لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے 92 نیوز کے پروگرام ’’ ہارڈ ٹاک پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اوردیگر اداروں نے پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے حوالے سے اچھے اورٹھوس شواہد دیئے ہیں ان شواہد کو پا کستان اقوام متحدہ اورایف اے ٹی ایف میں بھی پیش کرسکتا ہے ،میری نظر میں کوئی بھی ملک بھارت کے خلاف کھل کر ہمارا ساتھ نہیں دیگا۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم اندرونی طورپر بھی بٹے ہوئے ہیں جس سے ہمارا دشمن زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت نے یہ رویہ بنالیا ہے کہ وہ کشمیر پر پاکستان سے کوئی بات نہیں کریگا جبکہ سی پیک بھی ان کو بہت کھٹکتا ہے ، اب بھار ت کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ و ہ بیرون ملک جائیں اور عالمی رہنمائوں سے بات کریں ۔ ماہرافغان امور رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سیاسی طورپر مستحکم نہیں ہیں، حکومت اوراپوزیشن کے جھگڑے ،علاقائی مسئلے اورکچھ تنظیمیں بھی ایسی ہیں جو پا کستا ن کے خلاف کام کررہی ہیں لیکن اس کے باوجود پا کستانی اداروں کے پاس بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید شواہد ہیں، افغانستان کے راستے بلوچستان بھارت کا خاص نشانہ ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیراعظم فوج کی مشاور ت سے فیصلے کریں۔ تجزیہ کار جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم منقسم ہیں لیکن بھارت اقلیتوں کا نہیں صرف ہندئوں کا ملک ہے ۔ ان کا معاشرہ بھی بہت منقسم ہے ۔میری نظر میں پاکستان کی دفاعی پالیسی ہے اور یہ طریقہ کار درست ہے لیکن گھر کی چاردیواری کو اونچا کرنے سے دفاع نہیں ہوتا ہمیں بھی بھارت کا جواب اس کی زبان میں دینا چاہئے ۔ ہم بھی بھارت کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔