اسلام آباد ( جہانگیر منہاس) مسلم لیگ ن کی حکومت کے پانچ سال پورے ہونے کے باوجود شعبہ صحت میں بہتری لانے کے تمام تر حکومتی دعوے ریت کی دیوار ثابت ہوئے ۔ وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ ادویات کے شعبہ سے لے کر میڈیکل کالجوں اور پیچیدہ بیماریوں کے تدارک کیلئے مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری میں کوئی مثبت پیشرفت کرنے میں یکسر ناکام رہیں۔ وزیر صحت کے بلند و بانگ دعوئوں کے باوجود گزشتہ پانچ سال میں اسلام آباد میں ایک بھی نیاہسپتال تعمیر نہ ہو سکا۔ بجٹ میں دو مرتبہ کینسر ہسپتال کیلئے فنڈزمختص کرنے کے باوجود وفاق میں کینسر ہسپتال کی تعمیر مسلم لیگ ن کا محض سیاسی نعرہ ثابت ہوا۔ ہسپتالوں میں ادویات کے حصول کیلئے مریض مارے مارے پھرتے رہے اور عام آدمی کیلئے ہپاٹائٹس بی کی بیماری سے لے کر گردوں اور جگر کے علاج کیلئے ہر قسم کی سہولتیں ناپید رہیں۔ وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ اپنی وزارت کے دوران زیادہ تر اوقات میں صرف غیر ملکی دوروں پر رہیں جبکہ انہوں نے پولیو ، خسرہ اور بچوں کی اموات کے تدارک کیلئے کوئی ٹھوس حکمت عملی وضع کی نہ سرکاری ہسپتالوں میں متوسط اور عام آدمی کیلئے سہولتوں میں کوئی بہتری لائی گئی۔ وفاق کے ہسپتالوں پمز اور پولی کلینک میں دل کے امراض اور دیگر پیچیدہ امراض کے آپریشن کیلئے آج بھی چھ چھ ماہ کی تاریخیں دی جاتی ہیں۔حکومت ادویات کی قیمتوں میں بھی استحکام لانے میں ناکام رہی۔ میڈیکل کالجوں میں طلبا و طالبات کیلئے فیسوں کا مسئلہ جوں کا توں رہا البتہ وزیر صحت کی خصوصی سفارش پر انکے چند منظور نظر افراد کیلئے میڈیکل کالجوں کی منظوری دی گئی جسکی انکوائری نیب میں جاری ہے ۔