اسلام آباد،کابل(نیوز رپورٹر، اے پی پی) بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ افغانستان کے دورہ کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے دورہ کے دوران افغان صدر اشرف غنی سے وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد ون آن ون ملاقات کی۔ انہوں نے افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداﷲ عبداﷲ اور کمانڈر ریزولیوٹ سپورٹ مشن جنرل جان نکلسن سے بھی ملاقاتیں کیں۔ چیف آف آرمی سٹاف نے رمضان المبارک اور عیدالفطر کے احترام میں حالیہ امن اقدامات پر افغان حکام کو مبارکباد دی اور خواہش ظاہر کی کہ پائیدار امن کے قیام کے لئے ان اقدامات پر مزید عمل جاری رہنا چاہیے ۔ انہوں نے افغانستان میں جاری مفاہمتی عمل، داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے کی روک تھام ، دہشتگردی میں ملوث عناصر کی سرحد پار آمدورفت، سمگلنگ، منشیات کی سمگلنگ سمیت وسیع تناظر میں تبادلہ خیال کیا۔ بری فوج کے سربراہ نے مزید کہا متفقہ امن و استحکام کے لئے افغانستان پاکستان ایکشن پلان سے دونوں ممالک کے درمیان مزید تعاون اور رابطے بڑھیں گے ۔ سرحد پر باڑ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا اس کا مقصد دہشت گردوں کی نگرانی کرنی ہے اور اس سے دونوں ممالک کے لوگوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ افغان صدر نے بری فوج کے سربراہ کے دورے اور امن و استحکام کے لئے کئے گئے حالیہ اقدامات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ صدر نے علاقائی ترقی، عارضی جنگ بندی میں توسیع اور مفاہمتی عمل کی صورتحال سے متعلق اپنے وژن سے آگاہ کیا، افغان صدر نے امن و استحکام کے لئے افغانستان پاکستان ایکشن پلان کے حوالے سے آرمی چیف کو ان کے دورے پر شکریہ ادا کیا۔ فریقین نے اتفاق کیا کہ باہمی اقدامات انتہائی اہم ہیں چونکہ ان اہداف کے حصول کے لئے اس کا تسلسل ضروری ہے ۔ بری فوج کے سربراہ نے کمانڈر ریزولیوٹ سپورٹ مشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکی اور نیٹو افواج کامیاب ہوں اور پرامن و مستحکم افغانستان چھوڑ کر جائیں۔ اس سے پہلے صدارتی محل آمد پر بری فوج کے سربراہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ سیکرٹری خارجہ ‘ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی‘ افغانستان میں پاکستان کے سفیر اور اعلیٰ حکام بھی چیف آف آرمی سٹاف کے ہمراہ تھے جبکہ افغان وفد میں افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر اور سینئر وزرا شامل تھے ۔ قبل ازیں جنرل باجوہ کی کابل روانگی سے میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا پاکستان افغانستان کی اتحادی حکومت، امریکہ اور نیٹو فورسز کی طرف سے ملک میں قیامِ امن کی کوششوں کی کامیابی کا خواہاں ہے ،پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات اتار چڑھاو کا شکار رہتے ہیں تاہم دو طرفہ رابطوں میں حالیہ مہینوں میں بہتری آئی ہے ۔