سوشل میڈیا پر کالا باغ ڈیم بنائو تحریک اچانک شروع ہوئی اور زور پکڑ گئی۔ مہم کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ سیاست چھوڑو‘ ڈیم بنائو ‘ ملک بچائو۔ اس غلط فہمی میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ یہ ویسا ہی کوئی نعرہ ہے جیسا کینیڈا والے مولانا صاحب نے کئی برس پہلے لگایا تھا کہ سیاست نہیں ریاست بچائو۔ ہر دور کی اپنی روح‘ اپنی آواز ہوتی ہے۔ وہ ماضی کی روح عصر تھی‘ آج نازل ہونے والی روح کا تعلق کالا باغ ڈیم سے ہے۔ الیکشن ملتوی کروانے کی مہم سے اس کا تعلق نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ جلد ہی یہ نعرہ روپ بدل کر یوں سامنے آجائے کہ پہلے ڈیم پھر الیکشن۔

اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں کہ کالا باغ ڈیم کی حمایت حب الوطنی کی لازمی نشانی ہے۔ جو حامی ہے‘ وہ محب وطن‘ جو مخالف ہے وہ غدار ہے۔ اب اس سوال میں الجھنے کا وقت نہیں کہ ایک محب وطن حکومت 1977ء میں آئی اور 1988ء تک رہی یعنی گیارہ سال اور اس گیارہ سال کے عرصے میں کسی نے کالا باغ ڈیم کی ایک اینٹ تک نہیں رکھی۔ رکھی کیا‘ رکھنے کا سوچا بھی نہیں اور پھر دوسری محب وطن حکومت 1999ء میں آئی اور 2007ء میں رخصت رہی اور حال اس بار بھی کالا باغ ڈیم کے باب میں وہی رہا جسے کتابوں میں ایضاً لکھا جاتا ہے۔ دنیا میں دو باتوں کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ یعنی گاہک اور موت کبھی بھی آ سکتے ہیں۔ پاکستان میں ایک تیسری شے بھی اس فہرست میں شامل ہے‘ یعنی محب وطن حکومت‘ فرض کیجیے‘ بالکل مفروضے کے طور پر فرض کیجیے کہ اس بار کوئی اور محب وطن حکومت آ گئی اور دس یا پندرہ سال تک رہی تو کیا کالا باغ ڈیم بن جائے گا؟ کسی جوتشی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں‘ جواب موجود ہے‘ آپ بھی جانتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اس بار بھی ایضاً کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔ بہرحال تحریک مبارک ہے۔ چلتی رہنی چاہیے تاآنکہ الیکشن ہو جائیں باقی سب خیریت ہے۔

٭٭٭٭٭

اس میڈیا پر جسے سوشل میڈیا کہا جاتا ہے اور بھی بہت کچھ چل رہا ہے۔ مثلاً ریحام خان کی کتاب کا ذکر ۔ شاید یہ اتنی مشہور نہ ہوتی لیکن تحریک انصاف کے دھمکیاتی ٹویٹر‘ جن میں نہایت ’’اخلاق یافتہ‘‘ زبان استعمال کی جاتی ہے (خیال رکھیے‘ یافتہ لکھا ہے‘ باختہ نہیں‘ ی اور ب اور ف اور خ کا فرق خاصا نمایاں ہوتا ہے لیکن کمپیوٹر بعض اوقا ت اسے ایسی آسانی سے مٹا ڈالتا ہے جتنی آسانی سے تحریک انصاف اپنے میں شامل ہونے والے کے ماضی کو صاف کر دیتی ہے) اس کتاب کی مشہوری کو المشہوری میں بدل دیا ہے۔ اتنی زیادہ ترغیب اس کتاب کے بارے میں پیدا ہو گئی ہے کہ ہم جیسے از کار رفتہ بزرگوں کو بھی اس کے مطالعے کی طلب ہو رہی ہے۔ ٹویٹروں میں بہت کچھ اشارے دینے کے بعد آگے لکھا ہوتا ہے کہ سب جھوٹ ہے اور ریحام خان‘ تم ایک بار پاکستان آئو تمیں دیکھ لیں گے۔

ارے بھائی‘ پہلے کتاب کو آنے دو اسے دیکھ لو۔ رہی ریحام کو دیکھنے کی بات تو اس کے پاکستان آنے کا انتظار کیوں؟

٭٭٭٭٭

سنجرانی ماڈل جتنے بھی سکرپٹ لکھتا ہے‘ جلد بازی میں لکھتا ہے۔ جیسے ماڈل کی وہ قرار داد کہ الیکشن اگست میں کرائے جائیں کیونکہ جولائی میں گرمی پڑتی ہے۔ یعنی اگست میں سردی پڑتی ہے یا پھر اسی سکرپٹ میں کہا گیا کہ الیکشن اگست میں کرائے جائیں کیونکہ جولائی میں حج پڑتا ہے 

پچھلے دنوں ایک تصویر عمران خان کی چلی کہ افطار پارٹی میں وقت سے پہلے ہی پانی پی رہے ہیں۔ پتہ نہیں جھوٹ تھی کہ سچ لیکن سنجرانی ماڈل نے اس کا جواب دینا ضروری سمجھا۔ ایک تصویر میں مریم نواز کو دکھایا گیا کہ ان کے دس بجے (دیوار گیر گھڑی کے مطابق) افطار کر رہی ہیں۔ ساتھ میں کچھ گالیاں بھی رقم تھیں۔ جو اب ترکی بہ ترکی ہے نا لیکن سکرپٹ رائٹر جلد بازی میں یہ نہ دیکھ سکا کہ سب شرکاء نے جرسیاں اور کوٹ پہنے ہوئے ہیں اور مفلر گلوں میں لپیٹے ہوئے ہیں۔ سنجرانی ماڈل کو کیا وقت کی اتنی ہی کمی درپیش ہے؟

٭٭٭٭٭

نگران وزیر اعظم ناصر الملک نے کہا ہے ‘ یاد رکھیں انتخابات عین وقت پر ہوں گے۔

تیری آواز مکے اور مدینے۔ محترم نے یہ ایک طرح سے زبان دی ہے اور پھر اگر دی ہے تو سوچ سمجھ کر ہی دی ہو گی۔ یعنی یہ اندازہ لگا لیا ہو گا کہ التوائی طاقتوں کی طاقت کتنے پانی میں ہے۔

تحریک انصاف اب نیمے دروں‘ نیمے بروں نہیں رہی۔ پرویز خٹک کے خط سے بات صاف ہو گئی کہ وہ التوائی حامی ہے۔ خان صاحب نے کل ہی مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن غیر جانبدار(نیوٹرل) امپائر ہی کروائیں۔ شاید ان کے خیال میں نگران حکومت نیوٹرل نہیں ہے یا نیو ٹرل سے مراد اس انگلی سے ہے جو ان کے حق میں کھڑی ہو۔ ان کے ’’اعتراضی‘‘ بیانات اور مطالبات اشارہ دے رہے ہیں کہ بزبان خود التوا کے حق میں صف آرا ہونے والے ہیں۔ لیکن کیوں؟


انتخابات کے میدان حشر میں سبھی ان کے طرفدار نظر آتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا ایک آدھ چینل کو چھوڑ کر ان کی انتخابی کمپین کر رہا ہے سخت نگرانی خود مالکان کی طرف سے ہے کہ کہیں کوئی پروگرام ‘ 

کوئی تبصرہ ‘ کوئی خبر ایسا نہ نشر ہو جائے جس کا فائدہ نواز شریف کو ہو۔ پرنٹ میڈیا بھی تاریخ کے محتاط ترین دور سے گزر رہا ہے۔ نواز شریف کے جلسے کی خبر تلاش کرنا پڑتی ہے۔ ہانکا کار الیکٹ ایبلز کو ہانک ہانک کر تحریک انصاف میں جمع کر رہے ہیں۔ ان کے مخالفوں کی مشکیں چار رنگ سے کسی جا رہی ہیں۔ پھر بھی خان صاحب کو اندر ہی اندر خوف ہے کہ کھا ئے جا رہا ہے۔التوا کے بغیر کوئی چارہ نہیں؟

سپیکر ایاز صادق نے کہا ہے کہ التوائی طاقتیں پورا زور لگانے پر تلی ہوئی ہیں اور یہ طے کر لیا گیا ہے کہ اگر مسلم لیگ سو سیٹوں سے زیادہ پر جیتتی ہے تو پھر الیکشن نہیں ہوں گے۔ ریٹائرڈ بزرگوار چینلز پر کہہ رہے ہیں کہ چند ہفتوں کے التوا سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر چند ہفتوں کے التوا سے فرق نہیں پڑتا تو پھر التوا کی ضرورت ہی کیا ہے۔ پھر یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ وقت پر الیکشن ہونے سے بھی کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن معاملہ چند ہفتوں کا نہیں اتنے لمبے دورانیے کا ہے جس میں ’’کالا باغ‘‘ ڈیم بن جائے۔

کیا بن پائے گا؟

٭٭٭٭٭

بلاول بھٹو زرداری نے بھی الیکشن التوا کی کوششوں پر تشویش ظاہر کی ہے انہوں نے سنجرانی ماڈل کی قرار داد اور لاہور اسلام آباد‘ کوئٹہ سے جاری ہونے والے فیصلوں کی ٹائمنگ پر سوال اٹھایا ہے۔

ان کے پاپا جانی البتہ خاموش ہیں۔ لگتا ہے پتا پوت دونوں کو احساس ہو گیا ہے کہ سنجرانی ماڈل کی تعمیر میں ان سے مدد لینے کے بعد ان سے ہاتھ کر دیا گیا ہے۔ جسے وہ اپنی ’’فتح‘‘ سمجھ رہے تھے۔ وہ تو ان کے لیے پھندا نہیں بن گیا ہے۔

اس طرح کے کاموں میں جس طرح کے پاپا جانی نے کئے‘ اس طرح کے ہاتھ ہوا ہی کرتے ہیں منے میاں!