عالمی بنک نے بھارت میں غربت کی رپورٹ جاری کی ہے۔ بتایا ہے کہ ملک میں خط غربت سے نیچے رہنے والے افراد کی تعداد 27کروڑ ہے یعنی کل آبادی کا کم و بیش 20فیصد۔ زیادہ تر غریب شیڈولڈ کاسٹ یعنی اچھوتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کا ذکر نہیں ہے لیکن بالیقین ان کی بڑی تعداد بھی غریب ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تمام غریب صوبے ہندی سلہٹ کے ہیں یعنی یو پی‘ اڑیسہ ‘ بہار ‘ راجستھان ‘ مدھیہ پردیش اور جھاڑ کھنڈ ۔62فیصد غریب انہی صوبوں میں رہتے ہیں۔ ہندی سلہٹ کے مالدار صوبوں میں ہما چل پردیش اور ہریانہ شامل ہیں۔ ہندی سلہٹ ہی کا ایک اور صوبہ چھتیس گڑھ ہے جو مالدار تو نہیں ہے لیکن مذکورہ صوبوں کی طرح غریب بھی نہیں۔ مجموعی طور پر یہ صورت حال بھارت کے حوالے سے حوصلہ افزا ہے۔ چند عشرے پہلے تک بھارت کی 60فیصد غریب ترین تھی‘ اب یہ شرح دو تہائی کم ہو گئی۔ گویا ہر پانچ میں سے چار افراد غریب نہیں رہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال پر از حسرت ہے جہاں غربت کی شرح پچھلے عشروں میں بڑھ گئی۔ پاکستان کا معاملہ اس بڑھیا کی طرح ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں آیا ہے جو ہر رات سوت کات کر دن کو ادھیڑ دیتی تھی۔ جب بھی کسی سیاسی حکومت نے معیشت کو سہارا دیا‘ عدم استحکام پیدا کر کے اسے ادھیڑ کر رکھ دیا گیا۔ پچھلے پانچ برسوں میں معیشت کی مثبت ترقی کا اعتراف تمام عالمی اداروں نے لیکن ڈیڑھ سال سے جاری بد ترین اور مصنوعی عدم استحکام کا جو بازار گرم ہوا‘ اس نے بڑی حد تک معاشی پیشرفت کو صاف کر کے رکھ دیا ہے۔ ٭٭٭٭٭ پاکستان سے غربت ختم کرنے کے لیے جمہوری عمل اور استحکام کا تسلسل ضروری ہے اور ساتھ ہی اتنا ضروری امن بھی ہے۔ امن بھارت کے لیے بھی ضروری ہے لیکن وہاں سیاسی استحکام اور جمہوریت کی بے خوف مداخلت ترقی نے اسے یہ ثمر دیا ہے کہ غربت میں انقلابی کمی ہوئی ہے۔ اب بھی بھارت میں کچی بستیاں جنہیں وہ جھونپڑ پٹیاں کہتے ہیں‘ ملک کے چہرے پر ایک داغ ہے لیکن یہ داغ مدھم ہوتا جا رہا ہے۔ پچھلے دنوں دنیا کی سب سے بڑی کچی بستی دھاراوی(ممبئی) پر ایک ڈاکو منٹری دیکھی۔ دو باتیں نمایاں تھیں ایک تو یہ کہ یہ اندر سے ترقی کر رہی ہے۔ پختہ مکان‘ پختہ گلیاں بنا رہی ہیں۔ جتنی ممکن ہو شہری سہولتیں فراہم ہو رہی ہیں اور دوسرے یہ کہ اس بستی کے لاکھوں افراد اپنی محنت اور ذہانت سے اچھی ملازمتیں حاصل کر کے یا اپنے کاروبار کر کے جلد ہی اس بستی سے نکل جاتے ہیں اور بہتر آبادی میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ دھرادی اتنی بڑی بستی ہے کہ ہمارے ہاں درجہ دوئم کے کسی بڑے شہر کے برابر ہے۔ ایک مربع میل سے بھی کم رقبے کی اس کالونی میں دس لاکھ افراد مقیم ہیں۔ بی جے پی کی حکومت نے کاروبار‘ تجارت اور سائنسی ترقی کی جو مہم شروع کی ہے اس کے نتیجے میں توقع ہے کہ اگلے چند برسوں میں بھارت میں غربت مزید کم ہو گی اور شاید کوئی بھی ہندو غریب نہ رہے۔ مسلمان اور دلتوں کی بچھڑی ہوئی ذاتوں کے لوگ البتہ چونکہ منظم اور اجتماعی طور پر غربت سے نکلنے نہیں دیے جا رہے‘ چنانچہ ان کی اکثریت بدستور غریب رہے گی لیکن امکانات یہ بھی ہیں کہ ان میں سے بھی چند فیصد بہر طور نئی صورتحال میں اپنے لیے آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کر لیں گے۔ ایک حکمت عملی غریب ترین علاقوں کے مسلمانوں نے یہ اختیار کی ہے کہ وہ اپنی اپنی جنم بھومیوں سے نکل کر ان علاقوں کی طرف جا رہے ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے جہاں ان کے کاروبار کو ہندو بلوائیوں کی طرف سے تباہ اور نذر آتش کرنے کے خطرات کم ہو جائیں گے اور انہیں آگے بڑھنے کی طرف توجہ دینے کا موقع مل سکے گا۔ ٭٭٭٭٭ امن پاکستان کی زیادہ ضرورت ہے اور پاکستان میں کوئی بھی اس کے خلاف بات نہیں کرتا۔ لیکن یہ زبانی حد تک ہے عملی صورتحال یہ ہے کہ امن کے مخالف اپنی جگہ بدستور سرگرم ہیں۔ ان کا موقف یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر امن کے لیے ممکن ہے۔ لیکن کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے تمام مواقعات جو قدرت نے بار بار پاکستان کو دیے ہم نے کمال فراخدلی سے ضائع کر دیے لیکن یہ بات ماننے کی جرات کوئی نہیں کرتا۔ یہ بہت ہی کڑوا سچ ہے کہ نہ صرف یہ کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے مواقع ہم نے ضائع کر دیے بلکہ اس سوت ادھیڑنے کے عمل میں جو محنت ہم نے کی۔ اس کے ’’ثمرات‘‘ کے طور پر ہمیں عالمی تنہائی کا بھی سامنا ہے۔ یہ اصحاب خود یہ بتا دیں۔ مسئلہ کشمیر پر پوری دنیا میں کوئی ایک ملک بھی بشمول چین و سعودی عرب‘ ہمارا ساتھ کیوں نہیں دے رہا۔ برصغیر میں امن کے راستے میں رکاوٹ بھلے سے بھارت ہو‘ دنیا اس کے بالکل برعکس سمجھتی ہے۔ ممکن ہے ہم سمجھتے ہوں لیکن دنیا کو کیسے منائیں؟ ٭٭٭٭٭ کشمیر کا مسئلہ اپنی جگہ رہے‘ امن پھر بھی قائم ہو سکتا ہے لیکن جو لوگ بظاہر امن کی بات کرتے لیکن دل سے مخالف ہیں ان کی ایک حکمت عملی یہ بھی ہے کہ جو بھی زمینی حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے امن کی بات کرے‘ اسے غدار اور بھارت کا ایجنٹ قرار دے دو۔ جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کے دور میں امن کی فعال مخالف تھی۔ واجپائی کی لاہور آمد پر ایک تاریخی دروازہ امن اور ترقی کا کھلتا ہوا نظر آیا جو مقتدر حلقوں کو قبول نہیں تھا۔ انہی کے زیر اثر قاضی حسین احمد نے امن کے خلاف ایک پرتشدد تحریک چلائی۔ نہ بھی چلائی تو بھی اس عمل کو ڈی ریل ہونا تھا لیکن جماعت نے مفت کی بدنامی مول لی۔ اب جماعت کا موقف وہ نہیں ہے خاصا معقول ہو گیا ہے لیکن اس کے اندر قاضی صاحب کا ہم خیال طبقہ اب بھی موجود ہے۔ پچھلے ہفتے اس کے ترجمان جریدے ’’جسارت‘‘ کے ادارے سے چھپنے والے جریدے فرائیڈے سپیشل کے ایک مضمون میں محترمہ زاہدہ حنا اور مسعود اشعر کو غدار اور بھارتی ایجنٹ قرار دیا گیا اور اس الزام کی تائید میں ان کی دو تحریروں کا حوالہ دیا گیا۔ محترمہ زاہدہ حنا نے لکھا تھا کہ جب جنگ ہوتی ہے تو دونوں طرف سے غیر متعلق شہری آبادی ہلاک ہوتی ہے اور مسعود اشعر کی تحریر کچھ یوں تھی کہ دنیا کشمیر اور امن پر ہمارے بیانیے کی حامی نہیں تو ہمیں بھی اس پر غور کرنا چاہیے کہ ہماری طرف سے کیا غلطی ہوئی ہے۔ زاہدہ حنا ترقی پسند دانشور ہیں لیکن ان کی حب الوطنی پر آج سے پہلے کوئی سوالیہ نشان کسی نے کھڑا نہیں کیا اور مسعود اشعر تو قطعی غیر سیاسی سوچ رکھنے والے ادیب ہیں۔ یہ دونوں بھارت کے ایجنٹ ہیں تو ہمیں پھر ایک نئی فہرست بنانے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ چند سو نہیں تو چند ہزار نام ہی شامل ہو سکیں گے۔ جماعت اسلامی کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لیے آیا کہ یہ تحریر اس کے حامی جریدے میں چھپی ہے۔ ورنہ مجموعی طور وہ اپنے ماضی کے طرز عمل اور سوچ سے رجوع کر چکی ہے اور اس کی جگہ اب بہت سے دوسروں نے لے لی ہے۔ غدار اور بھارتی ایجنٹ ہونے کے الزامات کی مہم آسمانوں کو چھو رہی ہے‘ ایسے میں یہ سوچنے والے اب نظر نہیں آتے کہ دونوں سرحدوں پر کشیدگی براہ راست غربت اور محرومیوں میں اضافے کی براہ راست وجہ ہے اور اس کا علاج ڈھونڈنے میں تاخیر خطرناک سے خطرناک تر ہوتی جارہی ہے۔