اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر،اے پی پی) نگران وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ وہ قرضہ کے حصول کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 28 ہزار میگاواٹ ہے ،لوڈ شیڈنگ کی وجہ فنی خرابی، ٹرانسمیشن لائنز اور پانی کی قلت ہے ۔گزشتہ روز پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وفاقی وزیر خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ نگران حکومت کا آئی ایم ایف کیساتھ کوئی پروگرام زیر غور نہیں ۔آئی ایم ایف کیساتھ نگران حکومت مذاکرات کر سکتی ہے نہ کوئی معاہدہ کر سکتی ہے ۔ تاہم معیشت کے بہتری کے حوالے سے ضرورت کے مطابق مقامی یا بین الاقوامی سطح پر تکنیکی مشاورت کیلئے رجوع کیا جا سکتا ہے ۔ملکی معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے ،برآمدات میں کمی ہو رہی ہے اور درآمدات بڑھ رہی ہیں، مالیاتی خسارہ 6.1 فیصد تک پہنچ گیا ہے ،اس حوالے رواں سال کے جو اہداف تھے ان سے تجاوز کر چکے ہیں۔ پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ایک فارمولے تحت ہوتا ہے ۔تیل کی قیمتیں عالمی منڈی سے منسلک ہیں۔عالمی مارکیٹ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں ہم نے 50فیصد اضافہ کیا ہے ۔عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں 6سے 11فیصد اضافہ ہوا۔کوئی بھی حکومت ہو تیل کی قیمت میں کمی بیشی کرنا پڑتی ہے ۔ ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ پر چھوڑنے کی پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ، اس حوالے سے مداخلت نہیں کیا جائے گی تاہم اگر بہت زیادہ قیاس آرائیاں ہونے لگ جائیں تو پھر مداخلت ضروری ہو جاتی ہے ۔ بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے ذمہ داریاں پوری کی جائیں گی، اس حوالے سے مکینزم کی تیاری کیلئے سوچ بچار کیا جا رہا ہے ۔اس موقع پر نگران وزیر برائے اطلاعات و نشریات اور پانی و بجلی علی ظفر نے کہا کہ ہم کسی قسم کی بلیم گیم نہیں کرینگے ۔ آئین کے تحت انتخابات میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرینگے ۔شفاف الیکشن اور منتخب حکومت کو اقتدار کی منتقلی ہمارا مینڈیٹ ہے ۔ وزارتوں میں آنیوالی حکومتوں کیلئے گائیڈ لائن دیکر جائینگے ۔ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے ۔ آزادی اظہار رائے کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی۔ ملک میں طلب اور رسد کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ میں اضاف ہوا ۔ ملک میں لوڈ شیڈنگ کی 4 بڑی وجوہات ہیں، پہلی وجہ بجلی کی پیداوار طلب سے کم ہونا ، دوسری وجہ فنی خرابی ، تیسری وجہ پانی قلت اور چوتھی وجہ ٹرانسمیشن لائنز کی خرابی اور نقصانات ہیں۔ تمام پاور ہاؤسز چل رہے ہوں اور ڈیمز میں پانی موجود ہو تو 28 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ۔ ہمارے پاس بجلی بنانے کی صلاحیت تو ہے لیکن فنی خرابی کی وجہ سے بجلی نہیں بن پا رہی، بجلی کو ٹرانسمٹ کرنے کیلئے بھی سسٹم بہتر نہیں ہے ۔ زیادہ سے زیادہ 21 سے 22 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور جون میں بجلی کی طلب 23 سے 24 ہزار میگا واٹ ہے ، دو ہزار میگا واٹ کے فرق سے اتنی زیادہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہونی چاہئے ۔ ہمارا مینڈیٹ کلیئر ہے کہ کسی قسم کی الزام تراشی نہیں کرینگے اور وزارتوں میں آنیوالی حکومتوں کیلئے گائیڈ لائن دیکر جائینگے ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ فنی خرابی اور پانی کی کمی ہے ،28ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے ۔