑتی سی خبر تحریک انصاف کے ایک اور کالم نویس نے اپنے کالم میں دی ہے کہ عید کے بعد ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے کہ جن کے نتیجے میں الیکشن ملتوی ہو جائیں گے۔ روحانی اتالیق کو بہرحال اپنے اگلے ارشادات میں یہ ارشاد فرما دینا چاہیے کہ الیکشن کتنے عرصے کے لیے ملتوی کیے جائیں کہ وہ باکار با نتیجہ اور بامعنی ہو جائیں۔ سروریاتی اتالیق نے اپنا دکھ بے مزہ بور انتخابات کے عنوان سے بیان کیا ہے کہہ رہے ہیں کہ انہیں بالکل مزہ نہیں آ رہا۔ شاید وہ انتخابات اور آئٹم ڈانس کو ایک ہی شے سمجھ رہے ہیں۔ یہاں‘ پوش کالونیوں میں آپ کی من پسند تفریحات کی کمی نہیں‘ چھوڑیے انتخابی ماحولیات کو وہاں کی ماحولیات میں جون جولائی ہی نہیں‘ اگست ستمبر بھی گزارئیے ایک ایک لمحے سے سرور نچوڑیے۔ سروریاتی اتالیق جو خیر سے ریٹائرڈ بزرگواران کی جونیئر کیٹگری میں شامل ہیں، کچھ اور وجوہات سے مایوس ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ اچھی بات نہیں کہ خان صاحب اور ان کے رفقائے کار پر ریحام خاں نے کچھ ایسے الزامات لگائے ہیں جنہیں انگریزی کے لفظ ’’ہومو‘‘ کے عنوان میں گنا جاتا ہے لیکن ان کی مایوسی اس شغل پر نہیں اس بات پر ہے کہ یہ بات پنجاب کے عوام پسند نہیں کرتے۔ چنانچہ انہیں الیکشن میں اس کا نقصان ہو سکتا ہے۔ یعنی الزام نامہ بری بات نہیں‘ بری بات اس کا سامنے آ جانا ہے بہرحال اگر یہ التوا کے لیے فریادی ہے اور بے سبب نہیں ہے۔ ٭٭٭٭٭ کراچی سے خبر ہے کہ سحر سے لے کر افطار کے مابعد تک اکثر علاقوں میں بجلی مسلسل بند رہتی ہے۔ کراچی کے دوسرے علاقوں میں بھی برقی رو پانچ پانچ گھنٹوں کے لیے مسلسل بند رہتی ہے مجموعی طور پر 24میں سے چھ سات گھنٹے ہی بجلی ملتی ہے۔ کراچی کو بجلی کی سپلائی کی ذمہ داری ایک ادارے کے الیکٹرک کے پاس ہے یہ نام کیوں بدل نہیں دیتے۔ یعنی اسے کے نان الیکٹرک رکھ دیتے۔ اسم بامسمیٰ ہو جائے گا۔ ٭٭٭٭٭ پرویز مشرف کو ہر طرح کے خطرات سے بے نیاز کر دیا گیا ہے خان صاحب کی طرح انہیں بھی ’’رڑا‘‘ میدان صاف کر کے دے دیا گیا ہے پھر بھی انہیں آنے سے کیوں ڈر لگتا ہے۔ اب بھی یہی بتا رہے ہیں کہ مطلع اچھی طرح صاف ہو جائے تبھی آئوں گا۔ یہ مطلع کون سی رویت کمیٹی صاف کرے گی؟ کبھی کرے گی بھی یا نہیں کرے گی۔ اتنی زیادہ ’’بہادری‘‘ تو لاعلاج ہے بھئی!