اسلام آباد (سہیل اقبال بھٹی) ڈی جی ایف آئی اے بشیر احمد میمن کی کاوشوں کے نتیجے میں 40سال کے بعد پہلی مرتبہ منی لانڈرنگ ، دہشتگردوں(باقی صفحہ4نمبر24) کو فنڈنگ، انسانی سمگلنگ اور سائبر کرائم سمیت سنگین جرائم کی روک تھام کیلئے ایف آئی اے کی تشکیل نو کا پلان منظور ہوگیا ۔ ڈی جی ایف آئی اے کا تیارکردہ ری سٹرکچرنگ پلان وزارت خزانہ کی جانب سے اضافی بجٹ کیساتھ منظور کیا گیا ۔ منی لانڈرنگ،دہشتگردوں کو فنڈنگ کا خاتمہ، سائبرکرائم، انٹرپول ،انسانی سمگلنگ،انویسٹی گیشن اور پراسیکوشن کے شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا پہلے مرحلے میں شامل کیا گیا ہے ۔ پاک افغان اور ایرانی سرحدسمیت نظرانداز علاقوں میں ایف آئی اے کی سرویلینس بڑھائی جائیگی۔ ری سٹرکچرنگ پلان تین مرحلوں پر مشتمل، پہلے مرحلے میں آئندہ مالی سال کے دوران 486افسران اور اہلکار تعینات کئے جائینگے جس میں3ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل،8ڈائریکٹر،7ایڈیشنل ڈائریکٹر،32ڈپٹی ڈائریکٹر ، 95 اسسٹنٹ ڈائریکٹراور341انسپکٹر شامل ہونگے ۔ 92نیوز کوموصول ایف آئی اے کے منظورشدہ ری سٹرکچرنگ پلان کی کاپی کے مطابق ایف آئی اے کی تشکیل نو کا جائزہ لینے کے بارے میں سابق ویزاعظم شاہد خاقان عباسی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی سربراہی میں پانچ رکنی خصوصی کمیٹی قائم کی تھی۔ خصوصی کمیٹی نے ڈی جی ایف ایف آئی بشیر احمد میمن کے تیار کردہ ایف آئی اے کی تشکیل نو پلان تفصیلی جائزہ لینے کے بعد سفارشات پیش کیں۔پلان میں ایف آئی اے کے اختیارات کا دائرہ اور اس مختلف شعبوں میں خاص طور پہ سائبر کرائم ونگ کے اثر کو موزوں کرنا شامل تھا ۔ کمیٹی اس نقطے پہ پہنچی کہ گزشتہ چار عشروں میں ایف آئی اے کی تشکیل نو اور اس بہتری کیلئے سرے سے کام ہی نہیں ہوا ۔کمیٹی نے ایف آئی اے میں میں اصلاحات کو ناگزیز قرار دیتے ہوئے اس پلان مرحلہ وار نافذ کرنے کی سفارش کی۔سائبر کرائم ،این سی بی ،انڑپول ،انسانی سمگلنگ ،جیسے شعبوں میں اصلاحات کو اولیں بنیادوں پر کرنے پہ اتفاق کیا گیا ۔کمیٹی نے اس بات کی ضرروت کو بھی محسوس کیا کہ مزید سات سرکلز میں نظرانداز شدہ شعبوں کو بھی فیز ون میں تشکیل دیا جائیگا ۔کمیٹی نے سفارش کی کہ ایڈمن اور امیگریشن ونگ میں بھی بہتری لانے کی ضرورت ہے لیکن کمیٹی نے تجویزکیا ان دونوں شعبوں میں بہتری کے اقدامات دوسرے یا تیسرے مرحلے میں کئے جائیں۔ایسے ہی تین نئے زونز اور پانچ فعال ڈائریکٹوریٹ کے قیام کے اقدامات بھی دوسرے مرحلے میں شامل کئے جائیں۔ خصوصی کمیٹی نے ایف آئی اے کے لئے انفراسٹرکچر کی توسیع زور دیا اور فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ انفراسٹرکچر وہیں استعمال کیا جائے گا جہاں موجودہ ہے اور اور حسب ضرورت کرایہ پر عمارات بھی لی جاسکتی ہیں۔ وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق ایف آئی اے میں تینوں مرحلوں کے دوران مجموعی طور 2ہزار سے زائد بھرتیاں کی جائیں گی جس کیلئے وزارت خزانہ 48کروڑ روپے سالانہ فنڈز میں اضافہ کریگی۔