سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ ایک دم غصے میں آگیا۔ تمہیں قانون کا علم ہے؟ پہلے اسٹبلشمنٹ ڈویژن میں اپیل کرو، مسترد ہو جائے تو پھر سروسز ٹربیونل میں جاؤ، وہاں بھی ناکامی ہو تو پھر ہمارے پاس آؤ۔ ایک تمہاری پرموشن نہیں ہوئی تو اس کا انسانی حقوق کے ساتھ کیا تعلق ہے، پھر یہ معاملہ عوامی اہمیت کا کیسے ہو گیا۔ یہی اعتراضات لگا کر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے میری درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا تھا۔ رجسٹرار جو ایک اہلکار ہوتا ہے، اس نے درخواست مسترد کر دی تھی، اب یہ چیف جسٹس پر قانونا لازم تھا کہ اس کے خلاف کی گئی اپیل کو سنے۔ یوں میں سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر 1 میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز چوہدری کے روبرو کھڑا تھا اور ان سوالات کا سامنا کررہا تھا کہ صرف ایک پرموشن نہ ہونا، یہ معاملہ کیسے سپریم کورٹ کے براہ راست دائرہ اختیار میں آتا ہے جو (3) 184 کے تحت درخواست دائر کی گئی ہے، پھر عوامی اہمیت کا معاملہ کیسے ہو گیا۔ میں نے مودبانہ عرض کی کہ مائی لارڈ! میں نے اس درخواست میں کہیں بھی اپنی پرموشن نہیں مانگی، کہیں بھی یہ درخواست نہیں کی کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔ ایک دم صفحات پلٹے گئے اور پھر مجھ سے پوچھا گیا کہ پھر تم براہ راست سپریم کوٹ میں کیوں آئے ہو۔ میں نے کہا، میں گزشتہ ستائیس سال سے پاکستان کی بیوروکریسی کے اس گروہ سے تعلق رکھتا ہوں جسے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کہتے ہیں جو پہلے ڈی ایم جی، اس سے پہلے سی ایس پی اور انگریز کے زمانے میں انڈیل سول سروس کہلاتی تھی۔ یہ کہا جاتا ہے اور اس میں حقیقت بھی ہے کہ یہ گروہ اس ملک کا اصل حکمران ہے۔ یہ چند سو لوگ گوادر سے لے کر گلگت تک راج کرتے ہیں۔ ان کی گرفت اس نظام پر اس لیے بھی مضبوط ہے کہ ہمارا سیاستدان کاروبار حکومت میں دلچسپی نہیں لیتا اور اگر جرنیل آجائے تو اسے معاملات سمجھنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ سول سروس کا یہ گروہ ہی دراصل اس ملک پر گزشتہ سات دہائیوں سے حکمران ہے۔ اگر یہ ملک تباہ ہوا ہے، اس میں بددیانتی اور کرپشن بڑھی ہے، یہ مقروض اور مفلوک الحال ہوا ہے تو اس میں اس طبقے کا نوے فیصد سے بھی زیادہ قصور ہے، کیوں کہ یہ نوے فیصد سے بھی زیادہ اختیار اور اقتدار کا مالک رہا ہے۔ ان کا یہ اختیار واقتدار اپنی انتہا کو اس وقت چھوتا ہے جب یہ مرکزی حکومت میں فیڈرل سیکرٹری لگتے ہیں یا کسی صوبے میں چیف سیکرٹری تعینات ہوتے ہیں۔ اسوقت یہ اپنی مطلق العنانی کے عروج پر ہوتے ہیں۔ ان کے فیصلوں سے اس قوم کا زوال اور ترقی وابستہ ہو جاتی ہے۔ میں نے اپنی درخواست میں عرض کیا ہے کہ آج سے کچھ ماہ قبل ایک ایسا واقعہ بلکہ سانحہ ہوا ہے جس نے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاؤں، کیوں کہ اس واقعے نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان کی حکومت میں اعلی ترین سطح پر متمکن ان بیوروکریٹس میں اکثر ایک بہت بڑے پروموشن بورڈ کے ممبر بھی ہیں جو سول سروس کی آخری پرموشن بیس سے اکیس گریڈ میں جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ کیوں کہ اس کے بعد بائیس گریڈ تو وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں اس بورڈ کا اجلاس ہوا۔ اس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، آڈیٹر جنرل پاکستان اور چند فیڈرل سیکرٹری حضرات، چیئرمین پبلک سروس کمیشن کی سربراہی میں اکٹھے ہوئے۔ ان کے پاس گریڈ 21 میں افسران کو پروموٹ کرنے کے لیے 27 نومبر 2012 تک صرف بائیس آسامیاں تھیں۔ انہوں نے کمال مہارت سے 24 جنوری 2013 تک بڑھا کر انہیں سینتیس (37) کر لیا اور پھر 30 جنوری کو ان کی تعداد اچانک 56 ہو گئی۔ تینوں دفعہ آسامیوں کی یہ منظوری وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے تین سمریوں پر لی گئی۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک دفعہ بھی یہ سوال نہ کیا کہ سول سروس میں ایسی کونسی کھاد استعمال ہوتی ہے کہ آسامیاں تین ماہ میں بائیس سے چھپن ہو جاتی ہیں اور وہ بھی اعلی ترین سطح پر۔ مقصود صرف یہ تھا کہ 132 نمبر پر ایک آفیسر تھا جو رشتے کے اعتبار سے صدر پاکستان آصف علی زرداری کا بہنوئی تھا اور کوشش یہ تھی کہ کسی طرح کھینچ کھانچ کر اسامیوں کی بغیر کسی قانون اور ضابطے کے تعداد بڑھائی جائے اور پھر آسامیوں کو اس تک لا کر اسے پروموٹ کیا جائے۔ گیارہ فروری 2013 کو اس اعلیٰ سطحی بورڈ کی میٹنگ ہوئی، لاتعداد افسران کو چھوٹے چھوٹے بہانوں سے پروموشن سے محروم کیا گیا لیکن پھر بھی معاملہ اس مخصوص افسر تک نہ پہنچ سکا۔ حکام بالا یعنی سیاسی آقاؤں سے شدید ڈانٹ پڑی اور پاکستان کی تاریخ میں صرف دو ہفتے بعد یعنی 27 فروری کو دوبارہ اجلاس بلایا گیا اور 56 آسامیوں کو بغیر وزیر اعظم کی منظوری کھینچ تان کر 80 کیا گیا اور آخرکار آصف علی زرداری کے بہنوئی فضل اللہ پیچو کو جو 132 نمبر پر تھا، پرو موٹ کردیا گیا۔ اسے پروموٹ کرنے کے لیے 42 افسران کو نااہل قرار دیدیا گیا۔ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے ان 42 افسران میں بھی شامل تھا۔ لیکن می لارڈ! میں اس وقت سپریم کورٹ کے سامنے اپنی نااہلی کے خلاف درخواست لے کر نہیں آیا۔ میرا دکھ اور المیہ یہ ہے، میرا خوف یہ ہے کہ اس بورڈ میں شریک دو درجن کے قریب افسران وہ ہیں جو پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں، جن کے قلم سے فیصلے سرزد ہوتے ہیں۔ جو اس ملک کو تباہی کے بدترین مقام تک بھی لے جاسکتے ہیں اور ترقی کی منزلیں بھی طے کروا سکتے ہیں۔ المیہ یہ ہے اور ماتم اس بات کا ہے، جب یہ سارے کا سارا غیرقانونی اور غیر اخلاقی کام ہو رہا تھا تو ان دو درجن اعلیٰ ترین بیوروکریٹس میں سے کوئی ایک شخص بھی اپنے ضمیر کی خلش کے ہاتھوں مجبور ہوکر یہ تک نہ بولا کہ تم سب کچھ غلط کر رہے ہو۔ کسی نے کوئی اختلافی نوٹ تحریر نہ کیا۔ میں نے سپریم کورٹ نے دست بستہ عرض کی کہ اگر ان اعلیٰ ترین بیوروکریٹس میں سے کوئی ایک بھی اخلاقی جرات کا ثبوت دے دیتا تو میں کبھی اس عدالت میں درخواست لے کر نہ آتا۔ میری اس عظیم آفیسر سے امید بندھ جاتی وہ اس لاقانونیت پر احتجاج کرتا، میں سمجھتا کہ ابھی بیوروکریسی میں میرٹ اور اصول کی پاسداری کرنے والے افراد زندہ ہیں۔ می لارڈ! لیکن یہاں تو سب کے سب سیاسی آقاؤں کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔ اپنے مفاد پر انہوں نے میرٹ اور قانون کا قتل کیا۔ یہ تو اس ملک کے ساتھ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ جسے یہ لوگ اجتماعی دانش (Collective Wisdom ) کہتے ہیں یہ اجتماعی تباہی (Collective Disaster) ہے۔ می لارڈ! کیا یہ عوامی اہمیت کا معاملہ نہیں ہے، کیا یہ اس ملک کے بائیس کروڑ عوام کے انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں جن کی تقدیر ان کاسہ لیس، مفاد پرست اور ضمیر سے عاری بیوروکریٹس کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے کیس سننا (شروع کر دیا۔ ان 80 افسران کی جانب سے رشید اے رضوی، بیرسٹر افتخار گیلانی، حافظ ایس اے رحمان اور عبدالرحمن بھٹی ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور ان کے مقابلے میں۔۔۔ میں کسی وکیل کے بغیر پیش ہوا کہ وکیل کی فیس کی استطاعت ہی نہیں رکھتا تھا۔ کیس چلا۔۔ مہینوں چلا اور 13 اکتوبر 2017 کو فیصلہ سنا دیا گیا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تاریخی ہے۔ اس لئے نہیں کہ انہوں نے وہ 80 پرموشنیں ختم کیں بلکہ یہ تحریر کیا کہ ملک کی اعلیٰ ترین بیوروکریسی میں یہ خطرناک رجحان اپنی جڑ پکڑ چکا ہے کہ یہ اپنے سیاسی آقاؤں سے وفاداری نبھانے کے لئے میرٹ اور قانون کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں۔ چالیس صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ CP:22/2013 کے نام سے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ آج پانچ سال بعد یہ فیصلہ اچانک اس لیے یاد آیا کہ ان دو درجن افسران اعلیٰ میں جو اس قانون شکنی پر متحد ہو گئے، جنہوں نے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے ایکا کر لیا تھا، اس وقت کے چیف سیکرٹری پنجاب ناصر محمود کھوسہ بھی شامل تھے۔ جن کے بارے میں آج نگران وزیراعلی پنجاب کا تنازعہ پیدا ہوا ہے۔ ایک لفظ پورے میڈیا میں بولا جاتا ہے، اور بیورو کریسی نے بھی عام کردیا ہے کہ وہ بہت ’’اپ رائٹ‘‘ افسر ہے جس کا عام ترجمہ یہ ہے کہ وہ راست باز یا سیدھا ہے۔ لیکن ان چالاک بیوروکریٹس نے ’’اپ رائٹ‘‘ کا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔یہ لفظ دراصل ان افسران کے لئے استعمال ہوتا ہے جو اپنے سیاسی آقاؤں کی فرماں برداری کرنے، ان کے ہر جائز و ناجائز کام کے لیے قانونی راستہ نکالنے اور میرٹ، قانون اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر کر ان کے لیے راستے ہموار کرتے ہیں۔ یہی تو وہ گروہ ہے جو صحت سے دوائیوں اور تعلیم سے کتابوں کے پیسے تک ان سیاسی آقاؤں کے قدموں میں نچھاور کرتا ہے کہ وہ جو سکیم چاہیں بنالیں، جیسے چاہے خرچ کریں یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی یہ بیوروکریٹس ’’اپ رائٹ‘‘ ہیں، پاکباز ہیں، راست باز ہیں اور کامیاب ہیں۔ یہی تو وہ کامیاب لوگوں کا گروہ ہے جن کی وجہ سے میرا ملک ناکام ہوگیا ہے۔