ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ہی روز اضافے نے ملک کی معاشی حالت کی قلعی کھول دی ہے۔ سابق حکومت پانچ سال تک معیشت مستحکم ہونے کا دعویٰ کرتی رہی۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حکومت کی مدت پوری ہونے سے چند روز قبل یقین دلایا تھا کہ اب روپے کی قدر میں مزید کمی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ سوموار کے روز ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر 3.8فیصد کم ہوئی۔ ڈالر کے انٹر بینک نرخ 119.8روپے تک جا پہنچے۔ ایک مرحلہ پر ڈالر کے نرخ121.5روپے تک چلے گئے تھے۔ سٹیٹ بنک نے اس معاملے کی وجہ انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی طلب اور رسد میں نمودار ہونے والا بہت بڑا فرق ہے۔ قبل ازیں رواں برس مارچ میں روپے کی قدر میں کمی کی گئی تھی۔ اس وقت ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر 108روپے سے کم کر کے 115روپے کر دی گئی تھی۔ لگ بھگ اسی طرح کی وضاحت اس وقت بھی سٹیٹ بنک نے جاری کی تھی جس طرح کی اس بار جاری کی گئی ہے۔ باخبر حلقوں کو اس امر سے آگاہی تھی کہ کرنسی مارکیٹ سے بڑی تعداد میں ڈالر کی خریداری کی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ خریداری کرنٹ اکائونٹ خسارہ متوازن رکھنے کے لیے کی گئی ہو۔ اس وقت ملکی درآمدات کا حجم برآمدات سے خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ سابق حکومت اس فرق کی وجہ سی پیک منصوبوں کے لیے مشینری اور آلات کی درآمد کو قرار دیتی رہی ہے۔ مالیاتی ماہرین عموماً مالیاتی دبائو کم کرنے کے لیے کرنسی کی قدر کم کرنے کا مشورہ اس وقت دیتے ہیں جب وہ برآمدات میں اضافے کا الگ سے قابل عمل منصوبہ رکھتے ہوں۔ پاکستان کی حالت یہ ہے کہ اسے اہلیت کی بجائے حکمران خاندان سے وفاداری کی وجہ سے وزیر خزانہ بنائے گئے اسحاق ڈار کے حوالے کر دیا گیا۔ پانچ برسوں کے دوران 30ارب ڈالر کے قریب قرض لیا گیا۔ اس قرض کا بڑا حصہ ایسے میگا منصوبوں پر خرچ کیا گیا جو پہلے دن سے خسارے کا شکار ہیں اور ہر روز کروڑوں روپے سبسڈی کی مد میں خرچ کر رہے ہیں۔ جب قرض کی رقم منافع بخش پیداواری منصوبوں پر خرچ نہ ہو گی تو اس قرض کی واپسی کے لیے قومی اثاثے گروی اور فروخت کرنا پڑتے ہیں۔ جناب مفتاح اسماعیل کو اسحق ڈار کی عدالتی مفروری کے باعث وزیر خزانہ بنایا گیا۔ مفتاح اسماعیل اس سے قبل بھی حکومت کی مالیاتی ٹیم کا مختلف حیثیتوں میں حصہ رہے تھے۔ سابق حکومت نے عوام کی منتخب حکومت ہونے کے باوجود حقائق کو چھپایا۔ قومی معیشت کی جو صورت حکومت پیش کرتی رہی اس کا اصل روپ چند دن کے بعد ہی سامنے آنے لگا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت اپنی نالائقیوں اور نااہلی پر جو پردہ ڈالتی رہی اب وہ خرابیاں ظاہر ہو رہی ہیں۔ بلا سوچے سمجھے بھاری قرضوں کا حصول‘ پیداواری اور زرعی شعبے کو نظر انداز کرنا‘ خسارے کے منصوبوں پر سرمایہ کاری، قومی اثاثے رہن رکھنا اور تجارت کے فروغ کے لیے کچھ نہ کرنے کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے۔ سوموار کے روز نگران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4روپے 26پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد فی لیٹر پٹرول کی قیمت 91روپے 96پیسے ہو گئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6روپے 55پیسے اضافہ ملک میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا کرنے کا سبب ہو سکتا ہے۔ تاریخی طور پر پاکستان خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا درآمد کنندہ رہا ہے۔ اس لیے عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جب کبھی اتار چڑھائو کا شکار ہوتی ہیں اس کے اثرات پاکستان پر ضرور مرتب ہوتے ہیں۔ جب روپے کی قدر میں کمی ہوتی ہے تو اس کے اثرات پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں پر بھی پڑتے ہیں تاہم پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کا سب سے منفی اثر مصنوعات کی پیداواری لاگت میں اضافہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل ٹرانسپورٹ ذرائع میں استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح جنریٹر اور منٹیننس توانائی کے لیے ان کا استعمال کرتی ہیں۔ پیٹرولیم سستا ہونے کی وجہ سے اگر کسی شے کی تیاری پر 50روپے خرچ ہوتے ہیں تو پیٹرول کی قیمت میں چار روپے فی لیٹر اضافے کے بعد یہ پیداواری لاگت 52روپے ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں عالمی مارکیٹ میں دوسرے ممالک کی تیار کردہ مصنوعات کا نرخوں کی سطح پر مقابلہ مشکل ہو جاتا ہے۔ پیداواری لاگت زیادہ ہونے پر امریکہ اور یورپ کی کئی کمپنیوں نے سستی افرادی قوت سے فائدہ اٹھانے کے لیے چین میں کارخانے لگائے ہیں۔ پاکستان کے کاروباری حلقوں نے اپنے سرمائے کو ابھی بین الاقوامی سرمائے میں تبدیل نہیں کیا۔ ہمیں سیالکوٹ‘ کراچی‘ گوجرانوالہ ‘ فیصل آباد اور حیدر آباد کے چھوٹے کارخانوں سے وہ مصنوعات حاصل ہو رہی ہیں جنہیں دوسرے ممالک میں برآمد کر کے پاکستان زرمبادلہ حاصل کرتا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا فوری اثر ان کارخانوں پر پڑتا ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں حالیہ اضافے کی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اتار چڑھائو کو نہیں قرار دیا گیا۔ پاکستان کی اہم بڑی صنعتیں ٹیکسٹائل‘ ملبوسات‘ سیمنٹ اور کھاد کی ہیں۔ معیار اور بھر پور طلب کے باوجود ان مصنوعات کے لیے عالمی مارکیٹ میں مسابقت کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ اپنی بقا کے لیے جدوجہد کرنے والی ان صنعتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس کی وجہ سے پاکستان کو یورپی یونین نے درآمدات کے لیے جو مراعات دی تھیں پاکستان پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ نگران حکومت کے لیے مالیاتی اور معاشی شعبے کے چیلنجز سے نمٹنا ایک مشکل مرحلہ ہو سکتا ہے۔ سابق حکومت نے توانائی اور مالیات کے شعبے کو طویل المدت منصوبہ بندی کی بجائے 2018ء کے انتخابات کو پیش نظر رکھ کر ترتیب دیا ہے۔ سابق حکومت نے ہر معاملے کو مخصوص سوچ کے تابع رکھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو قرض سے بڑھانے کی بجائے اگر تارکین وطن سے مدد لی جاتی، انہیں ووٹ کا حق دیا جاتا اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاتا تو غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا تھا۔ پانچ برسوں کے دوران مالیاتی نااہلی نے جو غبار اکٹھا کیا ہے اس سے نجات کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کے باعث راتوں رات پاکستان کے قرضوں میں 350ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ آخر پورے خطے میں پاکستان کی معیشت ہی کیوں انحطاط پذیرہو رہی ہے۔ بنگلہ دیش‘ سری لنکا اور مالدیپ تک نے اپنی حالت بہتر بنا لی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ قومی معیشت کی درست حالت کا پتہ چلائے اور پھر اس کی بحالی کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہو ان کو بروئے کار لایا جائے۔