روزنامہ 92نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کئی برس بعد پہلی بار بول پڑی ہیں اور انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں جیل میں زہر دینے اور جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر عافیہ کو اس حد تک ہراساں کیا جا رہا ہے کہ جیل عملے کے ایک رکن نے ان کی اپنی والدہ کے لیے تیار کردہ شال پر پیشاب کر دیا‘ ان کا کہنا تھا کہ جیل میں عبادت کے لیے پاک صاف جگہ میسر نہیں۔ میری والدہ کو میرے ساتھ ملاقات کے لیے نہ لایا جائے کیونکہ ان کے لیے مشکلات ہونگی۔ سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے بارے میں ڈاکٹر عافیہ نے کہا کہ وہ میری مدد نہیں کرنا چاہتے تھے حکومت نے انہیںمیرے کیس کے لیے جو 20لاکھ ڈالر دیے تھے وہ خورد برد کر دیئے گئے ان کی تحقیقات کی جائیں،46سالہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جنہیں امریکی عدالت نے 86سال قید کی سزا سنائی تھی‘ گزشتہ 8سال سے امریکی جیل میں ہیں لیکن حکومتی اور سفارتی سطح پر ان کی رہائی کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی اور نا ہی جیل میں ان کے حالات سے پاکستانی عوام کو مکمل طور پرآگاہ کیا گیا ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ ان کے بارے میں کچھ معلومات پاکستانی عوام تک پہنچی ہیں انہی معلومات کی بنیاد پر حکومت کو سفارتی سطح پر ڈاکٹر عافیہ کی جیل میں حالت زار کو بہتر بنانے اور ان کی رہائی کے لیے بھر پور اور سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ پاکستان میں ہر طبقہ فکر کی یہ خواہش ہے کہ ڈاکٹر عافیہ جلدازجلد امریکی قید سے رہا ہو کر اپنے وطن کی آزاد فضائوں میں واپس لوٹ آئیں اور ملکی تعمیر وترقی میں اپنے حصے کا بھرپور کردار ادا کریں حکومت کا فرض ہے کہ وہ دیار غیر میں قید وطن کی اس بیٹی کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے ۔