دنیا بھر میں بہت سے لوگ خصوصاََ سیکولر، لبرل، آزاد منش اور اسلام سے خصوصی بغض و عناد رکھنے والے دانشور ایک عجیب و غریب جلن اور کڑھن میں مبتلا رہتے ہیں۔ انہیں مسجدوں کی طرف ذوق و شوق سے جاتے ہوئے لوگ اچھے نہیں لگتے، روزانہ حرم پاک و مسجد نبوی میں بڑھتی ہوئی زائرین کی تعداد ان کے دلوں پر چھریاں چلاتی ہے، یہاں تک کہ انہیں عید قرباں پر لوگوں کا ایک اشتیاق کے ساتھ جانور خرید کر سنت ابراہیمی ادا کرنا بھی سخت برا لگتا ہے۔ اپنی اس جلن، کڑھن اور اسلام دشمنی کی وجہ سے کھولتے ہوئے دماغ سے چند مفروضے تراشتے ہیں اور پھر انکا پوری امت پر اطلاق کردیتے ہیں۔ ان میں سے پہلا مفروضہ یہ ہے کہ ہر نمازی فرد جو اللہ کے سامنے گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا ہے یہ دراصل ایک بددیانت، چور، کم تولنے اور لوگوں کے حقوق غصب کرنے والا ہے اور اسے یہ سکھا دیا گیا ہے کہ تم قتل کر لو، ڈاکہ مار لو، یتیم کا مال کھا لو، بس نماز میں اللہ کے سامنے گڑگڑا کر رو لو، تمہارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ انہیں مسلمانوں کی اجتماعی عبادتوں میں اسراف اور فضول خرچی نظر آتی ہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ جتنا پیسہ حج اور عمرے پر خرچ ہوتا ہے، اس سے کسی غریب کی مدد کی جائے، کسی بیوہ، یتیم اور مسکین کا سہارا بنا جائے۔ انہیں سال میں ایک دن جانور ذبح کرنا بھی فضول خرچی لگتی ہے اور وہ اس دکھ میں گھلے جاتے ہیں کہ یہ سارا پیسہ اکٹھا کرکے کوئی یتیم خانہ یا سکول کیوں نہیں کھول لیا جاتا۔ اپنے اس بغض و عناد اور اسلام دشمنی کی بنیاد پر انہوں نے چند سوال مرتب کیے ہوتے ہیں جنہیں وہ اپنے ایسے مخصوص جدید علماء سے پوچھتے ہیں اور مرضی کا جواب حاصل کرتے ہیں، یا پھر ان دانشوروں، کالم نگاروں اور ادیبوں نے اپنے دماغ میں چند جاہل مولوی تراشے ہوتے ہیں جو حقوق العباد کا ذکر تو نہیں کرتے مگر یہ کہتے پھرتے ہیں کہ تم یہ عمل کر لو گے تو اتنے سالوں کے گناہ معاف ہو جائیں گے، یا اس اسم کی تسبیح کرو گے تو اتنی ڈھیر ساری نیکیاں تمہارے دامن میں آ جائیں گی۔ یہ جدید دانشور اور کالم نگار نابغے اپنے لطیفہ ساز دماغ سے ایسے مولویوں کے خاکے بھی تیار کرتے ہیں اور پھر انہیں اپنے کالموں کی زینت بناتے ہیں اور محفلوں میں تو کھل کر تضحیک کے ساتھ بیان کرتے ہیں جن میں وہ بے چارہ مولوی صرف عبادات کی تلقین کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان ’’عظیم‘‘ کالم نگار دانشوروں کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی گاؤں کے سادہ مولوی کی گفتگو کے چند ٹکڑے اٹھا کر انہیں پوری امت مسلمہ پر چسپاں کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہے ہمارے تمام مسلمانوں کا رویہ اور یوں وہ مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی بدنام کرنے کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ ایسے ہی کئی ایک سوالات گھڑ کر جاوید غامدی صاحب کے سامنے اس طرح رکھے جاتے ہیں جیسے کسی کرکٹر کے سامنے ایسی گیند پھینکی جائے جس سے وہ زبردست ہٹ لگا سکے، اور پھر وہ چھکا لگا دے۔ ایسا ہی ایک چھکا لگانے والا سوال غامدی صاحب کی سامنے رکھا گیا کہ ’’کیا حج اور عمرے کرنے سے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں؟ انہوں نے چھوٹتے ہی پوری مسلم امہ کو کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیا اور تمام مسلمانوں کو مجرم ٹھہرا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی کا حق مار لیں، ملاوٹ کر لیں، کم تول دیں، دھوکہ دے دیں، فریب دے دیں، وعدہ پورا نہ کریں، یہ سارے کام کرلیں اور اس کے بعد عمرہ کرنے چلے جائیں تو ان کے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے‘‘۔ اسکے بعد انہوں نے مغفرت اور بخشش کی وہ تمام آیات و احادیث بیان کرکے اس بات کا ذکر کیا کہ حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق اور ان کے حوالے سے کیے گئے گناہ کبھی معاف نہیں ہوتے۔ لیکن اس بات کو بھرپور طریقے سے ثابت کرنے کی کوشش ضرور کی کہ بحیثیت مجموعی پوری مسلم امہ میں یہ تصور راسخ ہو چکا کہ عمرہ کرنے یا حج کرنے سے تمام چوریاں، ڈاکے، حق تلفیاں، وعدہ خلافیاں اور قتل تک معاف ہوجاتے ہیں۔ یہ فقرہ بازی اور الفاظ کا چناؤ بہت غضب کا ہوتا ہے اور اس سے یہ تاثر مضبوط کرنا مقصود ہوتا ہے کہ عمرہ اور حج کرنے والا دراصل ایک خائن، چور، بددیانت، وعدہ خلاف اور حق تلف کرنے والا ہے۔ جب اس طرح کا جواب موصول ہو جائے پھر غامدی صاحب کے اس ’’ارشاد گرامی‘‘ کو تمام اسلام دشمن، سیکولر، لبرل، دانشور، کالم نگار اور اینکر پرسن گلے کا تعویذ بنا لیتے ہیں۔ غامدی صاحب کو پوری امت پر یہ فقرہ چسپاں کرنے اور انہیں اس غلط فہمی کا شکار بنانے سے پہلے چند لمحوں کے لئے غور کرلینا چاہیے، اپنے اور اردگرد دیکھ لینا چاہیے کہ اس ملک میں بلکہ پوری مسلم امت میں کون لوگ ہیں جو زیادہ خیرات کرتے ہیں، کون ہے جو یتیم خانے، ہسپتال اور مسکینوں کے ادارے چلاتے ہیں۔ کون ہے جو سیلاب، زلزلے، آفت و بیماری میں اپنی جمع پونجیاں نکال کر نچھاور کر دیتے ہیں۔ آپ کو کراچی سے لیکر گلگت تک ان میں سے ننانوے فیصد ایسے لوگ ملیں گے جو دین دار ہوں گے، جو اللہ سے ڈرتے ہوں گے، جنہیں روزِ حشر جواب دہی کا احساس ہوگا، جن کی آنکھیں گناہوں کے احساس سے بھیگی رہتی ہوں گی۔ ان میں بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث، شیعہ غرض ہر فرقے کا دین پر عمل کرنے والا ہی آپ کو ملے گا۔ گزشتہ دس سالوں سے میں پاکستان اور پاکستان سے باہر بے شمار رفاحی اداروں کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے لئے جاتا رہا ہوں۔ صرف چند دن پہلے میں نے الخدمت کے کفالت یتیم بچوں کے پروگراموں میں شرکت کی اور لوگوں سے یتیموں کے سروں پر ہاتھ رکھنے کے لئے پیسہ مانگا، تیس کروڑ سے زیادہ جمع ہوا۔ ڈاکٹر آصف جاہ نے تھر کے پیاسوں کے لئے کنویں لگانا شروع کیے، ان کے لیے بھیک مانگی، لوگ جوق در جوق امڈ پڑے، مسجدوں میں جمعہ کے اجتماعات میں شام اور روہنگیا کے مسلمانوں کی مظلومیت کا رونا رویا تو لوگوں نے کروڑوں روپے قدموں میں ڈھیر کر دیے خبیب فاونڈیشن کے لیے شام کے بے آسرا لوگوں کی مدد کو کہا تو لوگ مدد کے لیے امڈ آئے۔ میں اللہ کے جلال کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ ’’غامدی صاحب ان خیرات کرنے والوں میں اکثریت اور اکثریت بھی ننانوے فیصد تک ایسی تھی جو اللہ سے ڈرتے تھے، اس کے خوف سے کانپتے تھے، جن کی راتیں بے چین ہوجاتی تھیں کہ اگر انہوں نے اپنے مسلمان یتیم بھائی کی مدد نہ کی تو روز حشر وہ رسول اکرم ﷺکی شفاعت کیسے حاصل کر سکیں گے۔ یہ لوگ مسجدیں بھی آباد کرتے ہیں، قربانی بھی کرتے ہیں اور حج اور عمرہ پر بھی شوق سے جاتے ہیں‘‘۔ ذرا آپ آنکھ کھول کر اس امت مسلمہ کا یہ روپ تو دیکھ لیتے، آپ کو کبھی اس امت کو بحیثیت مجموعی مجرم ٹھہرانے کی جرآت نہ ہوتی۔ آپ میرے محترم ہیں، میرے استاد رہے ہیں، لیکن آپ کے یہ جملے دنیا کے سامنے پوری امت مسلمہ کا بدترین روپ پیش کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مجھے یقین ہے آپ نے ہرگز یہ فقرے سوچ سمجھ کر اس نیت سے نہیں کہے ہوں گے۔ لیکن کیا کروں آپ کے ان فقروں سے میرا اسلام دشمن کالم نگار آپ کو جدید اسلام کا علمبردار دکھا کر پوری اسلامی تاریخ کو قصوروار بنا دیتا ہے۔ آپ عالم ہیں، آپ کو بخوبی علم ہے کہ رسول اکرم ﷺکے زمانے سے لے کر آج کی تبلیغی جماعت کے ’’فضائل اعمال‘‘ تک کسی بھی جگہ یہ تحریر نہیں ملے گی کہ کوئی عالم کیا سادہ سا مولوی بھی اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ حقوق العباد اور بندوں کی حق تلفیاں عبادات سے معاف ہوجاتی ہیں۔ لیکن شاید آپ لوگوں کو حق کی یہ بات بتانا نہیں چاہتے کہ تمام مسلمان علماء و صلحاء چودہ سو سال سے مسلسل یہ بیان کرتے آئے ہیں کہ روز حشر بندوں کی حق تلفیوں کا فیصلہ بندوں کے ساتھ معاملہ کرکے ہی طے ہوگا۔ کیونکہ اگر آپ نے لوگوں کو یہ بتا دیا کہ امام ابوحنیفہ سے لے کر حقانی مسجد کا مولوی تک سب اس بات پر یقین رکھتے ہیں تو پھر آپ کی بات نئی کیسے ثابت ہو گی۔میں خوف سے کانپ اٹھتا ہوں جب میں یہ سوچتا ہوں کہ آپ کے کہے ہوئے یہ چند فقرے جو تمام دانشور سیکولر کالم نگار، اسلام، دین اور مسلم امہ کی تضحیک اور تمسخر کے لیے استعمال کرتے ہیں جن سے ایک سادہ لوح مسلمان گمراہ ہوتا ہے، یہ سب آپ کو اللہ کے کٹہرے میں نہ کھڑا کر دیں۔ اللہ آپ کو حق بات کہنے کی توفیق دے اور حق بات یہ ہے کہ یہ امت اپنی تمام تر خرابیوں کے باوجود سب سے زیادہ خیرات کرنے والی قوم ہے۔ ان اسلام دشمن دانشوروں کا کیا ہے، پوری دنیا میں روزانہ کروڑوں ٹن گوشت کھایا جائے انہیں خوشی ہوتی ہے لیکن 365 دنوں میں صرف ایک دن مسلمان قربانی کر لیں تو ان کا دل بیٹھنے لگتا ہے۔ یہ اس شخص سے سوال نہیں کرتے جو ہر سال اپنے تعیش کے لیے یورپ امریکہ اور دیگر مقامات پر سیر کے لئے جاتا ہے اور ان میں سے اکثریت چور، بددیانت اور رشوت خوروں کی ہوتی ہے۔ بلکہ یہ کالم تحریر کریں گے کہ سیاحت کو فروغ دیا جائے لیکن حج و عمرہ کی رونقین ان کا دل جلاتی ہیں۔ یہ ہر نمازی، داڑھی والے کو بددیانت، ملاوٹ کرنے والا اور چور ثابت کریں گے۔ انہیں پاکستان کی جیلوں میں لاکھوں مجرم نظر نہیں آتے جن میں ایک فیصد بھی دین پر عمل کرنے والے نہیں ہوتے۔ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ، بیوروکریسی، عدلیہ اور صحافت میں بے ایمانوں، چوروں، بددیانتوں، غاصبوں اور ڈکیتوں کی تعداد نکال لیں آپ کو ایک فیصد بھی ایسے نہیں ملیں گے جو اللہ کے دین پر بظاہر ہی عمل کرنے والے ہوں۔ اللہ نے قرآن پاک میں ان جیسے دانشوروں کو ’’دل کے کوڑھ‘‘کا مریض کہا ہے اور اللہ فرماتا ہے کہ وہ ان کے مرض میں دن بدن اضافہ کرتا رہتا ہے۔اللہ کا دین پھیلتا ہے اور یہ بغض و حسد کی آگ میں جلتے ہیں۔