ایران کے ایٹمی پروگرام کے سائنسدان محسن فخری زادہ کے ریموٹ کنٹرول ہتھیار کے ذریعے قتل نے صرف ایران ہی نہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی سلامتی کے نئے خطرات کو جنم دیا ہے۔ ایران نے اسرائیل کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اسرائیل کے ایک بڑے رہنما ء نے بیان دیا ہے کہ دنیا کو اسرائیل کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے ایرانی سائنسدان کو قتل کردیا۔ ایران کا ایٹمی پروگرام ایک بین االاقوامی معاہدہ کے تحت چل رہا ہے اور عالمی ایٹمی ایجنسی اسکی ایٹمی تنصیبات کا باقاعدہ معائنہ کرتی رہتی ہے۔اسکے باوجود اسرائیل اور مغربی ممالک کے لیے یہ قابلِ قبول نہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کا ایٹمی پروگرام بہت ترقی یافتہ ہے ۔ اسکے پاس ایٹم بموں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔لیکن کوئی مغربی ملک اسکے خلاف آواز نہیں اٹھاتا۔ اسکے برعکس امریکہ نے اپنے جدید ترین میزائیل نظام اور جنگی طیارے بھی اسرائیل کو دے رکھے ہیں ۔ یہ ہتھیار وہ کسی اور ملک کو فراہم نہیں کرتا۔ ایک طرح سے اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں امریکی صوبہ ہے جس کی مدد سے وہ تمام عرب ملکوں اور خطہ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسرائیل کا خوف دلا کر اُنہیں سینکڑوں ارب ڈالر کے ہتھیار بیچتا رہتاہے جس سے امریکی معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔ ایران کے سائنس دان فخری زادہ کوجسطرح ہلاک کیا گیا ہے وہ بالکل انوکھا طریقہ واردات ہے۔ انہیںشُوٹرز نے گولیاں نہیں ماریں بلکہ الیکٹرانک آلات کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلاکر اُن پر گولیاں برسائی گئیں۔فخری زادہ طویل عرصہ سے اسرائیل کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود ایلمرٹ اور موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو محسن کا نام لیکر انکو ایران کے ایٹمی پروگرام کی ترقی کا سربراہ قرار دیا کرتے تھے۔ ان کا قتل اسرائیل کی بڑی کامیابی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی موساد ایران کے اندر کس قدر نفوذ کرچکی ہے کہ وہ ایک اہم ترین شخصیت کی نقل و حرکت کو ٹھیک ٹھیک دیکھ سکتی ہے۔اسرائیل طویل عرصہ سے ایران کی حکومت مخالف کمیونسٹ تنظیم مجاہدینِ خلق کی سرپرستی کررہا ہے۔ اس تنظیم سے وابستہ سینکڑوں لوگ ایران کے اندر موجود ہیں ۔ وہ امریکہ اور اسرائیل کیلئے انٹیلی جنس کا کام کرتے ہیں۔ ان ہی کی مدد سے امریکہ کی کوشش رہی ہے کہ ایران کے اندر موجودہ حکومت کا تختہ الٹ کر اپنی پسند کی حکومت لائی جائے۔ سب سے اہم‘ اسرائیل کے پاس ایسے جدید ترین الیکٹرانک آلات آگئے ہیں کہ وہ کسی انسان کو استعمال کیے بغیر دُورفاصلہ سے اپنے نشانہ پر حملہ کر سکتا ہے۔ یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے۔ صرف ایران کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی جو ایک ایٹمی طاقت ہے۔فخری زادہ کے قتل میںاہم پیغام پوشیدہ ہے۔ پہلے امریکہ نے جدید ترین میزائیل استعمال کرکے ایران کے سپہ سالار قاسم سلیمانی کو عراق ائیرپورٹ پر قتل کیا تھا جو اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔مطلب‘ امریکہ اور اسکی طفیلی ریاست اسرائیل کے پاس ایسے ہتھیارہیں کہ وہ اپنے دشمنوں کو بہت دُورسے بیٹھ کر قتل کرسکتے ہیں۔نو سال پہلے امریکہ کے پاس یہ صلاحیت نہیں تھی۔ اس نے اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کی خاطر ہیلی کاپٹر ایبٹ آبادبھیج کر آپریشن کیا تھا۔ تازہ ترین واردات سے یہ بھی ظاہر ہوگیا ہے کہ اسرائیل پہلے لبنان‘ شام میں جب چاہے فوجی کارروائی کرلیتا تھا۔ اب اسکی کارروائیوںکادائرہ کار ایران تک وسیع ہوگیا ہے۔ عرب ملکوں سے اعلانیہ اور خفیہ تعلقات قائم کرنے کے بعد تو اسکی خلیج فارس میں حملہ کی صلاحیت اور پہنچ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ایران کی اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔ ایران کا اتحادی ملک شام خانہ جنگی سے تباہ ہوچکا ہے۔ لبنان معاشی طور پر دیوالیہ ہوگیا ہے۔ اسرائیل کو شکست دینے والی تنظیم حزب اللہ کو اپنی بقا کے مسائل کا سامنا ہے۔جو ہتھیار ایرانی سائنس دان کے خلاف استعمال ہوئے ہیں وہ حزب اللہ کے لیڈرز کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔ اگر ایران کی حکومت بدلہ لینے کے لیے کوئی کاروائی کرتی ہے تو امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر بھرپور فوجی طاقت استعمال کرنے کا موقع مل جائے گا۔ یہی انکی منصوبہ بندی ہے کہ صدر ٹرمپ کی بقیہ ڈیڑھ ماہ کی مدت پوری ہونے سے پہلے پہلے ایران سے جنگ چھیڑ دی جائے اور اسکی ایٹمی تنصیبات تباہ کردی جائیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایران فوری بدلہ نہ لے اور صدرٹرمپ کی مدت اقتدار مکمل ہونے کا انتظار کرے۔ ایران تنہاامریکہ اور اسرائیل کی فوجی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔اسے اپنی بقا کے لیے حکمت عملی اور دُور اندیشی سے کام لینا ہوگا۔ ایرانی سائنسدان کے اسرائیل کے ہاتھوں قتل کی واردات میں پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کے لیے بھی تشویش کا پہلو ہے۔ جیسے ایران میں مجاہدین خلق سی آئی اے اور موساد کیلئے کام کررہے ہیں پاکستان میں بھی بہت سے گروپ کئی لبادے اوڑھ کر ان ایجنسیوں کے لیے کام کررہے ہیں۔ بلکہ پاکستان میں انڈین انٹیلی جنس ایجنسی را بھی سرگرم ہے۔ بلوچستان میں صرف را اور موساد دونوں پاکستانی ریاست کے مخالف عناصر کو مدد فراہم کررہی ہیں۔ پاکستانی میڈیا میں بھی غیر ملکی ایجنسیوں کا اچھا خاصا اثر و نفوذ ہے جو پاک فوج کے خلاف اور علیحدگی پسند عناصر کے حق میں بیانیہ کو فروغ دیتے رہتے ہیں۔پاکستان کا ایٹمی پروگرام مغربی سامراج کو کھٹکتا ہے۔بھارت کا امریکہ اوراسرائیل سے گہرا اتحاد ہے۔ جو ہتھیار اسرائیل نے ایرانی سائنسدان کو قتل کرنے کی غرض سے استعمال کیے وہ بھارت کو بھی فراہم کیے جاسکتے ہیں۔نریندرا مودی بہت بڑے پیمانے پرجدید ترین ہتھیار خرید رہا ہے۔بھارت پاکستان میں بھی کسی بڑی سیاسی یا عسکری شخصیت کو نشانہ بناسکتا ہے۔ سوچیے کہ اگراس طریقہ سے پاکستان میںکسی بڑی سیاسی شخصیت کا قتل ہوجائے تو ملک میں کتنا فساد پھیلے گا۔ یہی ہمارا دشمن چاہتا ہے کہ ہمیں خانہ جنگی میں مبتلا کرد ے۔ تاکہ ہماری معیشت اتنی کمزور ہوجائے کہ ہم کسی کے سامنے سر نہ اُٹھا سکیں۔اسرائیل اب ہم سے بہت کم فاصلہ پر جزیرہ نما عرب اور خلیج فارس میںموجود ہے۔ہمیں اپنے ایٹمی اور عسکری اثاثوں اورتنصیبات کے تحفظ کے لیے بڑے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ایسی جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی حاصل کرنا ہوگی جس سے اگر اسکی کسی شخصیت پر حملہ ہو تو ہم بھی طویل فاصلہ سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دشمن ملک کو تگڑاجواب دے سکیں۔ ایسے وقت میں ہمیں چین سے مزید قربت پیدا کرنا ہوگی۔ اپنی میزائیل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی استعداد بڑھانا ہوگی۔ پاکستان کودنیا پر واضح کرنا ہوگا کہ پاکستان کے خلاف ایسی کسی کاروائی کے نتائج بہت بھیانک ہونگے۔