لاہور( سپورٹس ڈیسک )قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کوچ وقار یونس نے پاکستان کے موجودہ کپتان سرفراز احمد کو کھیل کے طویل فارمیٹ میں اپنی بیٹنگ کو بہتر بنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاہے کہ ہمارے پاس ٹیم کے کپتان کے لیے کوئی اور انتخاب نہیں۔ ایک انٹرویومیں وقار نے کہا کہ اگر سرفراز احمد کو تینوں فارمیٹس میں قومی ٹیم کی قیادت کرنی ہے تو انہیں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہو گا۔ ہمارے پاس ٹیم کے کپتان کے لیے کوئی اور انتخاب نہیں لیکن سرفراز کو خصوصا ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہو گا کیونکہ اگر ہم دو نوجوان آل رانڈر کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں تو سرفراز کو چھٹے نمبر کے بلے باز کے طور پر اپنا کھیل بہتر بنانا ہو گا۔سرفراز کو ذمے داری لیتے ہوئے بیٹنگ بہتر بنانا ہو گی، محدود اوورز میں ان کی کارکردگی بہتر ہے لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں بلے سے ان کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے کپتان کی بیٹنگ پر تنقید کے باوجود وقار یونس نے کہا کہ پاکستان کی قیادت کے لیے سرفراز احمد ہی سب سے بہتر انتخاب ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ سرفراز اس مشکل وقت سے نکل آئیں گے ، جہاں تک تینوں فارمیٹس میں ٹیم کی قیادت کا تعلق ہے تو میں ان کو ہی کپتان برقرار رکھنے کے حق میں ہوں تاہم مستقبل میں ان کے متبادل کے لیے اپنی آنکھیں کھلی رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔وقار نے فاسٹ بالر محمد عباس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں وہ مختلف کنڈیشنز میں کامیاب رہیں گے کیونکہ اس سطح پر اس پیس کے حامل بالرز اگر عقلمندی سے بالنگ کریں تو جگہ بنا لیتے ہیں۔ عباس نے کچھ عرصہ قبل ویسٹ انڈیز میں کھیلا تھا تو ابتدا میں مجھے لگا کہ یہ ان کنڈیشنز میں مشکلات سے دوچار ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا اور وہ نئے اور پرانے دونوں گیندوں سے یکساں اور موزوں بالر ہیں اور وکٹیں لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔فاسٹ بالر محمد عامر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد سے محمد عامر بدقسمت رہے ہیں۔ میرے خیال میں عامر کی بالنگ میں کوئی مسئلہ نہیں بلکہ وہ اس وقت اپنے کیریئر کی بہترین بالنگ کر رہے ہیں ،وہ اپنے کھیل پر بھی کام کر رہے ہیں لیکن وہ کچھ بدقسمت رہے ہیں۔