اسلام آباد(نیوزایجنسیاں) متحدہ مجلس عمل کے مرکزی پارلیمانی بورڈ نے عام انتخابات کے حوالے سے اختلافی نشستو ں کیلئے اتفاق رائے کافارمولا طے کرلیا۔گزشتہ روزمتحدہ مجلس عمل اور جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پرپنجاب اور سندھ کے بعدخیبر پختونخوا اور بلوچستان کے صوبائی پارلیمانی بورڈ کی سفارشات پرغور کیا گیا جبکہ بیشتر نشستوں پر ضلعی اور صوبائی پارلیمانی بورڈز کی متفقہ سفارشات منظور کرلی گئیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عید کے بعد پورے ملک میں رابطہ عوام مہم بھرپور طریقہ سے شروع ہو جائیگی۔ پشاور، ملتان، کراچی، کوئٹہ،راولپنڈی،مالاکنڈ،ایبٹ آباد ،فیصل آباد،گوجرانوالہ میں بڑے بڑے جلسے کئے جائیں گے ۔کراچی اور لاہور میں تاریخ ساز علمائو مشائخ کنونشن ہونگے ۔لیاقت بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پانچ سالوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ناکام رہی ہیں۔سٹیٹس کو کی محافظ پارٹیاں عوام دشمن ہیں اور عوام کو دھوکہ دیکر اپنے مفادات کا غلام بنانے والی ان جماعتوں سے نجات پانا ہے ۔متحدہ مجلس عمل غریب ،مظلوم اور حالات کی تبدیلی کا عزم رکھنے والے عوام کانمائند ہ اتحاد ہے ۔دینی ووٹرز کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے ۔سیکولر ،مفاد پرست ٹولے کیساتھ قومی سلامتی کا تحفظ ممکن نہیں۔ جمہوریت کیلئے سب سے بڑا خطرہ کرپٹ حکمران ہیں، ان سے نجات کیلئے عوام متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دیں۔ اجلاس میں اکرم خان درانی،حافظ عبدالکریم،علامہ عارف واحدی،پروفیسر ابراہیم،محمد خان لغاری،سکندرگیلانی ،مولانا عبدالحق ہاشمی،مشتاق خان،مولانا نصراﷲ اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔