ایک روز پہلے خان بہادر فرما رہے تھے کہ وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ کے محتاج ہیں نہ امیدوار لیکن گزشتہ روز جب بظاہر طے ہو گیا کہ انہیں مسلم لیگ کا ٹکٹ نہیں ملے گا تو سخت ناراض ہو گئے۔ ایسی سخت ناراضگی کہ بس خدا کی پناہ‘ نہ جانے کیا کیا کچھ اس غصے میں فرما گئے۔ بعد میں وضاحت کی کہ جو کچھ ٹی وی پر چلا ہے‘ اس میں کئی باتیں میں نے نہیں کیں۔ یہ نہیں بتایا کہ کون کون سی باتیں نہیں کیں۔ لوگوں پر چھوڑ دیا کہ وہ خود فیصلہ کر لیں‘ کیا کہا ہے کیا نہیں۔ فرمایا عورت راج قائم کر دیا گیا ہے اور یہ کہ مسلم لیگ میں سو خرابیاں ہیں اس کے برعکس تحریک انصاف میں محض دس ۔ گویا تحریک انصاف مسلم لیگ سے زیادہ نہیں تو دس گنا بہتر جماعت ہے۔ یہ انتباہ بھی جاری فرمایا کہ منہ کھول دیا تو نواز شریف کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ مسلم لیگ کی بہرحال زیادتی ہے کہ ایسے خان بہادر کو ٹکٹ نہیں دیا جن کا خاندان 1857ء کے بعد سے مسلسل خان بہادر چلا آ رہا ہے۔ جس کی بہادری‘ سورمائی اور حب الوطنی کی گواہی جو کوئی بھی چاہے لندن کے انڈیا آفس کے آرکائیو میں جا کر ملاحظہ فرما سکتا ہے۔ یہ تو خان بہادر کا بڑا پن ہے کہ انہوں نے محض وضع داری کی خاطر زندگی کے اتنے قیمتی برس‘ کم سے کم 22برس تو ضرور‘ ایسی جماعت میں گزار دیے جو تحریک انصاف سے دس گنا زیادہ خراب اور بری جماعت ہے۔ یہ محض ’’قومی مفاد‘‘ کا پاس تھا کہ وہ بائیس برس تک ایسی جماعت میں نہیں گئے جو بقول ان کے مسلم لیگ سے دس گنا بہتر جماعت ہے اور اگر انہوں نے فرمایا ہے کہ انہوں نے منہ کھول دیا تو نواز شریف کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے تو مان لینا چاہیے کہ نواز شریف میں پانچوں عیب شرعی بدرجہ اتم موجود ہیں اور بائبل کے حساب سے سیون ڈیڈلی سنز کا مرتکب بھی ان سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ خان بہادر کے اس بڑے پن کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے اتنے بڑے غلط کار اور گناہ گار کے خلاف اپنا منہ بند رکھا۔ یہ بدظنی تو بالکل نہیں کی جا سکتی کہ منہ بند رکھنے کی یہ عظمت انہوں نے ٹکٹ ملنے کی موہوم آس کی خاطر اختیار کی۔ اب جبکہ یہ امید ٹوٹ گئی ہے تو کیا توقع رکھی جائے؟ کیا وہ بھی ریحام خاں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کوئی کتاب لکھنے کی خدمت سرزد فرمائیں گے؟ دیباچہ تو انہوں نے جاری فرما ہی دیا ہے۔ ٭٭٭٭٭ خان بہادر ناراض تو اب ہوئے ہیں اداسی ان کی چار برس پرانی ہے۔ البتہ! چار برس پہلے ایک کہانی عام ہوئی تھی۔ دھرنوں کے دوران ایک جانباز جتھے نے وزیر اعظم ہائوس پر حملہ کرنا تھا اور پروگرام یہ تھا کہ اس یلغار کے دوران نواز شریف کو مرحوم و مغفور کر دیا جائے۔ خان بہادر جتھے کی روانگی کی خبر سنتے ہی’’اعتکاف‘‘ بیٹھ گئے تھے یعنی ویٹنگ روم میں بطور ویٹنگ پرائم منسٹر تشریف فرما ہو گئے تھے۔ پھر پتہ نہیں پروگرام کیسے تبدیل ہوا۔ جہادی جتھے کا رخ پی ٹی وی کی طرف ہو گیا اور خان بہادر کو اعتکاف توڑنا پڑا۔ آس امید ایسی ٹوٹی کہ پھر 2017ء میں دوبارہ پیدا ہوئی‘ جب آخری دھرنا کے خلاف لاک ڈائون شروع ہونا تھا لیکن اس کا رخ بھی بدل گیا۔ خان بہادر کا ان دونوں دھرنوں میں کردار عظیم سہولت کار یا دوسرے لفظوں میں کہیے کہ خاموش مجاہد کا تھا لیکن ثمرات برآمد تو ہوئے پر ان کا غنچہ شوق کھلنے کے آثار بدستور ناپید ہیں۔ اب وہ کیا کریں گے سنا ہے ’’آزاد‘‘ امیدوار کے طور پر الیکشن لڑیں گے۔ دس بیس اور بھی آزاد جیت گئے تو اس آزاد جتھے کی سربراہی کریں گے اور ’’ہنگ‘‘پارلیمنٹ میں قسمت آزمائی کریں گے۔ ڈگریا بہت اونچی نیچی ہے سنبھل کر چلیے گا خان بہادر کہیں غنچہ شوق کے بجائے کوئی اور ہی گل نہ کھل جائے۔ ٭٭٭٭٭ فیصل آباد سے تحریک انصاف کے مایوس رہ جانے والے امیدواروں نے پریس کانفرنس کی اور یوں شکوہ سرا ہوئے کہ دھرنوں میں سارا کھانا ہم نے کھلایا‘ ساری مرغیاں ہم نے خریدیں اور جب اس سرمایہ کاری کا پھل کھانے کا وقت آیا تو پھل یعنی ٹکٹ کسی اور مل گیا۔ گویا ساری سرمایہ کاری پھل کھانے کے لیے تھی اور یہ بات ساری جماعتوں کے لیے صحیح ہے۔ قومی خدمت اور امانت کا تصور تو لاشعور میں بھی نہیں رہا ہے۔ ہر کوئی پھل کھانا چاہتا ہے سرمایہ کاری کی واپسی کئی گنا سود کے ساتھ وصول کرنا چاہتا ہے۔ اور معاشرہ بھی اس کا سہولت کار ہے۔ کوئی امیدوار اگر اقتدار اور اختیار کو ہذا اور عوام کی امانت سمجھنے والا الیکشن میں کھڑا ہو جائے تو اسے ووٹ دینے والا کوئی نہیں ملتا ہے۔ الیکشن وہی لڑ سکتا ہے جو کروڑوں کا سرمایہ لگا سکے۔ غریب آدمی کا یہ میدان ہی نہیں ایک مثال غریب لوگوں کو کھڑا کرنے کی جماعت اسلامی نے قائم کی اور منہ کی کھائی دوسری مثال متحدہ (جب وہ مہاجر قومی موومنٹ تھی) نے کی اور کامیاب بھی رہی۔ درجنوں غریب اور لوئر مڈل کلاس کے لوگ ایوانوں میں پہنچائے لیکن پھر نتیجہ کیا نکلا؟ سارے کے سارے ارب پتی ہو گئے۔ ہر کہ درکان نمک رفت‘ نمک بود۔ اور اب تو بات اور بھی آگے نکل گئی۔ اب الیکشن جیتنے کے لیے کروڑوں روپے ہی نہیں چاہئیں سر پر دیددہ نادیدہ قوتوں کا ہاتھ بھی چاہیے۔ تحریک انصاف یہی کر رہی ہے لیکن سنا ہے اتنے سارے الیکٹ ایبلز ملا کر دست شفقت کی بے پناہ پر شفقت شفافیت کے باوجود صورتحال بدستور پہلے جیسی ہے۔ سنا ہے ایک آپشن پرغور ہو رہا ہے کہ الیکشن سے ایک رات ہی ڈبوں میں بیس بیس پچیس پچیس ہزار ووٹ پھٹے لگا کر ڈال دیے جائیں۔ ٭٭٭٭٭ تحریک انصاف کے مایوس کارکنوں کا احتجاج بنی گالہ میں بھی ہوا جو اب ختم ہو گیا ہے لیکن اس احتجاج کے دوران انوکھے نظارے بھی دیکھنے کو ملے۔جو ٹی وی پر نشر ہوئے نہ اخبارات نے چھاپے‘ ہاں‘ ایک اخبار نے البتہ جرأت کر لی بڑی تفصیلی اور پرلطف رپورٹ ہے پوری نقل کرنے کے لیے جگہ نہیں ہے صرف دو تین جملے ملاحظہ فرمائیے’ مظاہرہ کرنے والے ناراض کارکنوں کے لیے بریانی سالن روٹی جوس اور منرل واٹر کی فراہمی لگا تار جاری رہی‘ سرعام اس اجتماعی روزہ خوری پر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ ٹکٹ کے متمنی امیدوار اپنے اپنے کارکنوں کے لیے کھانا پانی جوس اور سگریٹ کا وافر اہہتمام کرتے رہے پولیس کی توجہ اس احترام رمضان کی طرف دلائی گئی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں تحریک کے کارکنوں کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ایک امیدوار جڑانوالہ کے بریانی کی دیگیں ساتھ لائے اس موقع پر چھینا جھپٹی بھی ہوئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پوری خبر میں گنڈا پوری شہد کا کوئی ذکر نہیں۔ ٭٭٭٭٭ پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ نے جی ڈی اے کے سربراہ پیر پگاڑو کو فون کیا اور پنجاب میں شفاف انتخابات کرانے پر تبادلہ خیال کیا۔ کہاوت ہے‘ نگرانوں کی رمزیں نگرانوں کی ماں ہی جانے ہم آپ کیا جان سکتے ہیں۔ جی ڈی اے سندھ کی جماعت ہے اور اندرون سندھ کے چند روایتی حلقوں تک محدود پنجاب میں ’’شفافیت‘‘ کے لیے اس کا کردار بھی نگران سمجھ سکتے ہیں یا نگرانوں کی ماں۔ ہو سکتا ہے کہ کل کلاں پختونخواہ کے نگران صاحب پختونخواہ میں شفافیت کے لیے جئے سندھ تحریک سے تعاون مانگ لیں اور بلوچستان کے نگران صاحب برما کی آنگ سان سوچی کو فون کھڑکا دیں اور سندھ کے نگران صاحب کو دلائی لامہ سے مشاورت کی ضرورت پڑ جائے کچھ بھی ہو سکتا ہے صاحب‘ معاملہ شفافیت کا ہے اور بہت گھمبیر!