دی گریٹ خان کو اپنے ساتھ یوٹرن کا لاحقہ لگانے کے لیے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ کے حالیہ اقدامات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ یاتو وہ سرے سے سوچتے ہی نہیں یا بلا سوچے سمجھے فیصلے کر لیتے ہیں ’’لیڈر‘‘ کے لفظی معنی تو یہی ہوتے ہیں کہ جو لیڈ یا دوسرے لفظ میں قیادت اور رہنمائی کرنے کا اہل ہو۔ یہاں تو لگتا ہے کہ الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ سوشل میڈیا اورمیڈیا کے وہ حصے جس نے ہر شریف آدمی کی پگڑی اچھالنا وتیرہ بنالیا گیا ہے، یہ خان صاحب کو انگلی سے پکڑ کر چلا رہے ہیں۔ یار لوگوں کا ماتھا اس وقت ٹھنکا جب عمران خان نے خیبرپختونخوا میں نگران وزیراعلیٰ کے لیے منظور آفریدی کے نام پر اتفاق ہونے کے بعد اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا۔ عمران خان کے قریبی حلقوں کا کہنا تھا کہ یہاں دال میں کچھ ضرور کالا تھا کیونکہ آفریدی کو لانے کے لیے جمعیت علمائے اسلام (ف) اور تحریک انصاف کے لوگوںکے درمیان مبینہ طور پر مال چلا ہے۔ یہ باتیں تو پارٹی کے سربراہ کے پہلے سوچنے کی ہیں لیکن مشہو ر مزاحیہ ناول نگار شفیق الرحمان کے افسانوں حماقتیں اور پھر مزید حماقتیں کے مترادف پنجاب میں ناصر کھوسہ کے معاملے میں تو حد ہی ہو گئی۔ ناصر کھوسہ اچھی شہرت کے حامل صاف شفاف بیو روکریٹ ہیں ۔جب پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے لیڈر آف اپوزیشن محمود الرشید کی منظوری سے بطور نگران وزیراعلیٰ ان کا نام تجویز کیا گیا تو شہباز شریف نے فورًا ’جی آیاں نوں‘ کہا۔غالباً شہباز شریف نے یہی سوچا ہوگا کہ اگر تحریک انصاف کے تجویز کردہ نگران وزیراعلیٰ بنتے ہیں تو آئندہ انتخابات میں 35 پنکچرجیسے الزامات نہیں لگیں گے جو عمران خان نے نجم سیٹھی پر لگائے تھے۔ اس کے بعد سوشل میڈیا اور میڈیا کے مخصوص حصے میں ہاہا کار مچ گئی۔ واشنگٹن میں بیٹھے بزعم خود بقراط شاہین صہبائی نے یہ انکشاف کر ڈالا کہ ناصر کھوسہ کی امریکہ میں کوئی جائیداد ہے حالانکہ جائیداد ہونا کوئی گناہ نہیں بلکہ اسے چھپانا گناہ ہے۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن پہلے ہی اعلان کرچکا ہے نگران وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ سمیت تمام وزرا کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کی جا ئے گی۔ دوسرا الزام ان پر یہ عائد کیا گیا کہ وہ تو ’’شر یفوں‘‘ کے خاص آدمی ہیں کیونکہ میاںنواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری رہے، پنجاب میں چیف سیکرٹری کے طور پر کام کر چکے اور حا ل ہی میں ورلڈبینک میںپاکستان کی نمائندگی کرنے کے بعد وطن واپس لو ٹے ہیں۔ کیا یہ باتیں عمران خان کی نظروں سے اس وقت اوجھل تھیں جب انھوں نے ناصر کھوسہ کا انتخاب کیا۔ شا ید ہی کوئی ایسا سینئر بیوروکریٹ ہو جس نے شریف برادران کی حکومت میںکام نہ کیا ہو کیونکہ گزشتہ 30برس کے دوران وہ مختلف مراحل میں برسر اقتدار رہے ہیں۔ دیکھنے والی بات تو یہ تھی کہ آیا کھوسہ صاحب کا شمار ان پیارے بیورو کریٹس میںکیا جا سکتا ہے جو شریف برادران کی مختلف مواقع پر کچن کیبنٹ کا حصہ بنے رہے۔ یقینا ایسا نہیں ہے۔ میاں شہبازشریف بھی یہ اعتراض لگا سکتے تھے کہ ناصر کھوسہ وہ شخصیت ہیں جن کے برادر خورد جسٹس آصف سعید کھوسہ نے میاں نوازشریف کو سیسیلین مافیا کا گاڈ فادر قرار دے کر برطرف کیا تھا لیکن اس معاملے میں وزیراعلیٰ پنجاب نے اعلیٰ ظرفی سے کام لیا۔ اس سارے معاملے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عمران خان اور ان کے کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا کی مد د سے ایک شریف آدمی کو خواہ مخواہ متنازعہ بنا دیا ہے۔ اس امر کے باوجود کہ شہباز شریف سمیت بعض قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ اب سمری گورنر پنجاب کے پاس جاچکی ہے اور آئینی طور پر مشاورت کاعمل مکمل ہو چکا ہے لہٰذا ان کا نام واپس نہیں لیا جا سکتا لیکن ناصرکھوسہ نے از خود ہی معذرت کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دس روز پہلے عمران خان نے انھیں فون کر کے ان کانام نگران وزیراعلیٰ کے طور پر پیش کر نے کی پیشکش کی تھی کیونکہ ان کے نزدیک وہ قابل اعتماد اور قابل اعتبار شخصیت ہیں اب وہی تحریک انصاف ان کے خلاف الزام تراشیاں کررہی ہے لہٰذا وہ خود کو اس معاملے سے دستکش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف بلوچستان میںپولیٹیکل انجینئرنگ کی کوکھ سے جنم لینے والی جماعت BAP کے مدارا لمہام وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی پیش کردہ قرارداد کہ بلوچستان میں انتخابات میں ایک ماہ تاخیر کر دی جائے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود منظور کر لی گئی ہے۔ جواز یہ تلاش کیا گیا کہ جولائی میں شدید گرمی ہوتی ہے گویا کہ جیسے اگست میں بلوچستان میں برفباری ہوجاتی ہے۔ پرویز خٹک نے بھی فاٹا سمیت پورے خیبر پختونخوا میں انتخابات ایک ساتھ کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ قومی مفاد میں انتخابات ایک ماہ کیلئے ملتوی کرنے میںحرج نہیں۔ کیا ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟ کیا دال میں کچھ کالا ہے؟ جس کا مقصد ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عام انتخابات کو ملتوی کرانا ہے۔ کہیںایسا تو نہیں ہے کہ تحریک انصاف کو مختلف جماعتوں سے اکٹھے کئے گئے ایک سو پچیس ارکان اسمبلی کے باوجود لگ رہا ہے اب بھی مسلم لیگ (ن) کا پلڑا بھاری ہے لہٰذا اگرایک ماہ کے لیے عام انتخابات ملتوی ہو جائیں تو سیاسی انجینئرنگ کے لیے کچھ مزید وقت مل جائے گا۔ نیز اس وقت تک میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی کو نیب عدالت سے سزا ہو چکی ہو گی اور وہ اپنی شعلہ نوائی کے ذریعے پارٹی کے لیے انتخابی مہم نہیں چلا سکیں گے۔ پیپلزپارٹی نے عام انتخابات میںالتوا کی بھرپور مخالفت کی ہے اور مسلم لیگ (ن) تو فطری طور پر یہی چاہے گی کہ انتخابات بروقت ہوں۔ ماضی میں عام انتخابات کا التوا ملک وقوم کو مہنگے پڑ چکے ہیں لہٰذا بہتر ہو گا کہ اس مرحلے پر رنگ میں بھنگ ڈالنے کی جو کوششیں کی جا رہی ہیں انھیں فی الفور روکا جائے۔