بہارہ کہو، اسلام آباد(نمائندہ92نیوز ،این این آئی)جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مقامی رہنما سمیت 3 افراد کے قتل کے خلاف بھارہ کہو میں کیا جانے والا احتجاج کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا تاہم ملزمان کی گرفتاری کیلئے اسلام آباد انتظامیہ کو آج شام تک کی ڈیڈ لائن دیدی ،مطالبہ پوارنہ ہوا تو دوبارہ شدید احتجاج ہوگا۔جے یو آئی کارکنان اور مقتولین کے اہلخانہ کی جانب سے اٹھال چوک بھارہ کہو پر احتجاجی دھرنا دیا گیا، مظاہرین نے مری جانے والی شاہراہ بلاک کر دی جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔بعدازاں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشنز نے مظاہرین سے کامیاب مذاکرات کئے جس کے بعد مظاہرین بھارہ کہو سے مقتولین کی میتیں لیکر روانہ ہو گئے اور سڑک کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔مظاہرین کا کہنا تھا میتیں لیکر جا رہے ہیں تاہم ابھی تدفین نہیں کر ینگے ، قاتل گرفتار نہ ہوئے تو پھر احتجاج کر ینگے ۔ اس موقع پر اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود رہی اور ڈی سی حمزہ شفقات اور ایس پی سٹی عمر خان بھی موقع پر موجود رہے ۔ایس پی سٹی نے روزنامہ92 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تمام ہمدردیاں مقتولین کے ورثائکے ساتھ ہیں ملزمان کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں انشائاللہ جلد واقعہ میں ملوث مجرموں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائیگا۔دوسری جانب جے یو آئی رہنما سمیت 3افراد کے قتل کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ۔ قبل ازیں مفتی اکرام سمیت مقتولین کا پوسٹمارٹم مکمل کیا گیا اورلاشیں ورثا کے حوالے کی گئیں ،پوسٹ مارٹم اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال میں کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے قتل کی تحقیقات کیلئے 2 تفتیشی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جب کہ واقعہ کی مختلف پہلوئوں سے تحقیقات بھی جاری ہیں۔ ادھرپاکستان ڈیموکریٹک (پی ڈی ایم)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت امن وامان قائم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے ،اسلام آبادمیں سرعام نہتے شہریوں کوشہیدکرناافسوسناک ہے ، حکومت قاتلوں کوگرفتارکرکے قرارواقعی سزادے ۔مولانا فضل الرحمن نے مفتی اکرام اﷲ کے قتل پر ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہاکہ دکھ کی اس گھڑی میں اہل خانہ کے غم میں برابر کاشریک ہوں۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں فائرنگ کر کے جے یو آئی کے مقامی رہنما قاری کرامت الرحمن کے بھائی، بیٹے اور شاگرد کو قتل کر دیا گیا تھا۔