شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن اور نگران وفاقی حکومت کوپنجاب کیلئے 106 غیر جانبدار اعلی افسر تعینات کرنے کا چیلنج درپیش ہے ۔خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ کے علاوہ آزاد کشمیرمیں تعینات افسروں کے ناموں پر غور جبکہ پنجاب ہی میں کھڈے لائن لگائے گئے بعض افسروں پر بھی اعتماد کیا جا سکتا ہے ۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق 25جولائی 2018کو متوقع طور پر ہونے والے عام انتخابات میں شفافیت کا عنصر غالب رکھنے کیلئے سابق حکمران جماعت کے دس سالہ دور حکمرانی کے حامل صوبہ پنجاب کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے ۔ گذشتہ سالوں کے دوران جہاں متعدد ایسے افسرجنہوں نے قانون کی حکمرانی کیلئے بات کرنے اور قواعد کے طور پر دفتری امور نمٹانے کی کوشش کی ، ان میں سے بعض کو یا تو کھڈے لائن لگا دیا گیا یا ان کی خدمات صوبہ سے وفاق کے سپرد کر دی گئیں ۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری انرجی کے طور پر جہانزیب خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کے طور پر میجر (ر) اعظم سلیمان اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری مواصلات کی اسامی بنا کر میاں مشتاق کو ایڈجسٹ کیا گیا ۔ ذرائع نے بتا یا کہ الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایسے افسروں کی تعیناتی کی خواہاں ہے جن پر بعد ازاں کوئی انگلی نہ اٹھا سکے ۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ افسروں کی پنجاب میں ضرورت ہے ۔ چیف سیکرٹری پنجاب کے طور پر اکبر درانی اور آئی جی پنجاب پولیس کے طور پر کلیم امام کی تعیناتی کے بعد پنجاب میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری مواصلات و تعمیرات، ایڈیشنل چیف سیکرٹری انرجی/ چیئر مین پی اینڈ ڈی کے علاوہ 106افسروں کی ضرورت ہے ، جن میں سے 56کو انتظامی سیکرٹریز، سپیشل سیکرٹریز، ڈائریکٹر جنرل کے عہدوں پر تعینات کیا جاسکے جبکہ پنجاب کے 9ڈویژنل کمشنرز، 36ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتی بھی ممکن ہو سکے ۔ذرائع نے دعوی کیا کہ اس ضمن میں ایسے سرکاری افسر جن کا ڈومیسائل پنجاب سے ہے مگر وہ گذشتہ دس سال سے پنجاب میں تعینات نہیں رہے ، ابتدائی طور پراسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں فہرستوں کی تیاری کی جا رہی ہے اور اگر اتنی بڑی تعداد میں افسر دستیاب نہ ہوئے تو موجودہ افسروں میں سے بعض کو Continue کرانے کی پالیسی بھی اپنائی جا سکتی ہے ۔