آزاد کشمیر کے سیاحتی علاقہ میں نالہ جاگراں کا معلق پل ٹوٹ کر گرنے سے 7سیاح ڈوب کر جاں بحق، 9لاپتہ اور گیارہ زخمی ہو گئے۔ قدرت نے کشمیر اور پاکستان کو طرح طرح کے عجائبات سے نوازا ہے۔ گھنے اور سرسبزوشاداب جنگلات، شیشے کی طرح صاف و شفاف قدرتی ندی نالے، دنیا کی بلند ترین 6پہاڑی چوٹیاں، فلک بوس پہاڑی سلسلے، گہرے نیلے پانیوں کی رنگ بدلتی جھیلیں، بلند ترین شندور پولوگرائونڈ ان مقامات پر قدرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ سایہ فگن ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں آنے والی حکومتوں نے ان مقامات تک عوام کی رسائی آسان بنا کر اسے ملکی ثقافت کا درجہ نہیں دیا۔ آزاد کشمیر کی تحصیل اٹھ مقام سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے لیکن حکومتی عدم دلچسپی سے وہاں پر سیاحوں کے لیے کوئی سہولت ہے نہ ہی نالۂ جاگراں پر کوئی مضبوط پل بنایا گیا ہے۔ حکومت سیاحوں سے زرمبادلہ حاصل کرتی ہے۔ مقامی افراد سے بھی ان مقامات کو دیکھنے کے لیے پیسے لیے جاتے ہیں لیکن سہولتوں کا اس قدر فقدان ہے کہ خستہ حال معلق پل وزن برداشت کرنے کی بجائے ٹوٹ کر 7سیاحوں کو بھی لے ڈوبا۔ اگر پل ناقص تھا تو حکومت کو کوئی انتباہی بورڈ نصب کرنا چاہیے تھا تا کہ پل پر یکبار زیادہ لوگ نہ کھڑے ہوتے لیکن حکومت کی طرف سے وہاں پر حفاظتی انتظامات تھے نہ ہی ایمرجنسی و ہنگامی حالات سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ تشکیل دے رکھا تھا۔ 7خاندانوں کے چراغ گل ہوئے جبکہ 9لاپتہ سیاحوں کے لواحقین پیاروں کی نعشیں نہ ملنے پر اذیت کا شکار ہیں۔ حکومت سیاحتی علاقوں کے راستوں، خستہ حال پلوں کی ازسرنو تعمیر کرے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں اکثر خاندان سیاحت کے لیے جاتے ہیں۔ اگر حکومتی انتظامات اچھے ہوئے تو اس سے زرمبادلہ میں اضافہ ہو گا اور مقامی افراد کو بھی روزگار ملے گا۔ پاکستان دریائے سندھ کی پرانی تہذیب کے آثار، کھنڈرات، ہڑپہ اور موئن جوداڑو کے علاقوں کو سیاحوں کا مرکز بنا کر زرمبادلہ کما سکتا ہے لیکن حکمران طبقہ صرف اپنے پیٹ پر ہاتھ مارتا ہے جس بنا پر عوام آئے روز اپنے پیاروں کی نعشیں اٹھانے پر مجبورہیں۔