روزنامہ 92نیوز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق نیب نے 1ارب 40کروڑ ڈالر مالیت کے تھری اور فور جی لائسنس کے غیر قانونی اجرا اور ممکنہ بدعنوانی پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سابق وزیر مملکت برائے انفارمیشن انوشہ رحمن سمیت دیگر افراد کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیاہے۔ گزشتہ پانچ سال سیاستدانوں‘ حکمرانوں اور نوکر شاہی نے دیگر مفاد پرست طبقے کے ساتھ مل کر لوٹ مار کا جو بازار گرم کیے رکھا اس کی پرتیں آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آ رہی ہیں، وزارت خزانہ اور انفارمیشن کے کرتا دھرتائوں نے ٹیلی کام کمپنیوں سے پس پردہ معاملات طے کیے جس سے کھلی بولی کا عمل متاثر ہوا جبکہ وزیر مملکت برائے انفارمیشن نے کمپنیوں کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے بھی اپنے ماتحت محکمے میں منظور نظر افسران کا بھاری معاوضے پر تقرر کیا۔ سابق حکومت کا آئے روز لوٹ مار کا کوئی نہ کوئی کارنامہ میڈیا کی زینت بنتا ہے لیکن اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی قیادت بڑی ڈھٹائی سے کہتی ہے کہ پانچ سالہ دور حکومت میں کرپشن کا کوئی کیس نہیں۔ عدم شفافیت کی جو مثالیں سابق حکومت نے پیش کی ہیں اس سے ملک خرابیوں کا شکار ہوا ہے ان کی لوٹ مار اور ورکرزکے استحصال کی بنا پر ہی بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں جماعت کودھچکا لگا لیکن انہیں پھر بھی عقل نہ آئی اور ملک میں انتشار اور عدم استحکام کو پروان چڑھایا جس کا مقصد اپنی پانچ سالہ کرپشن کو تحفظ دینا اور مظلوم بن کر اپنے آپ کو عوام میں پیش کرنا تھایہ درست ہے کہ اس وقت نیب بہت سارے مقدمات کو دیکھ رہی ہے لیکن اسے ان معاملات کو لٹکانا نہیں چاہیے بلکہ ہنگامی بنیادوں پر تمام مقدمات کو نمٹانا چاہیے تاکہ کرپٹ اور راشی مافیا سے سیاست کو پاک کر کے نئے صاف ستھرے اور بے داغ ماضی کے حامل افراد کو سامنے لایا جائے جو حکومتی عہدوں پر بیٹھ کر ملک کی باگ ڈور بہتر انداز میں سنبھال سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ تھری جی اور فور جی کے لائسنس کی نیلامی میں جو خامیاں سامنے آئی ہیں ان کی فی القور تحقیق کر کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔