سابق وزیراعظم نوازشریف کے متنازعہ انٹرویو کے بعد صرف پاکستان کا قومی منظر نامہ ہی گرد آلود نہیں ہے بلکہ یہ گرد دور تک اڑ رہی ہے۔ دنیا بھر کے اخبارات میں اس پر تبصرے ہورہے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز اور انڈیا ٹوڈے انٹرنیٹ پر پڑھ لیں یا الجزیرہ کا تازہ اخبار دیکھ لیں۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ دنیا نوازشریف کے بیان کو کس زاویے سے دیکھ رہی ہے۔ الجزیرہ اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتا ہے کہ ’’پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے نوازشریف جنہیں حال ہی میں پاکستان کی عدالتوں نے کرپشن کے چارجز پر نااہل قرار دیا ہے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان ممبئی حملوں میں براہ راست ملوث تھا۔‘‘ بھارت کے اخبارات ہوں یا الیکٹرانک میڈیا وہاں تو خیر ایک جشن کا سماں ہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم کے بیان نے بھارت کے موقف کو درست ثابت کیا۔ وہ لکھ بھی رہے ہیں اور چیخ چیخ کر کہہ بھی رہے ہیں کہ بھارت تو ہمیشہ سے ہی کہتا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کی سرزمین ہے۔ دیکھیں اب ان کے سابق وزیراعظم جو تین بار وزارت عظمیٰ کا منصف سنبھال چکے ہیں انہوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستان سے نان اسٹیٹ ایکٹرز کو اجازت دی گئی کہ جا کر 150 بندے مار دیں۔ نوازشریف کے بیان سے پوری دنیا میں پاکستان کی سبکی ہوئی۔ سابق نااہل وزیراعظم نے یہ خودکش حملہ صرف پاکستان کی سالمیت پر ہی نہیں کیا بلکہ خود ان کی سیاسی جماعت اور ن لیگ کے ساتھی، رفقائ، نوازشریف کے اس انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان پر شرمندہ اور حیران ہیں کہ کس طرح اس کا دفاع کیا جائے۔ خبر یہ ہے کہ ن لیگ…میں نوازشریف کے اس ملک دشمن انٹرویو کے بعد مزید ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ آج روزنامہ 92 نیوز میں رانا عظیم کی خبر کے مطابق ن لیگ میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل اب تیزی سے شروع ہو چکا ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کی سالمیت کو ہی دائو پر لگا دیا جائے اور ویسے اگر دیکھا جائے تو نوازشریف ہمیشہ سے بھارت کے لیے ایک نرم گوشہ رکھتے رہے ہیں۔ وہ نوازشریف ہی تھے جنہوں مودی کو اپنی نواسی کی شادی میں مدعو کیا اور پھر مودی کو خوش کرنے کے لیے انڈین کلچر اور رسم و رواج کے مطابق شادی میں سب نے گلابی پگڑیاں پہنیں۔ میڈیا میں اس پر لے دے ہوئی تو کہہ دیا کہ ذاتی حیثیت سے مودی کو مہمان بنایا گیا ہے۔ کوئی پوچھے کہ کشمیر میں مودی کے حکم پر بھارتی فوجی کشمیری نوجوانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے تھے اور اسی مودی کونوازشریف کس طرح اپنا ذاتی مہمان بنا سکتے ہیں۔ پھر اس کی آئو بھگت کرتے ہیں۔ کبھی جندال سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں تو اس پر بھی یہی کہا جاتا ہے کہ یہ بھی ذاتی حیثیت میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ اس ملک کے وزیراعظم ہو کر مودی اور بھارتی کاروباری افراد سے تعلقات بناتے ہیں تو یہ ذاتی حیثیت کیسے ہوسکتی ہے؟ نوازشریف نے ہر موقع پر یہ ثابت کیا کہ انہیں پاکستان کے وقار، سالمیت اور شہدا کے لہو کی رتی بھر پروا نہیں ہے۔ وہ اول آخر ایک تاجر ہیں جو صرف اپنے نفع کے بارے میں سوچتا ہے اور نفع کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوسکتا ہے۔ دیانتدارانہ تجزیہ کیا جائے تو نوازشریف کے اس متنازعہ بیان کے بعد سب سے زیادہ مشکل میں ملک کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہیں۔ ایک طرف وہ نااہل ہو جانے والے نوازشریف کو اپنا وزیراعظم کہتے ہیں۔ اچھے بچوں کی طرح ان سے ڈکٹیشن لیتے ہیںا ور ان کے پاس یس باس کے علاوہ کسی اور آپشن کا بٹن ہی نہیں ہے۔ وہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہیں اور نوازشریف کے بیان کو گمراہ کن قرار دیتے ہیں۔ سکیورٹی کونسل کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق نوازشریف کے اس متنازعہ انٹرویو کی مذمت کرتے ہیں تو دوسری طرف اجلاس ختم ہونے کے بعد اس بے وفائی کا کفارہ ادا کرنے کے لیے پھر سے بیان دیتے ہیں کہ میں اور شہبازشریف۔ نوازشریف کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ کہ اس کو خواہ مخواہ متنازعہ بنا دیا گیا ہے حالانکہ نوازشریف کے انٹرویو میں ایسی کوئی بات ہی نہیں جو متنازعہ ہو بس اسے اخبارات میں توڑ مروڑ کر ہی شائع کیا گیا۔ بہرحال شاہد خاقان عباسی ایک دلچسپ و عجیب صورتحال سے دوچار ہیں۔ ان کے باس اور ان کے وزیراعظم تو مسلسل اپنی نالائقیوں کی وجہ سے حالات اور معاملات کا ریشم الجھائے چلے جا رہے ہیں اور بے چارے عباسی صاحب بس اسی ادھیڑ پن میں رہتے ہیں۔ ’’اب بتا کون سے دھاگے کو جدا کس سے کروں۔‘‘ حقیقت احوال یہ ہے کہ ن لیگ جو سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس کے حالات الجھتے ہی چلے جا رہے ہیںاور اب نوازشریف کی مایوسی، تلخی اور ڈسپریشن نے عالمی فورم پر پاکستان کے موقف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اپنی سیاسی پارٹی پر تو خیر وہ خودکش حملہ کر ہی چکے ہیں۔ شہبازشریف کو ادراک ہے تو انہوں نے اس صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش اور کہا کہ نوازشریف کبھی ایسا بیان نہیں دے سکتے۔ ان سے بڑا محب وطن کوئی نہیں۔ ایک جلسے میں اپنے مخصوص انداز میں انگلیاں لہرا کر وہ سامعین سے پوچھ رہے تھے کیا نوازشریف کہہ سکتا ہے کہ فوج نے ممبئی میں دہشت گرد بھیجے ہیں لیکن چھوٹے بھائی کی اس کوشش کو بڑے میاں صاحب نے اپنی ہٹ دھرمی سے ناکام کردیا۔ فرماتے ہیں، میں نے جو کہا وہ میرا سوال ہے اس کا جواب مجھے چاہیے۔ میں نے کیا غلط بات کردی ہے۔ صاحبزادی نے بھی والد کی حمایت میں ٹویٹ کیا کہ نوازشریف نے جو کہا وہ صحیح کہا۔ یعنی ’’خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں۔‘‘ کا راستہ نوازشریف منتخب کر چکے ہیں۔ پانامہ کے فیصلے کے بعد ان کا سیاسی مستقل تاریک ہو چکا ہے۔ وہ اب ڈھلوان کے سفر پر ہیں۔ ان کے پاس کھونے کو کچھ رہا نہیں۔ ڈھلوان کے سفر پر ہمیشہ تیزی اور تندی آ جاتی ہے اور اگر انسان خود کو سنبھال کر اترائی میں پائوں نہ رکھے تو لڑھکنا اور پھسلنا مقدر ہوتا ہے ایسا ہی معاملہ نوازشریف کے ساتھ ہے۔ غیر اعلانیہ طور پر تو وہ ن لیگ سے مائنس ہو چکے ہیں۔ وہ صرف اور صرف اپنی ذات کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اب یہ ن لیگ پر ہے کہ وہ آئندہ آنے والے الیکشن میں بڑے میاں صاحب کی کوتاہیوں کا بوجھ لے کر عوام میں جائے گی یا پھر مائنس نواز کا اعلان کر کے اس بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کرے گی۔ بوجھ سے نہ جانے کیوں مجھے حبیب ولی محمد کی گائی ہوئی ایک خوبصورت غزل کا شعر یاد آ گیا۔ برمحل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ قارئین پر۔ میں صرف شعر درج کئے دیتی ہوں: اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں