کراچی میں متحدہ کی باہمی دھڑا جنگی جاری ہے اور ایک دھڑے کے سربراہ فاروق ستار نے مخالف دھڑے کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جھوٹ بولے مگر اس کی ایک حد مقرر کرے۔ یعنی جھوٹ بولنا تو بری بات نہیں ہے حد سے زیادہ بولنا بری بات ہے۔ جیسے شکر کا استعمال برا نہیں حد سے زیادہ بری بات ہے۔ سیاست کی مجبوری ہے ‘ اس کی گاڑی جھوٹ کے پہیوں کے بنا آگے چل ہی نہیں سکتی۔ ہر پارٹی حسب توفیق اور حسب استعداد و صلاحیت جھوٹ بولتی ہے اور اب تو کمپیوٹر کا زمانہ ہے‘ ورچوئل ریالٹی کا دور ہے‘ بعض جھوٹ ورچوئل ریالٹی کے تحت سچ میں بدل جاتے ہیں جیسے عمران خاں نے کہا ایک ارب درخت لگا دیے کسی نے کہا صاف جھوٹ ‘ دوسرے نے ٹوئٹر ہینڈل دکھا دیے یہ دیکھو یہاں لگے ہیں۔ صاف جھوٹ کہنے والے کو شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جس شے سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں‘ اسے ریگولر کر دینا چاہیے فاروق ستار کی تجویز بروقت اور قومی ضرورت ہے۔ مناسب ہے ایک کمشن بنا دیا جائے جو ہر سیاسی جماعت یا ہر دھڑے کے لیے ایک حد مقرر کرے کہ بھئی اس حد سے زیادہ جھوٹ بولا تو نااہلی کا سامنا ہو گا۔ کمشن کی سربراہی کے لیے عمران خان سے بڑھ کر اور کوئی نام نہیں ہو سکتا کہ اس بات میں جبرالٹر اور آبنائے ملا کا کے درمیانی علاقے میں ان سے بڑا فنی ماہر اور کوئی نہیں۔ ٭٭٭٭٭ میڈیا کے دانشوروں اور ریٹائرڈ بزرگواروں کی اکثریت یہ کہا کرتی تھی اور کہا کرتی ہے کہ نواز شریف اداروں سے تصادم کا راستہ اختیار نہ کرتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ لیکن ان کی یہ فیکٹ فائنڈنگ شہباز شریف کے معاملے میں تو دھری کی دھری رہ گئی وہ تو تصادم اور محاذ آرائی کے سراسر خلاف اور سراپا مصالحت و نیاز ہیں۔ پھر بھی ان کے لیے اور ان کی فیملی کے لیے ’’جون‘‘ شروع ہو گیاہے، چلچلاتی دھوپ والا جون۔ کہنے کو کہا جا سکتا ہے کہ انہیں شامت کا نہیں ‘ شامت اعمال کا سامنا ہے لیکن ایک اور سچ ہے جو ریٹائرڈ بزرگواران بتانے سے رہ گئے۔ وہ یہ ہے کہ شہباز نے نثار کی سکیم نہیں مانی۔ نثار کی سکیم نئی مسلم لیگ بنانے کی تھی۔ مسلم لیگ (ش ن) ش صاحب صدر ہوتے اور نثاری نون وزیر اعظم۔ قوم کو درپیش بحران بھی ٹل جاتا اور شہباز فیملی کے لیے بھی سارا سال مارچ اپریل ہی رہتا۔ جون کے بعد تو جولائی بھی ہے لیکن شہباز نے بھی نواز کی طرح اپنے پائوں پر کلہاڑی خود ہی مار لی اور نثار سکیم نہ صرف رد کر دی بلکہ نثار کو بچہ بھی کہہ دیا اب بھگتیں۔ ٭٭٭٭٭ نثار کو بچہ کہنا گرائمر کے لحاظ سے کیا ٹھیک ہے؟ ستر سال کے وہ ہونے کو آئے اور شہباز نے انہیں بچہ کہہ دیا۔ بہت پہلے کی بات ہے ایک اشتہار آیا کرتا تھا جس میں بتایا گیا کہ تھا کہ بچے اور بوڑھے ایک جیسے ہوتے ہیں‘ دونوں کو خاص نرم غذا اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک مضمون بھی پڑھا تھا کہ بوڑھا ہونے کے بعد آدمی پھر سے بچہ ہو جاتا ہے اور کھیڈن کے واسطے چاند مانگنے لگتا ہے اس لحاظ سے تو شہباز نے غلط نہیں کہا اگر بچہ کہہ دیا لیکن جس انداز سے کہا ہے وہ غلط ہے۔ انہوں نے تو نثار کو ان کے سارے تدبر اور حکمت سمیت مسترد کر دیا۔ نثار کی ’’میں‘‘ ہمالیہ سے اونچی سمندروں سے گہری ہے اس میںکے جذبات مجروح کر کے شہباز نے گویا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ نثار کے پاس اب بھی راستوں کی کمی نہیں اس طرح مسترد کیے جانے کے بعد وہ قاف لیگ ‘ انصاف لیگ ‘ کمال لیگ کسی بھی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں اور ایک سے زیادہ ٹکٹ بھی لے سکتے ہیں۔ جیتنے کے لیے البتہ اڑن طشتریوں کی ضرورت پڑے گی۔ بہم ہو گئیں تو جیت پکی ہے ورنہ ہار میں تو کلام ہی نہیں۔ ٭٭٭٭٭ نگران وزیر اعظم ناصر الملک نے سوات میں ایک بار پھر کہا ہے کہ الیکشن ہر قیمت پر بروقت ہوں گے یعنی 25جولائی کو، کسی شیخ جی کو کیا کہیے ‘ ان کا تازہ بیان پھر وہی ہے کہ الیکشن کو ملتوی ہوتے دیکھ رہاہوں۔ ملک کی سبھی بڑی پارٹیاں ماسوائے ایک کے الیکشن میں التوا کی مخالف ہیں اور ان کے بیانات آ چکے ہیں کہ التوا کی مزاحمت کی جائے گی۔ ماسوائے ایک وہ ہے جس کا ذکر نواز شریف نے بھی کیا ہے۔ قدرے حیرانی کے ساتھ کہ وہ پارٹی جو چار سال قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرتی رہی اب بروقت الیکشن سے بھاگ کیوں رہی ہے۔ اب کیوں کا جواب سبھی کو معلوم ہے اور سپیکر ایاز صادق ایک روز پہلے دے بھی چکے ہیں۔ بہرحال ایک دو چھوٹی جماعتیں جو تین میں ہیں نہ تیرہ میں‘ بدستور الیکشن کے التوا کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ خاص طور سے سندھ کا جی ڈی اے اس کے رہنما ارباب غلام رحیم جنہیں سندھ میں جام صادق ثانی بھی کہا جاتاہے‘ التوا کے حق میں بڑی زور دار دلیل لائے ہیں۔ کم سے کم چار مہینوں کے التوا کا مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قرآن پاک میں کہاں لکھا ہے کہ الیکشن ملتوی نہیں ہو سکتے۔ اب جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ہی ان سے جوابی سوال پوچھ لیں کہ قرآن میں بھی یہ بھی کہاں لکھا ہے کہ الیکشن لازماً ملتوی کیے جائیں۔ الیکشن آج ہوں یا چار ماہ بعد ‘ جی ڈی اے کو ملنے والی سیٹوں یک گنتی تبدیل نہیں ہو گی۔ ہاں ‘ اڑن طشتریوں کی بات اور ہے‘ وہ چاہیں تو جی ڈی اے کو چار کے بجائے پانچ سیٹیں بھی دلا سکتی ہیں۔ لیکن خیال رہے جام صادق کب کے آنجہانی ہو چکے جو الیکشن سے ایک رات قبل ڈبوں میں بیس بیس تیس تیس ہزار ووٹ بھرنے کی مہارت رکھتے تھے۔ ٭٭٭٭٭ کراچی سے ایک دلچسپ خبر ہے جسے ڈاکوئوں کا احترام رمضان پیکیج کہا جا سکتا ہے۔ ڈاکو بھائی شکار کا انتظار کرتے ہیں۔ جونہی سامنے آتا ہے آگے بڑھ کر جھکتے ہوئے سلام کرتے ہیں۔ حال چال پوچھتے ہیں۔ یہ بھی استفسار کرتے ہیں کہ روزے کیسے چل رہے ہیں۔ اچھا تراویح پڑھ کر آ رہے ہیں۔ کتنی پڑھیں ۔ آٹھ کہ بیس۔ اللہ برکت کرے ایسے بے حساب رمضان آپ کو نصیب کرے۔ اچھا‘ اب تکلیف فرمائیے‘ جیب میں جو موبائل دھرا ہے وہ براہ کرم ہمیں عنایت فرما دیجیے۔ اللہ آپ کا بھلا کرے گا۔ اچھا‘ وہ جو اس جیب میں نقدی ہے اسے بھی ادھر لائیے۔ خدا خوش رکھے‘ چلتے ہیں۔ امید ہے پھر ملاقات ہو گی۔ ڈاکے تو ختم نہیں ہو سکتے۔ سٹریٹ کرائم میں ماشاء اللہ کراچی پہلے ہی دنیا بھر میں پچھلے کئی برسوں سے اول نمبر پر آ گیا ہے۔ اتنی تبدیلی بھی خوشگوار ہے جو کراچی کے ڈاکو بھائیوں کے مزاج میں آ گئی۔ ان سے گزارش ہے کہ یہ پیکیج رمضان کے بعد بھی جاری رکھیں۔ ٭٭٭٭٭ پتہ نہیں‘ کیا بات ہے عمران خان آج کل مخالفوں کو ویسا ترکی بہ ترکی جواب نہیں دے رہے جیسا دیا کرتے تھے۔ شاید ریحام خاں کی متوقع سکائی لیب کا ڈر ہے۔اب دیکھ لیجیے شہبازشریف کب سے کہہ رہے ہیں کہ موقع ملا تو پشاور کو لاہور بنا دوں گا۔ خان صاحب نہ سہی ‘ ان کے الیکٹیبل نائبین میں سے ہی کوئی یہ دندان شکن جواب کیوں نہیںدے دیتا کہ ہمیں موقع ملا تو لاہور کو پشاور بنا دیں گے۔