چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے تھر کے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سندھ حکومت کو تھر میںمعصوم بچوں کی اموات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو لگاتار 10سال کا عرصہ گزر گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان کا تھا لیکن 10سال میں وہ تھرکے معصوم بچوں کو اپنے نعرے کے مطابق سہولتیں نہیں دے سکی۔ جس بنا پر صحرائی علاقے میں مور کے رقص کی طرح موت رقص کرتی نظر آتی ہے۔ دس سالوں میں تھر میں پانی کا پلانٹ لگا نہ ہی کوئی ہسپتال قائم ہوا غربت اور بے روزگاری غریبوں کو اپنے منحوس پنجوں میں جکڑ رہی ہے۔ غذائی قلت کے باعث موذی بیماریاں بچوں کو موت کی وادی میں دھکیل رہی ہیں۔ سیاستدانوں کے سر میں درد کی بریکنگ نیوز چلانے والا میڈیا بھی ان معصوم بچوں پر کئی پروگرام کرچکا ہے ۔ جمہوریت کے چمپئن پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا تھر کے متعلق سوال پر خاموش ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ تھر کے صحرا کو آباد کرنے کے لیے حکومت نے کوئی پلان نہیں بنایا۔ وہاں کے باسیوں کو روٹی کپڑا اور مکان فراہم کرنے کا نعرہ ابھی تک صرف نعرہ ہی ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بظاہر تو بڑے بڑے دعوے کرتے نظر آتے ہیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا اپنی صوبائی حکومت پر کنٹرول نہیں یا وہ تھر کے بچوں کو انسان نہیں سمجھتے۔ تھر میں ہزاروں بچے موت کے منہ جا چکے ہیں لیکن صوبائی حکومت چین کی بانسری بجا رہی ہے، حیرت اس بات پر ہے کہ سندھ اسمبلی میں موجود اپوزیشن بھی اس معاملے پر آواز نہیں اٹھاتی۔ اب عدالت عظمیٰ نے تھر کے بچوں کی اموات کا ذمہ دار سندھ حکومت کو قرار دیا ہے تو عدالت عظمیٰ صوبائی حکومت سے ان بچوں کا معاوضہ لے کر لواحقین کو دے اور صوبائی حکومت کو پابند کرے کہ تھر میں صحت کی سہولتیں قائم کرے تاکہ معصوم کلیوں کے مرجھانے کا سلسلہ تھم سکے۔