یہ کوئی انکشاف ہے نہ ہی حیران کن امر کہ پاکستانیوں کی اکثریت بوتلوں میں بند اور کھلا زہر آلودہ پانی استعمال کر رہی ہے۔ پاکستان میں بچوں کی شرح اموات میں اضافہ ہو یا پھر جگر کے کینسر‘ گردوں کے فیل ہونے کی ہماری ہیپاٹائٹس اور آنتوں کی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو ان سب کا سبب بھی فلٹر شدہ بوتلوں میں بند منرل واٹر اور عام نل کا پانی ہی ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ انسانی جسم کو مختلف قسم کے منرلز اور غذالی اجراء کی فراہمی کا قدرتی اور سستا ذریعہ ہے۔ ماہرین کے مطابق عام طور پر مفید پانی میں حل شدہ منرلز کی مقدار 1000 Partpel millionسے کم نہیں ہونی چاہیے اور پانی صاف کرنے کے عمل میں بھی اس بات پر توجہ دی جانی چاہیے کہ صرف پانی میں موجود زہریلے مادوں کو ہی پانی سے الگ کیا جائے۔ حکومت اور پانی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو کوشش کرنا چاہیے کہ عوام کو جو پانی مہیا کیا جا رہا ہے اس میں کم از کم 300مفید منرلز ہونے چاہئیں جبکہ آر او کے ذریعے صاف کیے گئے ہیںمحض 10سے بھی کم معدنی اجزا پانی میں شامل کیے جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں سپریم کورٹ نے پنجاب میں صاف پانی کمپنی کے بارے میں از خود نوٹس لیا تھا صاف پانی کمپنی کے سی ای او نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو بتایا کہ حکومت نے صاف پانی منصوبہ کے لیے 150ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی تھی جس میں سے صرف 4ارب روپے کی لاگت سے 116پلانٹ لگائے جا سکے انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ 300ملین روپے کی خطیر رقم صرف غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے پر صرف کر دی گئی مگر اگلے ہی روز پنجاب کے چیف سیکرٹری زاہد سعید نے صاف پانی کمپنی کے سی ای او کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کہ صاف پانی کمپنی 4ارب کی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود شہریوں کو ایک قطرہ پانی بھی فراہم نہ کر سکی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صاف پانی کمپنی میں انتظامیہ نہ صرف خود بھاری معاوضے اور مراعات حاصل کر رہی تھی بلکہ اربوں روپے غیر ملکی ماہرین کی مد میں بلا ضرورت بھی خرچ کیے گئے صاف پانی کمپنی میں بدعنوانی کی شرح جو بھی ہو مگر پاکستان کی پانی کی صنعت اور عوام اس بات سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ صاف پانی کمپنی کا شمار بھی پاکستان کی ان چیدہ کمپنی میں ہوتا ہے جو عوام کو فائدہ پہنچانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں اس قسم کا ناکام تجربہ 2004ء میں بھی کیا گیا تھا اسی طرح پنجاب حکومت نے اس ناکام تجربہ کو چوتھی بار دہرایا ہے۔ اگر سپریم کورٹ یا پھر نیب اس معاملہ میں انصاف کرنے کی خواہش رکھتی ہے تو پھر معاملات کی 2004ء سے تحقیقات کرنا ہوں گی کہ کس طرح قومی دولت لالچ اور ہوس کی نظر ہوا صرف صاف پانی کے سٹاف کے گرد قانون کا شکنجہ کسنا اور باقی ذمہ داروں کو آزاد چھوڑنے سے احتساب اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ سپریم کورٹ کو چاہیے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام وزراء اور 2004ء سے 2013ء اور پھر موجود کمپنیوں کے ڈائریکٹر جنرلز کو بھی طلب کرے۔ شروع میں 2004ء میں صاف پانی سب کے لیے کا منصوبہ وزارت ماحولیات کے زیر انتظام تھا۔ جو بری طرح ناکام ہوا اس کے بعد اس ’’کار خیر‘‘ کا بیڑا 2007ء میں وزارت صنعت و پیداوار نے اٹھایا۔ اس کے بعد وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے البتہ اس شراکت داری سے بھی منصوبہ کے نام میں تبدیلی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ دونوں اداروں کے اشتراک کے باوجود بھی انتظامیہ میں صلاحیتوں اور مہارت کا فقدان منصوبے کی ناکامی کی وجہ بنا۔ متواتر ناکامیوں اور الزامات کے باوجود 2013ء تک یہ منصوبہ وزارت خصوصی امور نے اچک لیا۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے حصے میں اختیارات کے ساتھ بھاری مقدار میں فنڈز بھی آئے تو پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کے پانی کے منصوبوں کی صورت سونے کی جیسے کان ہاتھ لگ گئی اربوں روپے کی بندر بانٹ کے باوجود بھی عوام کے دامن میں مایوسیوں کے سوا کچھ نہ آیا سندھ میں زہریلے پانی کی کہانی بھی پنجاب سے مختلف نہیں ہے۔ سندھ حکومت وسائل کے بے دریغ استعمال پر رہی اور تھر پارکر پلانٹ کا منصوبہ بنایا گیا مگر شہری ارو دیہی سندھ کے باقی علاقوں کو نظر انداز کر دیا گیا جہاں بہت کم قیمت پر پانی سے آرسینک اور دیگر زہریلے مادے صاف کرنے والے پلانٹ لگائے جا سکتے تھے۔ حکومت نے جن شہری علاقوں صاف پانی فراہم کرنے کے لیے ٹیوب ویل لگائے ہیں وہاں بھی عوام کو زہریلا پانی پینے پر مجبور ہیں کیونکہ بوسیدہ پائٹ لائنوں کے باعث شہروں میں سیوریج پانی میں شامل ہو رہا ہے اور ایسا صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ شہروں میں عوام کو صاف پانی فراہم کرنے کے لیے پائپ لائنز سیوریج لائن کے ساتھ ہی بچھائی گئی ہیں اس کے علاوہ پانی کی ٹینکیاں بھی زمیں کے صاف پانی کو مضر صحت بنانے کا ذریعہ ہیں۔ نائٹروجن یورو کا ایک غذائی جزو ہے۔ پانی میں نائٹریٹ سے زہر آلودہ اس وقت ہوتا جب پودوں کے استعمال سے زیادہ نائٹریٹ زمین میں موجود ہو اس کے علاوہ انسانی اور حیوانی فضلہ کو زمین میں دفن کرنے۔ سیوریج کا پانی جذب ہونے اور ٹینکی کی صفائی کے نہ ہونے سے بھی پانی میں نائٹریٹ کی آمیزش بڑھ جاتی ہے۔ جن علاقوں میں پاین کی سطح قریب ہوتی ہے جیسے شمالی پنجاب اور کے پی کے علاقوں میں نائٹریٹ کی آمیزش زیادہ ہے۔اس کے علاوہ راول اور سملی ڈیم میں یوٹروفک اور فاسفیس سے بھر پور پانی بھی انسانی صحت کے لیے مضر ہے ۔اس قسم کے پانی سے 6ماہ سے کم عمر بچوں کے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ انسانی صحت کو خطرہ اس وقت لاحق ہوتا ہے جب نائٹریٹ انسانی آنتوں میں موجود بیکٹیریم کی وجہ سے نائٹریٹ (no2) میں تبدیل ہو جاتی ہے جو خون میں موجود ہیمو گلوبن کو میتھیم گلوبن میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ سیل آکسیجن کو جذب کر کے جسم تک پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسے جیسے بچے کے جسم میں میتھیم گلوبن کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے بچے کے دماغ کو آکسیجن کی مقدار کم ملنا شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بچے کی جلد کا رنگ نیلا پڑنا شروع ہو جاتا ہے ۔الٹیاں آتی ہیں اور آکسیجن کی کمی سے موت واقع ہو جاتی ہے اس بیماری کو بلیو بے بی سنڈروم کہا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ نائٹریٹ گردوں کے کینسر کا سبب بھی بنتی ہے یہی وجہ ہے کہ راولپنڈی کے گردو نواح میں گردوں کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کی وجہ بن رہا ہے جبکہ نائٹریٹ سے آسانی سے نہایت کم لاگت سے پانی صاف کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آرسینک (باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں) کی وجہ سے ہڈیوں کی نشو و نما متاثر ہونے کے علاوہ جلد اور جگر کے سرطان کا عارضہ لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ جب آرسینک زمین کی گہرائی میں قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے جبکہ پانی کو آرسینک سے پاک کرنا بھی کوئی رائٹ سائنس نہیں۔ Ferric hydroxidc adoptionفیریک ہائیڈرو ایڈاپشن کے عمل سے آسانی سے پانی سے آرسینک فلٹر کی جا سکتی ہے ۔وسطی‘ جنوبی پنجاب اور سندھ میں پانی میں آرسینک اور فلورائیڈ مقدار بہت زیادہ ہے کیونکہ پاکستان کی پانی کی انڈسٹری جعل سازوں اور منافع خوروں کے ہاتھ لگ چکی ہے اس لیے آسوموسس Osmosisکے عمل کی وجہ سے پانی صاف کرنے کی بجائے زہریلا ہو جاتا ہے۔ اس عمل سے پانی سے نہ صرف صحت کے لیے مفید معدنیاتی مرکب نکال دیے جاتے ہیں بلکہ 30سے 60فیصد آلودہ پانی پھر زمین میں شامل کر دیا جاتا ہے جو ماحولیاتی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ عوام میں یہ شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ گھر میں ابالا گیا پانی نہ صرف جرثوموں کو مارتا ہے بلکہ اس عمل سے پانی میں موجود کیلشیم اور میگنیشم جو انسانی صحت کے لیے ضروری ہیں بھی ختم ہو جاتے ہیں اس کے علاوہ پانی گرم کرنے سے یورینئم سائنائڈ نائٹریٹ اور آرسینک کو بھی بھاری کر دیتا ہے جس سے پانی صاف ہونے کی بجائے مزید زہریلا ہو جاتا ہے۔ اس لیے جب آپ پانی گرم کریں تو یہ باتیں آپ کو معلوم ہونا چاہیں اس طرح یہ ۔۔۔۔آپ کو آر او یونٹ خریدنے میں بھی مددگار ہو سکتی ہے پانی کو گھر میں صاف کرنے کا بہترین طریقہ ہے کہ 18لیٹر پانی کی بالٹی میں ایک قطرہ بلیچ ڈال کر رات بھر رہنے دیں اور صبح صاف کپڑے سے چھان لیں اس عمل سے نہ صرف پانی میں موجود بیکٹیریا ہلاک ہو جاتے ہیں بلکہ پانی میں آرسینک کی مقدار بھی 20سے 30فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔