روزنامہ 92نیوز کی خبر کے مطابق نجی حج کمپنیوں کی جانب سے وزارت مذہبی امور کے حکام سے مبینہ مالی ساز باز کر کے نامکمل کاغذات اور جعلی دستاویزات پر حج کوٹہ لینے کا انکشاف ہواہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں منظر عام پر آنے والے حج سکینڈل جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سمیت متعدد اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف مقدمات درج ہوئے، اس کے بعد سے وزارت مسلسل مختلف الزامات کی زد میں ہے۔2017ء میں سپریم کورٹ کی طرف سے نجی ٹور آپریٹرز کو حج کوٹہ کی غیر منصفانہ تقسیم کا نوٹس لینا پڑا ۔سپریم کورٹ کے سینئر جج جناب جسٹس اعجاز افضل نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ صرف مخصوص کمپنیوں کو کوٹہ جاری کرنے کو صریحاً میرٹ کی خلاف ورزی ہے۔ معزز عدالت نے وزارت مذہبی امور کو حکم دیا تھا کہ پرانی اور نئی حج ٹور کمپنیوں کو قانون اور انصاف کے مطابق برابری کی بنیاد پر کوٹہ جاری کیا جائے۔ بدقسمتی سے عدالت نے کیسز کا فیصلہ تو قانون کے مطابق صادر کر دیا مگر اس وقت بھی عدالت کی توجہ وزارت مذہبی امور میں موجود بدعنوان کالی بھیڑوں کی طرف نہ دلوائی جا سکی جس کی وجہ سے قانون سے کھلواڑ کرنے والے قانون کے شکنجے سے بچنے میں کامیاب ہو گئے ۔یہی وجہ ہے کہ اب جعلی دستاویزات پر حج کوٹہ الاٹ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہاں تک کہ چمک کے زور پر ایسے آپریٹر کو بھی کوٹہ الاٹ کر دیا گیا جو ایاٹا لائسنس ہولڈر بھی نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جعلی دستاویزات پر حج کوٹہ حاصل کرنے والے جتنے مجرم ہیں اتنے ہی فرائض سے غفلت برتنے والے گناہ گار وزارت مذہبی امور کے ارباب اختیار بھی ہیں۔ بہتر ہو گا حکومت اس معاملہ کی نہ صرف تحقیقات کروائے بلکہ جعلی دستاویزات پر حج کوٹہ حاصل کرنے والوں کے ساتھ وزارت مذہبی امور کے رشوت خور اہلکاروں کے خلاف بھی بھر پور قانونی کارروائی کی جائے تاکہ ادارے کو گندی مچھلیوں سے پاک کر کے کرپشن کا قلع قمع ممکن ہو سکے ۔