گلف نیوز کے ایک تبصرے میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی برسر اقتدار بی جے پی کی مقبولیت میں کمی ہو رہی ہے اور اگلے الیکشن اس کے لیے آسان نہیں ہوں گے،فی الوقت صورتحال ایسی ہے کہ اگلے الیکشن بھی شاید بی جے پی جیت جائے(اگرچہ یقینی نہیں ہے) لیکن اس کی پارلیمانی طاقت میں خاصی کمی ہو جائے گی۔ اور وجہ اس کی ’’کارکردگی ‘‘نہیں ہے بلکہ بی جے پی کے کارکنوں کی وہ مار دھاڑ ہے جو اس نے دلتوں‘ مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف شروع کر رکھی ہے۔ دلت پہلے منقسم تھے۔ بی جے پی کے لیے استعمال ہونے والوں کی بھی کمی نہیں تھی لیکن اب آہستہ آہستہ ان میں ردعمل پیدا ہو رہا ہے۔ مسلمانوں اور دلتوں سے جو ہو رہا ہے‘ اس کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں‘ ہر روز کوئی نہ کوئی واقعہ اخبارات میں آ جاتا ہے۔ کچھ دن پہلے ملک بھر کی چھ سات سیٹوں پر ضمنی الیکشن ہوئے تو بی جے پی ان سب پر ہار گئی۔ اتنے بڑے ملک میں چھ سات سیٹوں کی کوئی عددی اہمیت نہیں لیکن بطور اس بات کے کہ ووٹروں کا رجحان بدل رہا ہے یہ خطرے کی خاصی بڑی گھنٹی ہے جو بج اٹھی ہے۔ اہم بات یو پی کی سیاست ہے جہاں مسلمانوں کو قتل کرنے کی علانیہ دھمکیاں دینے والا وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا ہے۔ وہاں دلت اور مسلمان اکٹھے ہو رہے ہیں۔ کیرانہ کی سیٹ پر ضمنی انتخاب میں ایک مسلمان امیدوار کا چنائو وزیر اعلیٰ یوپی کے منہ پر طمانچہ نہ سہی‘ چپت ضرور ہے۔ پچھلے دنوں ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ جنوبی ریاست کرناٹک میں بی جے پی جیت کر بھی ہار گئی۔ اس نے سب سے زیادہ نشستیں تو لیں لیکن اکثریت کے ہندسے کو نہ چھو سکی اور یوں کانگریس نے مخلوط حکومت بنا لی۔ کرناٹک بھارت کے ان چند صوبوں میں سے ایک ہے جہاں مسلمان ‘ باقی بھارت کے برعکس قدرے خوشحال بھی ہیں اور محفوظ بھی۔ بی جے پی حکومت بنا لیتی تو اس نے مسلمانوں کو کھدیڑ دینا تھا کیونکہ اس کا ہدف شہروں میںجمے ہوئے کاروباری مسلمان ہیں۔ کرناٹک کے شہر بنگلور اور میسور سے اگرچہ مقامی اخبارات بھی نکلتے ہیں۔ یہ سلطان ٹیپو کا صوبہ ہے پرانا نام اس کا میسور ہے اور سلطان ٹیپو بھی آج کل بی جے پی کی مہم کا ہدف ہیں۔ ٭٭٭٭٭ بی جے پی کے اقتصادی وژن میں وزن ہے اور وہ کام بھی کر رہی ہے لیکن مسلمانوں‘ دلتوں اور مسیحیوں کے خلاف اس کی مہم اب غیر مقبول ہو رہی ہے۔ یعنی رائے عامہ کی حد تک۔ البتہ اس کے ساتھ ہی خطرناک بات یہ ہے کہ ایسے اجتماعات بدستور بھر پور افرادی طاقت کے ساتھ ہو رہے ہیں جن کا واحد ہدف مسلمان ہیں۔ ایک منظم مہم بی جے پی کے نام سے نہیں لیکن اس کی حامی تنظیموں کے پلیٹ فارم سے چلائی جا رہی ہے اور اس میں لوگوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی بڑھنے کی شرح ہندوئوں کے مقابلے میں چار گنا ہے(کوئی سرکاری دستاویز اس دعوے کی تائید نہیں کرتی) اور اگر یہی رہا تو دو عشروں بعد ہم ہندو ان کے غلام بن جائیں گے اور یہ ہمارے گھروں میں گھس کر گائے کاٹا کریں گے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس مضحکہ خیز دعوے کو جنونی ہندو قبول بھی کر رہے ہیں۔ ان جنونیوں نے رتھ یاترا کی طرز پر ایک بہت بڑی ملک گیر ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے جو جا بجا پڑائو ڈالے گی۔ مسلمان آبادی اس سارے راستے میں موجود ہے اور اپنے گھروں میں دبک کر سہمے بیٹھے تھی کہ بی جے پی نے انہیں ان کے گھروں میں گھس کر قتل کیا۔ سینکڑوں مسلمان اس رتھ یاترا میں بلا اشتعال اور بنا کسی تصادم کے شہید کئے گئے۔ رتھ یاترا کے بعد بی جے پی کو پہلا زوال آیا تھا اور اس کے رہنما ایل کے ایڈوانی پردہ گمنامی میں گم ہو گئے تھے۔ اب اس رتھ کا ری پلے ہوا تو بی جے پی کو اس پر سخت گھاٹا اٹھانا پڑے گا اور اگلے انتخاب میں اس کی امکانی مگر کم مارجن سے فتح یقینی شکست میں بدل سکتی ہے۔ یوں تو مسلمان بھارت کے بیشتر علاقوں میں اقتصادی پسماندگی کا شکار ہیں لیکن عبرت اور حیرت کی بات ہے کہ ان کی سب سے بری حالت دہلی میں ہے جو صدیوں ان کی حکمرانی کا نشان رہا۔ صدیوں تک دہلی ہندی مسلمان تہذیب کا مرکز اور گہوارہ رہا آج وہاں مسلمانوں کا نشان مشکل سے ملتا ہے۔ بھارت کے تمام شہروں میں سب سے کم مسلمان اسی شہر میں آباد ہیں۔ کبھی اس شہر کی مسلمان آبادی 50فیصد تھی آج سات فیصد سے بھی کم ہے دہلی ریاست میں البتہ مسلمان بارہ پندرہ فیصد ہیں لیکن بی جے پی ان کی بڑی تعداد کو یہ کہہ کر ملک بدر کرنا چاہتی ہے کہ یہ لوگ بنگلہ دیش سے آئے ہیں کہانی اس کے برعکس یہ ہے کہ ان میں بڑی تعداد بنگالی اور آسامی مسلمانوں کی ہے اور یہ لوگ مغربی بنگال اور آسام سے آئے ہیں نہ کہ بنگلہ دیش سے اور جو سات فیصد آبادی مسلمانوں کی دو اڑھائی کروڑ کے شہر دہلی میں ہے وہ ساری کی ساری پرانے شہر کی تین چار بستیوں میں سمٹ گئی ہے۔ نئے دہلی کے علاقوں سے لوگ رہائش چھوڑ چھوڑ کر ان پرانے محلوں میں آ رہے ہیں جہاں زندگی کی سہولیات اتنی کم ہیں کہ یہ علاقے ’’مسلم‘‘ بن گئے ہیں لیکن صرف ایک جگہ محفوظ ہونے کی خواہش میں باقی دہلی مسلمانوں کے وجود سے خالی ہو رہی ہے۔ ٭٭٭٭٭ ریحام خاں کی کتاب نے سر بازار بے محابا رقصم کا سماں باندھا ہوا ہے اور اب ایک نئی اطلاع خوف میں اضافے کا باعث یہ بنی ہے کہ اس میں ’’بلیک‘‘ بیری کا ریکارڈ بھی ہے اس سے پہلے عائشہ گلا لئی نے بلیک بیری کے مسئلے پر عمران خان کو چیلنج دیا تھا جو بدستور منتظر قبولیت ہے کہ ایک اور چتائونی اسی بلیک بیری کے حوالے سے آ گئی۔ عمران خان کے مداح پریشان بھی ہیں اور مشتعل بھی۔ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ پریشان زیادہ ہیں یا مشتعل زیادہ۔ خان صاحب کے روحانی اتالیق اتنے غضب آلودہ ہوئے ہیں کہ ریحام خان کو ’’بھیڑیا‘‘ قرار دے دیا۔ شادی کے موقع پر خان صاحب نے ریحام خان کو صاحب ایمان ہستی قرار دیا تھا۔ گویا یہ تو طے ہے کہ کتاب ریحام خاں نے خود نہیں لکھی مسلم لیگ نے لکھوائی ہے۔ بات معقول ہے جان کے بدلے میں جان‘ کتاب کے بدلے میں کتاب‘ بس ایک مثیل ریحام خاں کی ڈھونڈی پڑے گی اور کچھ مقدار میں بے ہودہ مواد۔ اپنے ٹی وی پروگرام میں محترم عارف نظامی نے فقرہ چست کیا کہ خان صاحب عورتوں کے معاملے میں ذرا دل پھینک واقع ہوئے ہیں۔ لفظ ’’ذرا‘‘ کی وسعت بھی ذرا بیان ہو جائے ایک شعر یاد آیا ؎ دعویٰ بہت بڑا ہے ریاضی میں آپ کو طول شب فراق ذرا ماپ دیجیے ماپنے والا شب فراق کا طول تو شاید ماپ ہی دے۔ اس ’’ذرا‘‘ کی پیمائش البتہ اس کے لیے بھی کار دارد ہو گی۔