اسلام آباد(نمائندہ خصوصی ،سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں )جمعیت علما اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں ادارے آئین پر عمل نہیں کر رہے اور پس پردہ قوتیں ملک کو چلا رہی ہیں۔اسلام آباد میں آر آئی یو جے کے زیر اہتمام آزادی اظہار کو درپیش خطرات اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست، صحافت اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے ، جہاں جمہوریت نہ ہو وہاں صحافت بھی نہیں ہوتی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جمہوریت کو سب سے زیادہ تنقید صحافت کی جانب سے برداشت کرنا پڑتی ہے ۔صحافت کی آزادی میں بھی حدودوقیود ہونی چاہئیں۔ فوج اور عدلیہ محترم ادارے ہیں لیکن جب یہ ادارے سیاست میں مداخلت کرتے ہیں تو پھر جھگڑے شروع ہوتے ہیں۔ جب ملکی فیصلوں کا اعلان ٹویٹ کے ذریعے کیا جائے اور جج اپنی کرسیوں پر بیٹھ کر سیاستدانوں پر تبصرے کریں تو یہ ان کے عہدے کیلئے مناسب نہیں ۔ جج سیاستدانوں کی کردار کشی کریں تو انہیں تنقید ہی برداشت کرنا پڑے گی۔پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اﷲ بابر نے بین الاقوامی کانفرنس بلانے کی تجویز د یتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے قبل سویلین بالادستی کیخلاف مارشل لالگ چکا ہے ۔ ملک میں سویلین حکومت تو ہے لیکن اس کے پاس کوئی اختیارات نہیں جبکہ صحافت آزاد لگتی تو ہے لیکن اس کو آزادی حاصل نہیں ۔ منتخب وزیراعظم کے احکامات کو ایک ٹویٹ کے ذریعے رد کردیا جاتا ہے ۔ آزادی اظہار رائے پر پابندی سنجیدہ معاملہ ہے ۔ صحافی حضرات پارلیمنٹ کی کمیٹی کو درخواست دیں کہ وہ اس معاملے پر سماعت کریں اور جو لوگ آزادی رائے کیخلاف کام کر رہے ہیں ان کو بھی بلا کر جواب طلب کیا جائے ۔ مسلم لیگ(ن)کے سینئر رہنما سینیٹر پرویز رشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت اختیار اور اقتدار کا منبع پارلیمنٹ ہے ،بدقسمتی سے پارلیمنٹ رکوع اور سجدے سے ہی نہیں اٹھ سکی۔ پاکستان میں مسئلہ آزادی صحافت کا نہیں بلکہ مسئلہ آزادی جمہور کا ہے ۔ جمہور آزاد نہیں ہو گاتو صحافت بھی آزاد نہیں ہو گی اور ملک کے اندر عدل کا منصفانہ نظام بھی نہیں ہو گا۔پاکستان کاآئین خون جگر سے لکھا گیا لیکن اس کی روح پر ہم ایک دن بھی عمل نہیں کر سکے ۔ وقت ملک کے اندر ایک یونائیٹڈ فرنٹ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں تمام طبقات کے افراد شامل ہوں اور وہ آزادی اظہار رائے حاصل کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کر سکیں۔