لوجی کرلو بات! ہم 80 سالہ نوجوانوں کو روتے تھے کہ یہ آخری عمر میں سیاست کیا کریں گے مگر بنوں میں 100 سالہ دوشیزہ حضرت بی بی نے دو حلقوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا اور کاغذات نامزدگی بھی جمع کروا دیئے مگر آج ہمارا موضوع عمر رسیدہ امیدوار نہیں بلکہ ٹکٹوں کی تقسیم اور لیڈروں کی مجبوریاں ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف پی ٹی آئی کے کارکنوں ہی نے زیادہ احتجاج کیا ہے کتنے ہی لوگ بنی گالہ جا پہنچے اور پیرا شوٹرنامنظور کے نعرے لگاتے رہے۔ صد شکر کہ عمران خود سامنے آ گئے اور کہا ہے کہ کارکن ٹکٹ نہ ملنے کی شکایت بھیجیں وہ خود سب کا جائزہ لیں گے۔ چلیے ایک امید تو بندھی۔ خان نے کہا کہ انہوں نے جان بوجھ کر کبھی کسی دیرینہ وفادار کارکن سے ناانصافی نہیں کی۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ خان صاحب کی تقریر جو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوئی اور بری طرح وائرل ہوئی اور اس پر جتنی منہ اتنی باتیں۔ وہ تقریر میں نے خود سنی کہ جس میں کارکنوں کے نظرانداز ہونے کی وجوہات بتائی گئی ہیں۔ خان صاحب اپنے بھول پن میں کیا کچھ کہہ جاتے ہیں اور دشمن ان کی باتیں اچک کر خلاف کمپین شروع کردیتے ہیں۔ اس ویڈیو میں خان صاحب نے الیکشن کو ایک سائنس قرار دے دیا اور اس میں غلط بھی نہیں کہ یہ واقعتاً ایک سائنس ہی ہے کہ اس میں دھاندلی فارمولے چلتے ہیں۔ میں یہ بات اپنے پہلے کالم میں بھی لکھ چکا ہوں۔ وہی خان صاحب نے کہا کہ وفادار کارکن ہونا یا نظریاتی ہونا الگ بات ہے اور الیکشن جیتنا ایک بالکل الگ بات۔ وہ روا روی میں یہ بھی کہہ گئے کہ ہو سکتا ہے کوئی کرپٹ ہو مگر وہ الیکشن کی سائنس جانتا ہو۔ کہنے لگے کہ الیکشن کے لیے 300 تو پولنگ ایجنٹ ہی چاہئیں اور دوسرے لوازمات بھی۔ یاروں نے کرپشن کی بات کو پکڑ کر خوب خوب ڈھنڈورا پیٹا۔ آپ بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اصل میں خان صاحب نے اپنے تجربے اور دوستوں کے مشورے سے فیصلہ کیا ہے کہ لوہے کو لوہے سے کاٹا جائے۔ اس لوہے کو کاٹنا ہے جو اب سونا بن چکا ہے۔ سو سنار کی اور ایک لوہار کی بھی آپ نے سن رکھی ہوگی۔ خان صاحب نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ ’’پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر‘‘۔ مگر یہ شاید صرف شاعرانہ بات ہے۔ یہاں کرپشن سے کرپشن کو مارنا ہی رائج ہے۔ دشمنوں نے اس بات پر گرد اڑائی ہے کہ خان صاحب جن لوگوں کے خلاف انقلاب لا رہے تھے اب وہ سب خان صاحب کے ساتھ ہیں اور انقلابی کارنر کردیئے گئے۔ ویسے نوازشریف عمران خان کی چال سے پریشان ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خان کسی نہ کسی طرح اقتدار میں آنا چاہتا ہے۔ ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ طوعاً و کرہاً آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور اقتدار میں آ کر کسی کو کرپشن کی اجازت ہی نہیں دیں گے۔ نوازشریف تبھی تو سوچتے ہیں ’’ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہوگیا۔‘‘ بس آپ یوں سمجھ لیں کہ خان اکھاڑے میں وہی دائو پیچ استعمال کر رہے ہیں جو نوازشریف لوگ استعمال کرتے رہے اور جیتتے رہے۔ اسی بات کا ان کو قلق ہے کہ پی ٹی آئی کو بھی چاہیے تھا کہ وہ جماعت اسلامی کی طرح اخلاقیات کا لیکچر دیتے رہتے اور بے لچک رہتے اور وہ ’’کھل جا سم سم‘‘ کا منتر نہ جان سکتے۔ ان کے ہاتھ جیتنے کی کلید نہ آتی۔ اس بات کے تو ہم حق میں ہیں کہ اپنے وفادار کارکنوں کو کسی بھی صورت خان کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کو مطمئن کرنا از حد ضروری ہے۔ بعض کارکنوں کی باتیں سن کر تو ہمیں ترس آ رہا تھا۔ فیصل آباد کا ایک امیدوار تو یہاں تک کہہ گیا کہ میں ہر ریلی میں اور جلسے میں مرغیاں ذبح کرواتا اور پکواتا رہا۔ مجھے اتنا بھی پتہ چل گیا ہے ایک مرغی کا سالن کتنے لوگوں کے لیے ہوتا ہے اور یہ کہ میں تو یہ کام کرتے کرتے نائی بن گیا ہوں۔ اب جب علی محمد جیسا بندہ نظر انداز ہوا تو ٹی وی ویور تک سکتے میں آ گئے کہ وہ لوگ جو پی ٹی آئی کی اساس تھے چن چن کر نشانہ آخر کیوں بنائے گئے۔ خان صاحب ہوا میں عمارت نہیں بنتی۔ جو دوسروں کو چھتریوں سے اڑ کر آئے ہیں وہ آپ کے نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ کارکن کہیں: اپنا تو اصل زر سے بھی نقصان بڑھ گیا سچ مچ کا عشق مر گیا اک دل لگی کے ساتھ خان صاحب فیض نے کہا تھا ’’بہت ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی‘‘ آپ کو اصل کارکنوں سے دور کردیا گیا ہے۔ آپ نے اچھا فیصلہ کیا کہ خود ان کی گزارشات پر غور کرنے کا سوچا۔ آپ کے خلاف پروپیگنڈا بہت زبردست ہے اور اس مقصد کے لیے نوٹوں کی بوریوں کے منہ کھول دیئے گئے ہیں۔ اس مقصدکے لیے دشمنوں کے پاس بہت پیسہ ہے۔ خود شیخ رشید نے رونے کے ساتھ حلفاً کہا کہ جب وہ نوازشریف کے ساتھ تھے تو سیتا وائٹ کیس کو اچھالنے و الوں کے لیے ساڑھے اٹھارہ لاکھ روپے ادا کئے گئے تھے اور اسی طرح خفیہ فنڈ سے پیسے دیئے گئے اور حسین حقانی نے کسی کے جعلی دستخط ایسے کئے کہ اصل کو مات دے رہے تھے۔ ویسے ہمیں تو شیخ رشید کی وہ ’’گل گفتاری‘‘ بھی یاد ہے جو وہ نوازشریف کو خوش کرنے کے لیے بے نظیر کے خلاف استعمال کرتے تھے۔ اس وقت شیخ صاحب نوازشریف کے ایک میزائل تھے، گائیڈڈ میزائل۔ ن لیگ کے پروپیگنڈے کا توڑ صرف ایک ہی جماعت ہے وہ ہے ایم کیو ایم، ان کو مگر اپنی پڑی ہوئی ہے۔ ن لیگ پراپیگنڈا میں بھی پی ٹی آئی سے آگے ہے اور سیاست میں بھی۔ اب دیکھئے وہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ بیک ڈپلومیسی کے ذریعہ پیپلزپارٹی کو ایک مرتبہ پھر شیشے میں اتارا جائے۔ اصل میں وہ کسی بھی صورت میں عمران خان کاراستہ روکنا چاہتے ہیں۔ زرداری صاحب مگر سوچتے ہیں کہ وہ اس چکر میں سندھ سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ اب دیکھئے شہبازشریف نے کراچی سے تین جگہ الیکشن لڑنے کا اعلان کر کے یوٹرن کیوں لیا۔ کیا یہ خیر سگالی کا اشارہ ہے یا کیا ہے۔ ویسے بھی یہ لوگ وہاں پیسہ نہیں لگاتے جہاں حاصل حصول کچھ نہ ہو۔ دوسری بات یہ کہ وہ لاہور کے قلعے کو نہیں چھوڑ سکتے۔ شہبازشریف نے یقینا یہاں کام کیا ہے اور ان کا یہاں ووٹ بینک بھی ہے۔ جہاں تک کام کا تعلق ہے پی ٹی آئی کے لوگوں نے بھی لوگوں سے خوب رابطے رکھے ہوئے ہیں۔ یاسمین راشد تو ہارنے کے بعد بھی ڈور ٹو ڈور گئی تھیں اور اسی حولے سے انہیں اخلاقی برتری حاصل ہے وہ بہت دلیر، ثابت قدم اور تہذیب یافتہ خاتون ہیں۔ ایسے لوگوں کو آگے آنا چاہیے۔ بہرحال کچھ ایڑھیاں تو رگڑنا ہی پڑیں گی۔ ’’مجھے یقین ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا۔‘‘پی ٹی آئی والے لوٹوں سے پریشان نہ ہوں۔ استعمال کی یہ چیز سب کو مرغوب ہے۔ ان کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ان کو عوامی سپورٹ حاصل ہوتی ہے اور یہ اسی جماعت کا رخ کرتے ہیں جو جیت رہی ہوتی ہے۔ ’’استخارہ‘‘ کرلیتے ہیں۔ وہ خان صاحب کو یقین دلا چکے ہیں کہ: استخارے میں کچھ آیا نہیں تیرے سوا نام تیرا درودیوار پکارے سارے خان صاحب کو چاہیے کہ وہ چوہدری نثار کو ساتھ ملانے کی کوشش کریں اور یہ دعا کرتے رہیں کہ چوہدری نثار اپنا منہ کھول دے کیونکہ چوہدری صاحب نے خود کہا ہے کہ اگر انہوں نے منہ کھول دیا تو شریف کہیں کے نہیں رہیں گے۔ خیر شریف شریف تو پہلے ہی نہیں، پھر یہ کہیں کے بھی نہیں رہیں گے۔ چلیے میرے پیارے قارئین دو شعروں کیساتھ آپ سے اجازت: اپنا طریق کار بدلنے نہیں دیا دل نے کوئی نظام بھی چلنے نہیں دیا گردش میں ہم رہے ہیں تو اپنا قصور کیا تو نے ہمیں کشش سے نکلنے نہیں دیا