اسلام آباد، لاہور ( خبر نگار خصوصی، کامرس رپورٹر، آئی این پی ، این این آئی، مانیٹرنگ ڈیسک ) نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان پر قومی اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے شدید احتجاج  کیا جبکہ نوازشریف کیخلاف کارروائی کیلئے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی گئی ۔ منگل کو قومی اسمبلی میں وزیر اعظم نے وضاحت پیش کی جسے اپوزیشن ارکان نے بیان مسترد کر دیا اور نواز شریف کے بیان کو تحفظ دینے پر اپوزیشن ارکان نے نشستوں پر کھڑے ہو کر شیم شیم اور مودی کا جو یار ہے ،غدار ہے غدار ہے کے نعرے لگائے ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا نواز شریف نے یہ نہیں کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے ممبئی میں حملہ کیا انہیں پاکستان سے جان بوجھ کر بھیجا گیا، ان سٹیٹ ایکٹرز کے حوالے سے جو ایک جملہ ہے وہ غلط رپورٹ ہوا۔نواز شریف کو کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کسی کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار ہے جس نے دبائو کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے اس پر الزام لگانا مناسب نہیں۔ جو باتیں کی جا رہی ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ ایوان میں دھواں دھار تقریریں کی گئیں، یقین سے کہتا ہوں ان لوگوں نے خبر نہیں پڑھی۔ میڈیا نے خبر کے کچھ حصوں کی غلط تشریح کی۔ بد قسمتی ہے کہ سیاسی مقاصد کے لئے قومی سلامتی کو دائو پر لگا یا جارہا ہے ،(ن) لیگ اور حکومت کی بھی یہی پالیسی ہے کہ اپنی سرزمین کسی کوبھی کسی دوسرے ملک پر حملے کے لئے استعمال نہیں کرنے دیں گے ، اگر اس معاملے کو بڑھانا ہے تو پارلیمنٹ نیشنل ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن بنائے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ اس معاملے پر پارلیمنٹ کمیشن بنائے دے ہم اس کے لئے تیار ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا بہت سے افراد کے پیٹ میں درد ہے ، انہیں بولنے دیں۔وزیر اعظم کے بیان پر اپوزیشن نے احتجاجا ایوان سے واک آئو ٹ کیا۔ اعجاز جاکھرانی نے کہا اگر بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے تو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ نواز شریف مسلسل کہتے رہے ہیں کہ میرے سینے میں راز ہیں جو وقت آنے پر کھول دوں گا، کیا یہ وہ راز ہیں؟ شاہ محمود قریشی نے کہا نوازشریف پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑ رہے ، ان کے بیان سے بھارتی موقف کو تقویت مل رہی ہے ۔ اگر خبر غلط لگی تو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کیوں بلایا گیا جس کا انٹرویو تھا اس نے تردید نہیں کی۔ شازیہ مری نے کہا نواز شریف کے اس انٹرویو کے پیچھے پورا پس منظر موجود ہے ، اداروں کو نشانہ بنانے پر کامیابی نہ ملنے پر ملک میں انتشار پھیلایا جارہا ہے ، نواز شریف کا بیانیہ جھوٹا ہے ۔ صاحبزادہ طارق نے کہا اگر نوازشریف صفائی نہیں دیتے تو ملکی سالمیت کی خلاف وزری پر کارروائی کی جائے ۔ علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے نواز شریف کے متنازعہ انٹر ویو اور قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ کو مسترد کرنے کے خلاف منگل کو بھی احتجاج کیا ، حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کی جانب سے مخالفانہ نعرے بازی کیوجہ سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا، اپوزیشن اراکین نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر احتجاج کے دوران ’’گو عباسی گو‘‘ کے نعرے لگائے ۔ قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا نواز شریف سسٹم کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں اور ملک کے خلاف گھنائونی سازش میں ملوث ہیں ۔ کرپشن کو چھپانے کے لئے نئے شوشے چھوڑ رے جارہے ہیں ۔ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ درج کر کے کارروائی ہونی چاہیے ۔جب تک نواز شریف اپنے بیان پر قوم سے معافی نہیں مانگتے ایوان نہیں چلنے دیں گے ۔ اپوزیشن اراکین سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے اور نعرے بازی کرتے رہے ۔ اس دوران ایوان کی کارروائی چلانا محال ہو گیا جس پرسپیکر نے اجلاس کی کارروائی 20 منٹ کے لیے روک دی ، اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس آج تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ دریں اثنا نواز شریف کے بیانات کی نشرواشاعت پر پابندی اور آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی گئی ہے ۔ صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان کی جانب سے جمع کرائی گئی قراداد میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کا بیان ریاست سے غداری ہے اور پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش ہے ۔