پاکستان کے کسی بھی "عظیم" دانشور، "نامور" صحافی اور "قابل احترام" تجزیہ نگار سے گزشتہ دس سالوں میں کسی نمایاں کارکردگی کے بارے میں سوال کریں کہ وہ کونسی ہے تو وہ سینہ پھلا کر کہیں گے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ جمہوری تسلسل قائم ہوا ہے۔ ایک حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور اب دوسری حکومت بھی اپنی آئینی مدت تقریبا مکمل کر چکی ہے اور کس قدر خوش قسمتی کی بات ہے کہ ان دونوں کے درمیان انتقال اقتدار کس قدر آسانی کے ساتھ ممکن ہو گیا۔ صرف اسی ایک نمایاں کارکردگی کے علاوہ ان جمہوریت پرست "نابغوں" کے پاس کہنے کو اور کوئی دوسری کارکردگی نہیں ہے۔ ان کے نزدیک جمہوری تسلسل وہ واحد "امرت دھارا" ہے جس میں تمام بیماریوں کا علاج ہے۔ یہی جمہوری تسلسل انسانوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاتا ہے، بیماروں کو علاج فراہم کرتا ہے، پیاسوں کو صاف پانی اور جاہلوں کو علم کی دولت سے مالا مال کر دیتا ہے۔ اگر ایسے ہی تسلسل سے حکومتیں بدلتی رہیں تو ایک دن پاکستان کے بائیس کروڑ عوام اتنے خوشحال اور آسودہ ہو جائیں گے کہ کوئی زکوٰۃ دینے باہر نکلے گا مگر زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ ہوگا۔ یہ وہ خواب ہے جو کم از کم گذشتہ تیس سالوں سے اس قوم کو مسلسل دکھایا جا رہا ہے۔ عوام کی حکومت، ووٹ کی عزت و حرمت وغیرہ وغیرہ جیسے دلپذیر نعروں سے اس جمہوری تسلسل کو تقدیس کے اعلیٰ مقام پر بٹھایا جاتا ہے۔ پاکستان بننے کے پہلے چالیس سالوں میں کم از کم پاکستان کا دانشور طبقہ جمہوریت اور عوام کی حکومت نہیں، بلکہ غریب مزدور کسان کی حکومت کی بات کرتا تھا۔ جمہوریت کے گن نہیں گاتا تھا بلکہ اس کا نعرہ تھا کہ وہ مزدور کسان کی آمریت (Proltrate Dictatorship) قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے عظیم لکھاری، فیض احمد فیض سے لے کر احمد ندیم قاسمی تک سب ایک ایسا ادب تخلیق کر رہے تھے جس میں یہ بتایا جاتا تھا کہ جمہوریت دراصل سرمایہ دارانہ نظام کی بدترین عیاشی اور استحصال کا دوسرا نام ہے۔ جیسے ہی سوویت یونین میں مزدور کی آمریت کا دور ختم ہوا، وہ رہنما، لینن جو اس کا نعرہ لے کر اٹھا تھا، اس کا مجسمہ زمین بوس ہوا تو ٹھیک اسی موقع پر پاکستان میں کیمونسٹ نظام کے داعی، مزدور کی بادشاہت کے علمبردار اور چالیس سال تک امریکہ کو گالی دینے والے انکل سام کے قدموں میں سجدہ ریز ہو گئے۔ اب ہر طرف ایک ہی نعرہ تھا۔ ہماری بقا جمہوریت میں ہے، ہمارا مستقبل جمہوری تسلسل میں پوشیدہ ہے، ہماری خوشحالی جمہوری حکومت سے وابستہ ہے۔ یہ وہ نعرہ ہے جس نے اس ملک کے عوام کے ساتھ ہونے والی ہر نا انصافی، لوٹ مار، بددیانتی اور کرپشن کی جمہوریت کے نام پر پردہ پوشی کی۔ اس کے بعد جس حکمران نے جو جرم کیا، لوٹ مار کی، اس پر اگر کسی عدالت میں مقدمہ چلا تو اس نے شور مچا دیا۔ یہ سب اس نظام کو تباہ کرنے، اس جمہوری تسلسل کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے، بات زمینی مخلوق سے خلائی مخلوق تک جا پہنچی۔ پاکستان کی تاریخ کے پہلے ساٹھ سال اور موجودہ جمہوری تسلسل والے دس سالوں کا اگر موازنہ کیا جائے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے گزشتہ دس سالوں میں چوروں، ڈاکوؤں اور اچکوّں کے غول کے غول تھے جو اس ملک کو لوٹنے آئے، ٹڈی دل کی طرح اس پر حملہ آور ہوئے اور ایک لہلہاتے کھیت کی طرح خوشحال پاکستان کو ویران و اجاڑ چٹیل میدان بنا گئے۔ میں اس سرزمین کی تاریخ میں جاؤں تو رونے اور سر پیٹنے کے سوا کوئی اور ماتم کا راستہ نہیں بچتا۔ لوگوں کو اس بات سے کوئی غرض یا دلچسپی نہیں ہوتی کہ ان پر کون حکومت کر رہا ہے، انہیں دو وقت کی روٹی، بیماری میں علاج، تعلیم، صاف پانی اور امن وامان چاہیے ہوتا ہے۔ وہ مغل دور جسے آج کا "بیمار" دانشور آمریت و بد حالی کا دور کہتا ہے، اس دور میں 1600 عیسوی میں برصغیر پاک و ہند میں 18 ملین پونڈ ٹیکس سالانہ اکٹھا ہوتا تھا۔ برطانیہ نے دو سو سال بعد یعنی 1800 میں اپنا کل ٹیکس 18 ملین پاؤنڈ تک پہنچایا جس میں برطانیہ نہیں بلکہ مفتوحہ علاقوں کی لوٹ مار بھی شامل تھی۔ اورنگزیب عالمگیر جسے گالی دینا آج کے جمہوری سیکولر اور لبرل دانشوروں کی عادت ہے، اس کے سنہری دور میں سالانہ ریونیو 100 ملین پونڈ تک پہنچ چکا تھا۔ پوری دنیا کی معیشت میں اس خطے کا حصہ 26 فیصد سے زیادہ تھا۔ کسی قسم کے قرضے کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ اسی دور کے ان انعامات کے بارے میں لارڈ میکالے لکھتا ہے کہ مجھے پورے برصغیر میں نہ کوئی چور نظر آیا اور نہ فقیر۔ برطانیہ کا دور آیا، سامراج کی حکومتیں تھی۔ لیکن خوشحالی اس خطے سے نہ روٹھی۔ ریلوے، نہری نظام، تعلیم، صحت، ڈاک کا نظام، مقامی حکومتیں، سڑکیں، عمارتیں سب کچھ بنا لیکن اس ملک نے ایک روپیہ بھی قرض حاصل نہ کیا۔ الٹا پانچ کروڑ پاؤنڈ سالانہ یہاں سے اکٹھا کرکے برطانوی حکومت کو بھیجے جاتے تھے۔ یہ ملک جب 1947 میں معرض وجود میں آیا تو اس کے معاشی حالات دگرگوں تھے۔ بھارت نے خزانے میں سے پاکستان کا حصہ نہیں دیا تھا اور انگریز ایک بدنیتی کے ساتھ، مغل دور کی معیشت اور تعلیمی نظام کو آہستہ آہستہ کر کے تباہ کر چکا تھا۔ لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان نے جس عظیم الشان رفتار سے ترقی کی اس کی مثال جدید دور میں پوری دنیا کی معیشتوں میں نہیں ملتی۔ اس ملک پر کیا کیا آفتیں نہیں آئیں۔ کشمیر کی جنگ، ایوب کا مارشل لاء اور جمہوری تسلسل کا خاتمہ، 1965 کی جنگ، 1971 کی جنگ میں ملک کا ٹوٹنا، 1979 میں افغان جہاد میں پورے خطے کا جنگ کا ایندھن بن جانا۔ لیکن اس سب کے باوجود 1990 تک یہ ملک ترقی کی سیڑھیاں چڑھتا چلا جا رہا تھا اور یہ دنیا کی دس ترقی پذیر معیشتوں میں شامل تھا۔ 1988 میں اس ملک نے پہلا جمہوری تسلسل دیکھا جو گیارہ سال تک چلا۔ لیکن اس عرصے کو میرے ملک کا دانشور، تسلسل نہیں مانتا، کیونکہ یہ حکومتیں اپنا جمہوری عرصہ مکمل نہیں کر پائی تھیں۔ اس کے بعد مشرف بھی آگیا، تسلسل ٹوٹ گیا اور یہ ملک ایک جمہوری نعمت کی "برکات" سے محروم کر دیا گیا۔ آئیں 1947 سے 2007 تک جمہوری تسلسل کے بغیر پاکستان کے پہلے ساٹھ سال اور تسلسل والے دس جمہوری سالوں کا موازنہ کرتے ہیں۔ پہلے ساٹھ سالوں میں تمام حکومتوں نے مل کر اس قوم کو 40.3 ارب کا مقروض کیا۔ ان قرضوں سے وارسک، تربیلا اور منگلا ڈیم، ڈھاکہ اور کراچی کی سٹیل ملیں اور بے شمار ایسے منصوبے بنے جو اپنا قرض اتارنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور انہوں نے زراعت اور صنعت میں انقلاب پیدا کیا تھا۔ انہی سالوں میں پاکستان نے اپنا 60 ارب ڈالر کا ایٹمی پروگرام بھی جاری رکھا اور دنیا کے نقشے پر ایٹمی قوت بن گیا۔ پہلے ساٹھ سالوں کے یہ تمام قرضے گنے جاسکتے ہیں کہ کہاں کہاں لگائے گئے اور انہوں نے ملکی معیشت کو کتنا فائدہ پہنچایا۔ اب ذرا جمہوری تسلسل کے دس سالوں کی جانب آتے ہیں۔ زرداری حکومت کے پہلے پانچ سالوں میں 20.6 ارب ڈالر قرضہ لیا گیا اور وہ ملک کو 60.9 ارب ڈالر کا مقروض کرکے چھوڑ گئے۔ کوئی سوال پوچھے کہ تم نے یہ سرمایہ خرچ کہاں کیا تو جواب ندارد۔ اب ذرا ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگانے والے نوازشریف کے پانچ سالوں کو دیکھیں تو انہوں نے 34.1 ارب ڈالر قرضہ لیا اور پاکستان کو 95 ارب ڈالر کا مقروض کر دیا۔ جاتے جاتے جو بجٹ مسلم لیگ نون کے غیر منتخب وزیر خزانہ نے پیش کیا، اس کے مطابق پاکستان کو اگلے سال 13 ارب ڈالر کا قرض لینا پڑے گا۔ وہ اس لیے کہ ہمیں ان "جمہوری شہنشاہوں" کے لیے گئے قرضوں کے سود وغیرہ کی قسط کی ادائیگی کے لئے 17 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ لیکن اس سارے قرضے میں کوئی ایک منصوبہ بھی ایسا نہیں ہے جو اس کی واپسی کیلئے آمدن حاصل (باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں) کر سکتا ہو، جیسے منگلا اور تربیلا وغیرہ جو پورے ملک کے لئے فائدہ مند تھے۔ اس کے مقابلے میں لاہور اور راولپنڈی کے چند کلو میٹر کے لئے میٹرو جیسی فضول خرچی کی گئی جسے چلانے کے لئے ہم روزانہ ایک کروڑ روپے پلے سے دے رہے ہیں۔ یاد رکھیں ان 95 ارب ڈالر کے قرضوں میں سی پیک کا قرضہ شامل نہیں۔ یہ "جمہوری تسلسل" کے پرستار گذشتہ چار پانچ دہائیوں سے فوجی بجٹ کو پاکستان کی معیشت کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فوج سب کچھ کھا جاتی ہے۔شاید اسی ایجنڈے پر عمل ہوا کہ ان دس سالوں میں ان جمہوری حکومتوں نے ملک کو اتنا مقروض کر دیا ہے کہ اب یہ ملک آئندہ سالوں میں اپنے دفاع کے لئے بھی سرمایہ نہیں نکال سکے گا۔ 2018 کے بجٹ میں 30.7 فیصد (1.667 ٹریلین) رقم قرضے کی ادائیگی کے لئے ہے اور 23 فیصد (1.2 ٹریلین) دفاع کے لیے رکھی گئی ہے۔ ان دس سالوں میں اس جمہوری تسلسل کے نتیجے میں جنم لینے والی حکومتوں نے جس قرضے کی دلدل میں ملک کو پھنسا دیا ہے اس کی ادائیگی ہر سال اس قدر بڑھتی جائے گی کہ آج جو 45 فیصد بجٹ عوام پر اور 23 فیصد اسی عوام کے دفاع پر خرچ ہو رہا ہے، اتنا سرمایہ بھی نکالنا ممکن نہیں رہے گا۔ ایسے میں اس ملک میں صرف ایک ہی نعرہ باقی بچے گا جمہوری تسلسل اور ووٹ کی عزت۔ بھوکے، ننگے، بیمار، جاہل، کمزور، لاچار اور غیر محفوظ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام سر بلند ہو کر اعلان کریں گے دیکھو ہم نے بھوک، ننگ بیماری اور جہالت اوڑھ کر جمہوریت خرید لی۔ کتنا مہنگا سودا کیا ہم نے۔ ہمیں سقراط کے ایتھنز میں دفن کرو جہاں سے جمہوریت نے جنم لیا تھا۔