کیا سروکار ہمیں رونق بازار کے ساتھ ہم الگ بیٹھے ہیں دست ہنر آثار کے ساتھ وقت خود ہی یہ بتائے گا کہ میں زندہ ہوں کب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھ وہ بہادر اور دلاور ہوتے ہیں جو کسی بڑے مقصد سے وابستہ ہو کر زمان و مکاں سے ورا ہو جاتے ہیں۔ جو تنی تھی ہماری گردن تھی۔ جو کٹا ہے وہ سر ہمارا ہے‘ کچھ بے بس مقام آئے ہیں جہاں تاب جواب دے جاتی ہے۔دل بھر آتا ہے اور آنکھیں چھلک اٹھتی ہیں یہ جذبوں کا معاملہ بہت عجیب ہوتا ہے۔ اس کا بیان اشکوں اور آہوں کے سوا ممکن ہی نہیں۔ بات تو وابستگی اور علاقے کی ہے کہ روح کے تار چھیڑیں یا دل کے اور سرمستی وجود پر طاری ہو جائے ،میں اپنی کیفیت کو بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ یہاں الفاظ صرف ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور بے بسی میں سر پٹختے ہیں۔ اظہار کرنے والے تو جاں سے گزر جایا کرتے ہیں۔ پتہ نہیں میں کیا بیان کر رہا ہوں کہ مجھے کچھ علامہ خادم حسین رضوی کے حوالے سے کہنا ہے پر کہہ نہیں پا رہا۔ دفعتاً میرے ذہن میں دو تین نام آئے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ غازی علم دین شہید اور ممتاز قاری کچھ تو ان سب میں قدر مشترک ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کے تذکرے کے ساتھ ایک دبستان عاشقان رسولؐ کا کھل گیا۔ یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھتا ہے۔ لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا۔شہادت کی تمنا بھی بڑی چیز کہ اس میں پیدا ہونے والی تڑپ دل کو خیال کا ہم ساز کر دیتی ہے۔یہ لوگ ایسے ہی اتنے بے باک اور جرات مند نہیں ہو جاتے قیام بھی انہی کا قیام ہے اور سجدہ بھی انہی کا سجدہ: وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات یہ منصب شہادت ہی تو ہے کہ آقا ﷺ کی ختم نبوت پر عملی شہادت کے لئے کوئی معذوری کو بھی سرراہ نہ بننے دے چلنے کی سکت نہ رکھنے والا تیخ زن بھی، تو ہم نے دیکھ لیا کہ جو عشاق کا قافلہ لے کر نکلا۔ کہنا بہت آسان ے ہائے ہائے آقاؐ پہ قربان ہوتا ہوا وہ روشن اور تابناک چہرہ میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اخلاص اور ایثار کا پیکر۔ تمام تر بشری کمزوریوں اور ثقافتی بے ساختہ پن کے باوجود وہ شخص حب نبیؐ میں سرشار اور ڈوبا ہوا تھا اس کی بدن بولی کی داستان اس دنیا کی تھی ہی نہیں۔ میں کوئی جذباتی بات نہیں کر رہا۔ یہ ایقان مجسم کا تذکرہ ہے۔سب کچھ حیرت ناک ہی تو لگتا ہے کہ وہیل چیئر پر بیٹھا شخص جوش اور جذبے سے بھرا ہوا اس قدر متحرک ہو کہ ہزاروں لوگ اس کے ساتھ نکل کھڑے ہوں۔ وہ لوگوں کا حوصلہ اور اعتبار بن جائے۔ وہ ایک بڑی پارٹی لبیک یا رسولؐ کھڑی کر دے کہ جس کا منشور ہی محبوب رسولؐ کی محبت ہو۔ ختم نبوت کے مسئلے پر وہ فیض آباد دھرنا دے۔ یہ فیض آباد علامہ خادم حسین رضوی کے باعث پہچانا جائے گا۔ باتیں کرنے والے تو باتیں کرتے رہتے ہیں کہ ان کا کام ہی ہے، مگر کچھ لوگ ایسے کام کر جاتے ہیں کہ انہیں سو خون معاف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ علامہ خادم حسین حافظ اور عالم دین توتھے قدرت نے انہیںغضب کا حافظہ بھی عطا کیا تھا کہ لمبی لمبی حدیثیں یاد تھیں اور تو اور میرا خیال ہے کہ انہیں اقبال بھی حفظ تھے کہ اس عاشق رسولؐ کا کلام بھی قرآن و سنت ہی سے جلا پاتا ہے۔ علامہ اقبال کی اردو اور فارسی کی شاعری خادم صاحب کو ایسے ازبر تھی کہ موقع محل سے ان کے دہن سے پھوٹتی تھی اور وہ ایک سماں باندھ دیتے تھے حکمرانوں کو گلہ ہو گا کہ اس عاشق رسولؐ کے سامنے یہ دنیا دار بے وقت تھے وہ انہیں للکارتے ۔ وہ عوامی آدمی تھے اور عوام کے مسائل پر بھی بات کرتے ابھی حالیہ حفیظ سنٹر کے واقعہ پر اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے حوالے سے انہوں نے حکمرانوں کو بہت جھنجوڑا اور سیرت سے حوالے دے دے کر مسائل حل کرنے کہا ڈھونڈوگے ہمیں ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔ ان کو دیکھ کر اپنے دوست عدیم ہاشمی کا شعر یاد آ جاتا تھا: مصالحت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے پروفیسر رشید احمد انگوی نے بطور خاص علامہ خادم حسین رضوی کے لئے دعائے مغفرت کروائی اور ان کے عشق رسولؐ کا ذکرکرتے ہوئے بطور خاص اقبال شناسی کا حوالہ دیا میرا کہنے کا مقصد یہ کہ دوسرے مکتب فکر کے لوگ بھی ان کے اخلاص اور محبت کے قائل تھے۔ ہمارے مولانا حمید حسین اکثر کہا کرتے ہیں کہ نبی پاکؐ سے محبت اور والہانہ عشق کا نمونہ دیکھنا ہو تو حضرت خادم حسین رضوی کو دیکھیں۔مولانا حمید حسین دبو بند مکتب فکر کے جید عالم ۔ زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمی سو گئے داستان کہتے کہتے کھری کھری اور سچی باتیں وہ کچھ اور بھی منکشف کرنے والے تھے مگر میں متنازعہ بات کرنے کے موڈ میں نہیں۔ میں تو اس مجاہد کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جو سچ مچ ریاست مدینہ کا نقشہ کھینچتا تھا ۔کیا ایسی ریاست میں ایسے ہو سکتا ہے کہ پچاس پچاس لاکھ تنخواہیں لینے والے ہوں اور عام آدمی کو اس کا حق بھی نہ ملے۔ نابینا لوگ دیواروں سے سر ٹکراتے رہیں ان پر لاٹھی چارج ہو، اساتذہ اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر ڈنڈے کھائیں۔ تضادات کا ایک مجموعہ ہے یہ سب کچھ اپنے اگلے کالم تک اٹھا رکھتے ہیں فی الحال تو بات علامہ خادم حسین رضوی کی ہو رہی ہے جو اسلام دشمنوں کے لئے تیغ بے نیام تھے ان کی کچھ معصوم باتوں کو یکسر نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ ہم کسی کردار کو مجموعی طور پر دیکھتے ہیں۔ ایسا کردار جس پہ فدا ہونے والے ہزاروں ہیں۔ یقینا وہ ہماری تاریخ میں ایک ناقابل فراموش محبوب کردار کی طرح زندہ رہیں گے۔ مصلحت سے بے نیاز شخص جس کی زبان دل کی رفیق تھی اور دل اسلام کی روشنی سے جگمگا رہا تھا۔ کسی نے کہا تھا: ہر حال میں حق بات کا اعلان کریں گے ہم پیروی حنبل و نعمان کریں گے ہم اہل جنوں اور جھکیں موت کے آگے ہم جب بھی مرے موت پہ احسان کریں گے