اسلام آباد ( خبر نگار خصوصی) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ آزاد عدلیہ کا مطلب یہ ہے کہ انصاف سب کیلئے ہو، پرویز مشرف سمیت کوئی سیاسی لیڈر اور جر نیل قانون سے بالاتر نہیں ۔ انصاف سے محروم معاشرے زیاد ہ دیر تک قائم نہیں رہتے ۔ الیکشن کمیشن آئین کی دفعہ 62،63پر عمل درآمد کو یقینی بنائے ۔ تیمرگرہ میں ڈسٹرکٹ بار کے صدر کفایت یار کی قیادت میں ملاقات کرنیوالے وکلاکے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی کے خواب کو حکمرانوں اور اسٹیٹس کو کی قوتوں نے کبھی بھی شرمند ہ تعبیر نہیں ہونے دیا۔غریب کو کبھی انصاف نہیں ملا اور تھانے کچہری پر ہمیشہ جاگیرداروں،وڈیروں اورسرمایہ کاروں کا قبضہ رہا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ عدلیہ نے عوام کے اندر امید کی کرن پیدا کی لیکن پانامہ لیکس کے بعد شروع ہونیوالے احتسابسے عوام نے جو توقعات لگائی تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کے 436ملزمان کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کا میکنزم بنایا جائے ۔ سراج الحق نے کہا کہ عوام کی نظر یں 2018کے انتخابات پر لگی ہوئی ہیں ۔الیکشن کمیشن اگر اپنے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرانے میں کامیاب ہوگیا تو قوم کی چوروں اور لٹیروں سے جان چھوٹ جائے گی ۔