پچھلے کئی ہفتوں کے دوران کچھ رشتے داروںاور احباب کی موت کی خبریں سن سن کر خود کو بہت دکھی پایا اور پشتو زبان کا یہ ٹپہ بہت یاد آرہا ہے : یارانو! یو تل بل زاریژئی ما د مجلس یاران لیدل چی خاورے شو نہ ... دوستو!ایک دوسرے سے پیار وایثارسے پیش آیا کرو کیونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے مجلس کے احباب کو رزقِ خاک ہوتے دیکھا ہے''۔ چند ہفتے پہلے پیغام موصول ہوا کہ ’’اے این پی ژوب کے مخلص رہنما جناب عبدالرشید سیال کاکڑاب اس دنیا میں نہیں رہے''۔عبدالرشید صاحب کی موت خبر نے رنجیدہ کردیا تاہم چند لمحے بعد دل کو تسلی دی کہ چلیں ان کی عیادت تو نصیب ہوئی ۔ عبدالرشید سیال پچھلے پانچ چھ مہینوں سے علیل تھے ۔ وفات سے عین تین دن قبل سوشل میڈیا پر جب ان کی حالتِ مرض کی ایک تصویر نظروں سے گزری تو اگلے دن اپنے دوست شہیم صاحب کے ہمراہ ان کی بیمار پرسی کیلئے گئے۔ وہ بولنے اور ہاتھ ملانے سے عاجز تھے ، خوراک پہنچانے کیلئے ناک میں نلکی لگی ہوئی تھی یوں صرف آنکھوں ہی آنکھوں میں ان سے بات ہوئی۔ دو دن بعد ان کے انتقال کی خبر سن کر کلمہ ترجیع کہا، شام کو ان کے جنازہ میں شرکت کی ،ان کا آخری دیدار کیا اور زمیں کے حوالے کیا یوں اس نیک سیرت انسان کا یہ باب ہمیشہ ہمیشہ بند ہوگیا۔البتہ ان کے انتقال کے بعد جو باب ہمیشہ وا رہے گا وہ ان کی اچھے اخلاق اور اچھے کردار سے متعلق ہے کیونکہ ان قابل مدح صفات کی وجہ سے وہ ہمیشہ زندہ اور جاویدان رہیں گے۔ مرحوم عبدالرشید سیال گورنمنٹ سکول نیوٹاون میں ہمارے استاد تھے ، نہایت مشفق اور پیار کرنے والے استاد۔ہم نے اُن سے نہ صرف کتابوں کی حد تک بہت کچھ حاصل کیا بلکہ ایک حقیقی استاد بننے کا ڈھنگ بھی ان سے سیکھا۔ان کی سیاسی وابستگی عوامی نیشنل پارٹی سے تھی اور اس پلیٹ فارم سے وہ قومی سیاست میں بچپن سے بہت متحرک چلے آتے تھے ۔عدم تشد د کے پیروکار خان عبد الغفار خان (باچا خان) کے بڑے عقیدت مندوں میں سے تھے ۔ اللہ تعالی ہمارے اس پیارے نیک سیرت استاد کے سفرِ آخرت میں آسانیاں پیدا کریں اور ان کے سبھی لواحقین اور احباب کو صبراور برداشت نصیب فرمائیں۔ خوشحال خان خٹک ایسے لوگوں ہی کے بارے کہاتھا: شہ خو دا چی د چا نوم پکشی یادیژی پہ فانی دنیا بہ نہ وی ژوندی تل سوک ’’اس جہاں فانی سے ہر کسی نے کوچ کرجاناہے ، بہتر یہ ہے کہ یہاں کسی کا نام زندہ رہے ‘‘۔ ابھی استادرشید سیال کی رحلت کے زخم تازہ تھے کہ اتوار کو ایک اور خبرِ مرگ نے دل پر بجلیاں گرادیں ۔یہ خبرجناب عبیداللہ خان مندوخیل کے اچانک ارتحال کی تھی ، اناللہ وانا الیہ راجعون ۔عبیداللہ مندوخیل ژوب کے بزرگ اور طویل جدوجہد کرنے والے سیاستدان تھے مرحوم میرا خان لالاکے فرزند تھے اور قومی وطن پارٹی کے مرکزی رکن اوربلوچستان چپٹرکے سینئر چیئرمین تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت کم ایسے لوگ دیکھے ہیں جوہر محفل کا چشم وچراغ اور جانانہ طبعیت کے مالک ہوں ان میں عبیداللہ خان مندوخیل کا شمار بھی ہوتا ہے ۔ مرحوم عبیداللہ خان مندوخیل عمر میں ہم سے کافی بڑے تھے تا ہم انہوں نے کبھی بھی اس فاصلے کو تعلقات اور دوستی میں حائل ہونے نہیں دیا۔ غالبا آج سے پندرہ برس قبل پہلی دفعہ میری ان سے زیارت میں پشتو عالمی ادبی سمینار کے موقع پر شناسائی ہوئی۔ اس تین روزہ سمینار کی آخری رات منتظمین نے ایک موسیقی پروگرام کا اہتمام کیا ہوا تھا اور معروف موسیقار گلزار عالم ادیبوں اور شعرا کے ایک بڑے مجمع میں غزل سرا تھے ۔ رات کے آخری پہر میں پنڈال سے باالکل متصل پیچھے سے فائرنگ کی آواز سنائی دی جس پر موسیقی کے لطف میں ڈوبا ہوا پورا مجمع آنا فانا بکھر گیا اور خوف کے مارے ہر ایک کی دوڑیں لگ گئیں ۔ اس دوران ایک شخص دوڑتے ہوئے اسٹیج پر گئے ، مائیک اٹھایا اور سہمے ہوئے لوگوں کی ڈھارس بندھائی ۔ یہ عبیداللہ مندوخیل تھے جو آج ہم کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے الوداع کہہ گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ فائرنگ کرنے والا عوامی نیشنل پارٹی کا ایک اوباش نوجوان تھا اور شاید ہوائی فائرنگ کے ذریعے محفل کو مزید چارچاند لگانے کی سعی کر رہا تھا۔ معاشرتی اورسماجی مسائل کو ہموار کرنے ، عوامی مطالبات کو سرکار سے منوانے کیلئے جو بھی احتجاجی مظاہرہ شہر میں ہوا کرتا تھا،عبیداللہ خان اس میں پیش پیش رہتے تھے۔سیاست اور سوشل ورکر کے ساتھ ساتھ مرحوم عبیداللہ خان کا ادب سے بھی گہرا لگائو تھا اور ہماری ادبی محفلوں کو بسا اوقات وہ رونق بخشا کرتے تھے۔ مرحوم عبیداللہ خان کی موت سے نہ صرف ان کے خاندان میں ایک خلا پیدا ہوا بلکہ اس نیک سیرت اور مخلص دوست کی کمی سیاسی ، سما جی ، قبائلی اور ادبی حلقوں میں بھی شدت کے ساتھ محسوس کی جائے گی ۔ اللہ تعالی انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ نصیب فرمائے اور ان کے جملہ لواحقین کو صبر عطا کرے ۔حالیہ دنوں میں دو اور ایسے سانحات بھی رونما ہوئے جن کے اثر سے ابھی تک خود کو نکال نہیں پارہا ۔ ان میں ایک ٹریفک حادثہ تھا جس کے نتیجے میں ہمارے ایک عزیز کے دو جواں سال بیٹے شہید ہوئے تھے ۔ جب کہ دوسرا قتل کاایک افسوسناک واقعہ ہے جس کے نتیجے میں ایک خوبرو نوجوان سمیت ایک خاتون شہید ہوئی تھی۔ ایسے اندوہناک سانحات ایک حساس طبع انسان کیلئے نہایت تکلیف کا سامان ہواکرتے ہیں، خدا نہ کرے کہ یہ سال بھی پچھلے سال کی طرح عام الحزن ثابت ہو ۔ دعا ہے کہ رختِ سفر آخرت باندھنے والو سب کی منزلیں آسان ہوں، آمین ۔