ریحام خان کی آنے والی کتاب کی گرد ابھی تک فضا میں ہے۔ ہم ویسے تو کتاب دوست قوم نہیں لیکن ایسی کتاب جو اپنے متنازع مواد کی بدولت خبروں میں رہے اس کو پڑھنے کی خواہش ضرور رکھتے ہیں۔ گزشتہ دو تین دنوں میں میں نے ایسے ایسے لوگوں سے سنا کہ ریحام کی کتاب پڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ جن کا ویسے کتب بینی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ یعنی کتاب پڑھنے کی خواہش کے پیچھے صرف چسکا لینے کی خواہش کا اظہار ہے۔ خیر رمضان المبارک کا آغاز ہوا تو میں نے اپنی ذخیرہ شدہ کتابوںمیں چند ایسی کتابیں الگ کر لیں جو تصوف‘ روحانیت اور دین کے حوالے سے تھیں کہ رمضان المبارک میں جب وقت ملے گا تو ان کتابوں کا مطالعہ کروں گی۔ ایسی ہی ایک کتاب کے مندرجات میں آپ سے شیئر کرنا چاہتی ہوں جس نے مجھے واقعی متاثر کیا۔ کتاب کا نام ہے ’’روحانی قوت اور دانش انسانی‘‘ اس کے مصنف ہیں قمر اقبال صوفی۔ جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ہالینڈ میں مقیم ہیں۔ تقریباً ایک سال قبل یہ کتاب میں نے دیگر کئی کتابوں کے ساتھ خریدی تھی اور اس وقت اس کا سرسری سا مطالعہ کر کے رکھ دیا تھا۔ اب رمضان المبارک میں موقع ملا تو کتاب کو تفصیل سے پڑھا۔ انسانی زندگی سے متعلق تقریباً 92موضوعات پر مختصر تحریریں تجربات اور مطالعے کا نچوڑ ہیں۔ موضوعات پر نگاہ ڈالیں کتنے دلچسپ ہیں اور ایک عام قاری کو بھی یہ اپنی زندگی سے ریلوینٹ محسوس ہوتے ہیں مثلاً خوش رہنا فرض ہے‘ تقدیر یا محنت‘ بچپن کی باتوں اور چیزوں کا اثر‘ مشکلات میں کیسی سوچ صحیح ہے ہر بیماری کی وجہ سٹریس ہے اچھائی اور برائی دنیا میں۔ عظیم لیڈر کی نشانیاں ہر خواہش اور دعا کی قبولیت میں رکاوٹ کیا۔ اپنی کمزوریاں معلوم کریں روحانی سفر میں مختلف مراحل شکر گزاری کیوں لازم ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور معاشی مشکلات کا حل ۔ خوشی اور سکون کہاں ہے وغیرہ اسی طرح کے 92موضوعات پر مصنف نے لکھا ہے۔ موضوعات سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ روحانیت کے موضوع پر باقی کتب کی طرح دقیق مواد پیش نہیں کرتی۔ بلکہ عام انسان کی رہنمائی کرتی ہے کہ وہ اپنے اندر کی روحانیت کو کیسے جگا سکتا ہے۔ قمر اقبال صوفی روایتی پیر اور صوفی نہیں ہیں۔1977ء سے وہ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور بقول ان کے 1980ء سے میرا روحانیت کی طرف جھکائو ہوا اور میں اس دوران پاکستانی اور مغربی معاشرے اور کئی دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں روحانی لوگوں سے ملا ہوں۔ ان کی سوچ اور نظریے کو سمجھنے اور ماننے کی کوشش کی۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے ذہن میں جو سوالات شور مچاتے تھے ان کا جواب مجھے قرآن سے ملا اور اقبال کی شاعری کو سمجھا تو بہت سے سوالوں کے جواب وہاں سے ملے۔مجھے قمر اقبال صوفی کے روحانیت کے حوالے سے نظریات اس لیے زیادہ دلچسپ لگے کہ اب تک ہم سمجھتے تھے کہ روحانیت کا حصول ہر شخص کے بس کی بات نہیں یا پھر یہ کہ روحانیت کے راستے کا مسافر ہر شخص نہیں ہو سکتا جبکہ قمر اقبال صوفی نے روحانیت کے حوالے سے بہت ہی سادہ اور عام فہم نظریہ دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر انسانی جسم کے اندر اللہ کا عطا کردہ نور موجود ہے جو کہ اس نے انسان کو اس دنیا میں اپنے نائب کے طور پر عنایت کیا ہے۔ عبادات ‘ نوافل اور ذکر و اذکار سے انسان کے اندر یہ نوری وجود جاگ جاتا ہے۔ یہ ایک طرح سے خدا پر کامل یقین کی کیفیت ہے یہی انسان کے اندر کی روحانیت ہے جتنا اس کا یقین کامل ہوتا جائے گا۔ اس کا خالق سے رابطہ اتنا ہی مضبوط ہوتا جائے گا زیادہ روحانیت زیادہ ذہنی توانائی اور زیادہ کنسٹریشن بھی دیتی ہے۔ اس کے مختلف درجے ہیں ایک عام انسان بھی روحانیت کے ابتدائی درجے حاصل کر سکتا ہے۔ اقبال ہی دراصل اپنی شاعری میں ایسے ہی روحانی طور پر بیدار۔ یقین رکھنے والے انسان کا تصور پیش کیا ہے۔ ؎ جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہے یقین پیدا تو کر لیتا ہے یہ پھر بال و پر روح الامیں پیدا اس کتاب کو پڑھ کر مجھے جو بات سمجھ میں آئی ہے وہ انسان کا اپنے رب پر جتنا یقین پختہ ہو گا تو اس کا نوری وجود اتنا ہی بیدار ہو گا اور وہ روحانی طور پر اتنا ہی مضبوط انسان ہو گا۔ ہمارے ذہن میں یہی تصور ہے کہ روحانیت کے راستے کا مسافر دنیا دار نہیں ہوتا جبکہ ہالینڈ میں رہنے والا یہ صوفی بتاتا ہے کہ نوری جسم کے جاگنے کے بعد انسان کی زندگی بڑی آسان ہو جاتی ہے وہ خوشیاں سکون‘ مالی کامیابیاں‘ ذہانت اور قابل رشک صحت حاصل کر سکتا ہے۔ اپنے خالق پر اور پختہ یقین ہو تو ایسی چیزیں بھی ہونے لگتی ہیں جن کے دنیاوی طور پر اسباب موجود نہ ہوں۔ خالق پر یقین ہو تو دنیا کی جمع تفریق کے برعکس بھی کام ہونے لگتے ہیں۔ اس کی ایک مثال میں نے خود مشاہدہ کی قریباً ایک سال قبل میری ایک قریبی دوست کو کینسر کا مرض لاحق ہوا۔ ظاہر ہے اس مرض کے ساتھ جو خوف اور موت کا تصور وابستہ ہے وہ ایک بار تو پیروں کے نیچے سے زمین نکال دیتا ہے۔ میری وہ دوست ماشاء اللہ سے عبادت گزار۔ ذکر و اذکار کرنے والی اور اس بات پر یقین رکھنے والی ہے کہ رب ستر مائوں سے زیادہ محبت کرنے والا ہے وہ میرے ساتھ اچھا ہی کرے گا۔ اس یقین کامل کے ساتھ علاج کے مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی کیمو تھراپی کے مرحلے پر پہنچی تو ڈاکٹرز نے اسے بتایا اور ادھر ادھر سے ہی اس نے سنا ہوا تھا کہ یہ بڑا تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔ یہاں پر اس کے اندر کی روحانیت اور یقین نے اس کے لیے ایک حفاظتی شیلڈ کا کام کیا اور حیرت انگیز طور پر کیمو تھراپی کا مرحلہ اس کے لیے اتنا تکلیف دہ ہوا ہی نہیں جیسا عام مریضوں کے لیے ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز بھی اس بات پر حیران تھے اور وہ کہتی ہے دوسرے مریضوں سے جب وہ سنتی کہ کیمو کا مرحلہ ان کے لیے کس قدر کرب انگیز تھا تو اسے اپنے ذاتی تجربے پر حیرت ہوتی مگر یہ سب اللہ سے جڑے اور یقین کامل کے کرشمے ہیں۔ قمر اقبال صوفی لکھتے ہیں کہ ہر انسان کے اندر دو کیفیات ہوتی ہیں۔ ونر (Winner)کی کیفیت اور لوزر(Loser)کی کیفیت ۔ ونر کی کیفیت میں کیا گیا کام بہترین نتائج دیتا ہے اور لوزر کی کیفیت میں کیا گیا کام غلط نتائج دیتا ہے۔ ہائی انرجی کی حالت ہی انسان کی وہ کیفیت ہے جس میں وہ فاتح حالت میں ہوتا ہے سب کو ہی کوشش کرنی چاہیے کہ ان کے اہم کام‘ اہم فیصلے‘ کاروباری ڈیل۔ وغیرہ ہائی انرجی کے وقت پر کریں۔ قمر اقبال صوفی لکھتے ہیں انسان پر خوش رہنا فرض کر دیا گیا ہے۔ اس لیے اسے خود کو ناخوش رکھنے کا کوئی حق نہیں۔ ناخوش رہنا۔ اللہ کی ناشکری ہے ہر انسان کو یہ سیکھنا چاہیے کہ سٹریس سے کیسے نمٹنا چاہیے۔ اس کو کیسے قابو کریں روحانی طور پر کمزور انسان چھوٹے چھوٹے مسائل پر سٹریس لیتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ سٹریس بڑی اور پیچیدہ بیماریوں کی وجہ بن جاتا ہے اللہ کا ذکر پوری توجہ سے کرنا ایک ایسی سرگرمی ہے جو سٹریس اور ذہنی دبائو کے لیے ایک دوا کی حیثیت رکھتی ہے۔ قارئین ایک بنیادی بات جو مجھے سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ روحانیت کی ضد مادیت پرستی ہے اور یہ مادیت پرستی ہی دراصل دنیا داری ہے۔ اسی لیے ہم جیسے نسان یہ سوچتے ہیں کہ ہم تو دنیا دار انسان ہیں ہمیں روزی روٹی کمانی ہے بچے پالنے ہیں۔ ہم دنیا سے کٹ کے نہیں رہ سکتے اس لیے روحانیت ہمارا راستہ نہیں ہے۔ یہ خیال غلط ہے اور اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ دین ہمیں زندگی کے سارے معاملات میں رہنمائی کرتا ہے کاروباری معاملات‘ عائلی زندگی‘ معاشی معاملات ‘ اخلاقیات سماجی مسائل اس لیے دنیا داری اور مادیت پرستی دونوں ایک چیز نہیں ہیں مادیت پرستی اللہ کے حکم سے دوری ہے۔ جب انسان کا یقین اپنے رب پر کمزور ہوتا ہے تو وہ مادیت پرستی کی طرف مائل ہو جاتا ہے اس کے اندر روحانیت کمزور پڑنے لگتی ہے۔ دنیا کے ہر مذہب میں روحانیت کا تصور اسی خیال سے جڑا ہوا ہے کہ انسان ایک سپریم پاور پر کامل یقین رکھے۔ اسلام میں اس کا واضح تصور ہے کہ سپریم پاور صرف اور صرف اس کائنات کا خالق اور مالک ہے۔