میاں نواز شریف اپنے تئیں مزاحمتی سیاست پر مسلسل کاربند ہیں اور وعد ے کے مطابق اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ سلوک کے حوالے سے سابق فوجی قیادتوں کو خوب لتاڑ رہے ہیں۔ لیکن ان کا روئے سخن موجودہ فوجی قیادت ہی ہے۔ میاں شہباز شریف بھی ششدر ہیں کہ ہو کیا رہا ہے؟ میڈیا والے تو خوش ہیں کہ انھیں چٹ پٹی خبریں مل رہی ہیں لیکن دوسری طرف میاں نوازشریف کے طرز تکلم سے عین انتخابات سے قبل ارتعاش بڑھتا جا رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف جو لوٹوں کی منڈی میں سب سے بڑی خریدار بنی ہوئی ہے۔ لگتا ہے کہ اپنے قائد عمران خان کی تقلید کرتے ہوئے اب ان کے کھلاڑی بھی بدتمیزی اور محاذ آرائی کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ جیوچینل پر منیب فاروق کے پروگرام ’آپس کی با ت‘ میںعمران خان کے قریبی ساتھی اور ان کے ذاتی دوست ہونے کے دعویدار نعیم الحق نے آن ائیر ہی دانیال عزیز کو تھپڑ رسید کردیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عمران خان اپنے کھلاڑ ی کونکیل ڈا لتے لیکن نعیم الحق نے اس دیدہ دلیری پر معذرت تو کجا اسے اپنے ایک ٹویٹ میں سراسر جائز قرار دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ جو بھی انھیں یا ان کی لیڈرشپ کو چور کہے گا اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جائے گا ۔ اس سے بڑی منافقت اور دوہر ے معیار کی اور کیا مثال ہو سکتی ہے کہ تحریک انصاف کا تومنترا ہی یہی ہے کہ ان کے سوا سب چور ہیں۔ نواز شریف تو کرپشن کے الزام میں نیب کے کیسز بھگت ہی رہے ہیں لیکن خان صاحب میاں شہباز شریف کے خلاف بھی اربوں روپے کے کرپشن کے الزامات برملا طور پر لگاتے رہتے ہیں اور اس ضمن میں کوئی ٹھوس ثبوت بھی مہیا نہیں کرتے۔ اس عدم برداشت کے ماحول میں انتخابی مہم کے دوران متحارب سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے مابین دھینگا مشتی کے مزید واقعات ہوسکتے ہیں۔ متذکرہ پروگرام کی ریکارڈنگ بہت پہلے کی گئی تھی۔ لہٰذا چینل نے دانیال عزیز کی دھنائی کی فوٹیج کی پروگرام سے قبل تشہیر کر کے اسے خوب بیچا حالانکہ وہ اس کو پروگرام سے حذف کر بھی سکتے تھے یا روٹین کے مطابق چلنے دیتے لیکن ہمارے چینل بھی ریٹنگ کی دوڑ میں اخلاقیات کو مزاحم نہیں ہونے دیتے۔ دانیال عزیز جو عدالت عظمیٰ میں توہین عدالت کے نوٹس بھی بھگت رہے ہیں، بردباری اور تحمل کا ثبوت دے کر کچھ نمبر ٹانگ گئے۔ اگر خدانخواستہ یہ واقعہ تحریک انصاف کے کسی رہنما کے ساتھ ہوتا تواس وقت پی ٹی آئی نے آسمان سر پر اٹھایا ہونا تھا۔ لیکن لگتا ہے کہ خان صاحب اور ان کے کھلاڑی ابھی سے یہ سمجھنا شروع ہو گئے ہیں انھوں نے اتنے الیکٹ ایبلز اپنی جماعت میںشامل کرلیے ہیں اور ان کی دانست میں انھیں مقتدر اداروں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ لہٰذا ان کا وزیراعظم بننا پکاہے اور انتخابات محض ایک مرحلہ ہے، جس سے انھوں نے گزرنا ہے۔ گزشتہ روز ہی جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے درمیان تحریک انصاف کی کورکمیٹی میں لفظی جنگ سے یہ بھی حقیقت آشکار ہوئی کہ شاہ محمود قریشی پنجاب کے آئندہ وزیراعلیٰ ہونگے گو یا کہ تحریک انصاف الیکشن کے انعقاد سے پہلے ہی رخصتی پر مصر ہے۔ جہاں تک میاں نواز شریف کا تعلق ہے وہ بڑی خوبصورتی سے اپنے موقف کی تائید میں تاریخ کو مسخ کر رہے ہیں۔ وہ 1999میں اپنی حکومت کے خاتمے کا تانا ڈکٹیشن نہ لینے کے رویئے سے جوڑتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت ان کے ذہن پر بھاری مینڈیٹ اس حد تک سوار تھا کہ وہ فوج سمیت ہر ادارے کو زیر کرنا چاہتے تھے۔ ان کی راہ میں شاید پرویز مشرف حائل ہو سکتے تھے اسی بنا پر میاں صاحب نے آرمی چیف کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنا کر غیر موثر کرنے کی ناکام کوشش کی۔ اس کے بعد انھوں نے پرویز مشرف کے سری لنکا کے دورے سے واپسی پر فضا میں ہی انھیں آرمی چیف کے عہد ے سے معزول کر دیا۔ نوازشر یف اور عسکری قیادت میںاعتماد کا فقدان اس حد تک پیدا ہو چکا تھا کہ پرویز مشرف حفظ ماتقدم کے طور پر یہ بندوبست کر کے ہی دورے پر گئے تھے کہ اگر میاں نواز شریف نے ایسی حرکت کی تو راولپنڈی کی 10کور کے سربراہ جنرل عزیز اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل محمود کوکیا کر نا ہو گا اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔ میاں نوازشریف کی سکیم ناکام ہو گئی اور پرویز مشرف طالع آزماؤں والی میرے عزیز ہم وطنو! کی تقریر کر کے قوم پر سوار ہو گئے۔ اس ’کو‘ سے صرف چند ما ہ قبل ہی میاں نوازشریف نے جنرل جہانگیر کرامت کی طرف سے ان کے طرز حکومت پرتنقیدی بیان دینے پر استعفیٰ لے لیا تھا حالانکہ وہ اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ویسے ہی گھر جانے والے تھے۔ فوج کیونکر برداشت کرتی کہ ایک سویلین وزیراعظم چند ماہ کے مختصر دورانیے میں اس کے دوسربراہوں کو گھر بھیج دے ۔ جہاں تک میاں نواز شریف کے اس استدلال کا تعلق ہے کہ ان کی نااہلی کی بنیادی وجہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانا بنی، جزوی طور پر درست ہے۔ یحییٰ خان جو ملک کو دولخت کرنے کے ذمہ دار تھے پر کو ئی مقدمہ نہیں چلا وہ اپنے گھر پر طبعی موت مرے اور اس سانحے پربننے والے حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے طاق نسیان میں رکھ دی ۔بھٹو جیسے زیرک سیاستدان کو خوب معلوم تھا کہ یہ سودا انہیں مہنگا پڑے گا۔ جنرل راحیل شریف کے بڑے بھائی میجر شبیر شہید پرویز مشرف کے کورس میٹ تھے اور پرویز مشرف ان کے چھوٹے بھائی جنرل راحیل شریف کے سرپرست۔ اس بنا پر بطور فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے پرویزمشرف کو عدالت میں پیش نہیں ہو نے دیا اور انھیں’ہائی جیک‘ کر کے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ کارڈیالوجی بھیج دیا گیا اور بعدازاں حکومت کی مرضی سے ہی خود ساختہ جلاوطنی میں چلے گئے۔ ویسے بھی فوج یہ بات برداشت نہیں کر سکتی کہ ان کے کسی بھی سابق سربراہ کو سویلین عدالتوں میں گھسیٹا جائے چاہے معاملہ سنگین غداری کا ہی ہو۔ غالباً 2014ء کا دھرنا بھی میاں نواز شریف پر اس حوالے سے دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں مستعفی ہو نے یا طویل رخصت پر جانے کا مشورہ بھی دیا گیا لیکن وہ ڈٹے رہے۔ عمران خان نے تیسرے امپائر کی انگلی کا ذکر کر کے سارا بھانڈا بیچ چورا ہے پھوڑ دیا تھا۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری میاں نواز شریف کے ساتھ کندھا ملاکر کھڑے ہو گئے تھے لیکن بعد میں را ت گئی بات گئی کے مترادف میاںنواز شریف نے اسی فوجی قیادت کو جسے وہ آج مطعون کر رہے ہیں کو خوش کرنے کے لیے آصف زرداری سے کٹی کر لی اور اب مسلم لیگ (ن) کی لیڈشپ کی بسیار کوشش کے باوجود آصف زرداری صلح پر آمادہ نہیں ہیں۔ فوج کے موجودہ سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی میاں نواز شریف کی اپنی چوائس ہیں۔ انھوں نے میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے اس مشورے کوکہ راحیل شریف کی مدت ملازمت میں ان کے پیش رو جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرح توسیع کردیں میاں نوازشریف نے یہ کہہ کر آپ اس معاملے میں دخل نہ دیں کی تجویز دی۔ لیکن ’ڈان لیکس‘ کے معاملے میں نواز شریف نے ذاتی انا کا مسئلہ بنا کر خو دہی فوجی قیادت سے بگاڑ پید اکر لیا۔ فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سیاسی معاملات میں فعالیت کو میاںنواز شریف دخل درمعقولات سمجھتے ہیں لیکن سیاست دانوں کو بھی بردباری، تحمل اور برداشت کے ساتھ اس معاملے سے نمٹنا ہو گا اور قول وفعل میں موجود تضاد کو ختم کرنا ہوگا ۔