وداع رمضان کی گھڑی آ پہنچی۔ شاید تین روزے باقی رہ گئے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ پہلی رمضان تھی۔ یہ دن بھی عجیب ہوتے ہیں۔ روزے دار بیک وقت خوش بھی ہوتے ہیں اداس بھی۔ خوشی اس بات کی کہ آزمائش کا کورس پورا ہو رہا ہے اور اداسی و داعی کی۔ جیسی ایمان افروز ساعتیں اس مہینے میں ملتی ہیں ان سے گیارہ مہینے کی محرومی سامنے کھڑی ہے۔ بشرط عمر اور دن کتنے جلد گزر جاتے ہیں‘ اس کا ایک اندازہ رمضان ہی سے لگایا جا سکتا ہے۔ دو دن پہلے کی بات ہے ‘وٹس ایپ پر کسی نے پوسٹ کی کہ اس زمانے میں وقت کو پر لگ گئے ہیں ۔ممکن ہے یہ احساس بڑی عمر والوں کو زیادہ ہوتا ہو نوجوانی میں یہ کیفیت نہیں ہوتی‘ ہوتی ہے تو اس کا علم بعد میں آنے والے زمانے میں ہوتا ہے۔ ترجنیف نے اپنے کسی ناول میں لکھا تھا اور یہ صدی پہلے کی بات ہے کہ بچپن میں وقت جاوداں لگتا تھا ‘پھر پتہ چلا یہ کیسا گریز پا ہے۔ ویسے ایک حدیث مبارک میں بھی ہے کہ قیامت کے نزدیک وقت بہت تیزی سے گزرا کرے گا۔ اور آج وہ ہم سب دیکھ رہے ہیں سائنسی طور پر دیکھو تو وقت کی رفتار جوں کی توں ہے کچھ بھی تیزی مندی نہیں ہوئی۔ گھنٹے کی سوئیاں اسی رفتار سے چلتی ہیں اطمینان کے لیے سکینڈ کی سوئی کو حرکت کرتے دیکھو ۔ایک سکینڈ کا دورانیہ آپ کی یادداشت بتائے گی کہ وہی ہے جو آپ کے بچپن میں تھا لیکن برکت دیکھو تو واقعی گم ہو گئی ہے۔ وقت کے گزرنے کا احساس کیفیت اور طلب کے حالات سے بھی ہے روزہ افطاری سے پہلے کا انتظار ملاحظہ فرمائیں گھڑی دیکھی‘ ابھی پانچ بجے ہیں افطاری میں دو گھنٹے ہیں کافی دیر ادھر ادھر ٹہلے ‘ اخبار دیکھا کتاب اٹھائی کسی کو فون کیا پھر گھڑی دیکھی تو پتہ چلا کہ ابھی پندرہ منٹ ہی نمٹے ہیں پونے دو گھنٹے اب بھی باقی ہیں۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ گھڑی کی سوئیاں جیسے تھم گئی ہیں۔ ادھر افطاری ہو ئی کچھ کھایا‘ کچھ پیا‘ نماز پڑھی اور ذرا کی ذرا کمر سیدھی کی گھڑی دیکھی تو نو بجا رہی ہے۔ ارے چند منٹوں میں گویا دو گھنٹے نکل گئے یہی کیفیت دوسرے معاملات میں انتظار کی ہے۔ عاشق حضرات کی ایک رات ہجر کی صدی برابر ہے مزدور کی زندگی کا ایک گھنٹہ نہیں گزرتا نوابوں اور شاہوں کے تخت کے پچاس سال چٹکی بجائے گزر جاتے ہیں۔ وقت ٹھہرا ہوا لگے یا اڑتا ہوا محسوس ہو۔ زندگی کے آخر میں سبھی کا احساس ایک جیسا ہو جاتا ہے۔ یہی کہ سب کچھ ابھی کل کی بات تھی۔ اسی نفسیات کو قرآن پاک نے یوں بیان کیا ہے کہ لوگوں سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا تم کتنا عرصہ دنیا میں رہے تو بولیں گے چند دن اور اسی سے محاورہ بنا ہے کہ زندگی چند روز کا میلہ ہے اگرچہ میلہ سبھوں کے لیے نہیں اکثریت کے لیے تو چکی کی مشقت والی قید۔ اور اس چند روزہ میلے کے لیے ہر سال کروڑوں افراد کو قتل کر دیا جاتا ہے یا ہلاک ہونے پر مجبور کر دیا جاتا ہے لوگوں کا حق مارا جاتا ہے‘ دولت کے انبار لگائے جاتے ہیں کتنے بڑے بڑے محلات اور فارم ہائوس بنائے جاتے ہیں۔ ایک گھر سے امراکا گزارا نہیں ہوتا‘ درجہ بدرجہ کوئی اپنے ہی ملک میں درجنوں محل بناتاہے کوئی دنیا بھر میں۔ اور ہوس کم نہیں ہوتی اس کے نشاط کار کی ورائٹی اب جتنی بڑھ گئی ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ شاید قرب قیامت کی ایک نشانی یہ بھی ہے۔ اور ایک نشانی یہ بھی ہے کہ افطاری کرنے والے روزہ دار اہل ایمان کا دستر خوان اگر خدا کی مشیت سے (مہربانی کہنا ٹھیک نہیں‘ مہربانی نیک بندوں پر ہوتی ہے) بہت وسیع ہے تو اسے ذرا بھی یاد نہیں رہتا کہ کتنے ہی روزہ دار ایک کھجور خریدنے کی عیاشی کو ترستے ہیں۔ پاکستان میں ہر عید خودکشیوں کی کلیرنس سیل بن کر آتی ہے کسی سیاسی جماعت کو توفیق نہیں کہ وہ رسمی سیاست سے کچھ وقت نکال کر گلی محلے کے رفاہ کا کام بھی کر لے جماعت اسلامی کسی زمانے میں اس حوالے سے آگے آگے تھی اب بھی اس کا شعبہ خدمت خلق بہت محترک ہے لیکن زیادہ وقت وہ بھی اب سیاست کو دے رہے ہیں۔ خدمت خلق ایسا کام ہے جس کی تعریف ہونی چاہیے لیکن ہمارے یہاں اس پر بھی دکھی ہونے والوں کی کمی نہیں ماضی کی ایک مثال یوں ہے کہ جماعت اسلامی موبائل شفاخانہ چلاتی تھی۔ گلی محلے میں جا کر مریضوں کا علاج کرتی تھی۔ممتاز ترقی پسند احمد ندیم قاسمی بری طرح پٹ گئے اور ایک کالم میں غصہ یوں نکالا کہ جماعت اسلامی وہی گشتی شفاخانے والی اور حال کی مثال یہ ہے کہ عبدالستار ایدھی نے لاکھوں دکھی خاندانوں کو سکھ دیا لاکھوں جانیں بچائیں ۔ وداع رمضان سے کچھ اور لوگ بھی دکھی ہیں اور ان کی تعداد شروع میں مذکور لوگوں سے کہیں زیادہ ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے خوف سے بے نیاز ہیں اور اس مہینے میں وہ قطعی بے نیاز ہو جاتے ہیں انہیں دکھ ہے کہ سالانہ لوٹ مار کے دن تھوڑے رہ گئے اسی طرح کچھ اور لوگ جو بہت خوش بھی ہیں مثال کے طور پر ٹرانسپورٹ مافیا ان کے اندر کی حیوانیت کے عروج کے دن شروع ہو گئے جو عید تک جاری رہیں گے۔ خدا پاکستان میں بھی رمضان کو ویسا ہی مہینہ بنا دے جیسا کہ دوسرے ملکوں میں ہوتا ہے۔ ٭٭٭٭٭ سندھ کے ممتاز خدمت گار رسول بخش پلیجو بھی آخر مرحوم ہو گئے شاید 88برس عمر پائی ہوش سنبھالنے کے بعد سے صحت کے آخری لمحے تک سندھ میں وڈیروں کے ظلم کے خلاف جدوجہد کرتے رہے۔ کاروکاری کی مکروہ شیطانی رسم اور عورتوں پر دیگر مظالم کے خلاف ان کا جہاد بے مثال ہے۔ اپنے انداز میں اس کی ایک مثال حیدر بخش جتوئی مرحوم نے قائم کی تھی جو ہاریوں کے حقوق کے لیے تمام عمر لڑتے رہے۔ لیکن سندھ میں جاگیرداری نظام جسے پیروں نے مذہبی تقدس بھی دے دیا ہے اور ریاست کے طاقتور ستون اس کے محافظ ہیں اتنا طاقتور ہے کہ بظاہر حیدر بخش جتوئی اور پلیجو مرحوم کی جدوجہد کے ثمرات زیادہ نظر نہیں آتے پھربھی سندھ میں شعور کی لہر پھیل رہی ہے۔ اب شاید زیادہ عشرے نہیں لگیں گے کہ سندھ بھی شمالی اور وسطی پنجاب کی طرح جاگیرداری سے آزاد ہو جائے گا اور یہ سب ان ہر دو مرحومین کا صدقہ جاریہ ہو گا حیرت اور عبرت کی بات ہے کہ سندھ کے اس مجاہد اعظم رسول بخش پلیجو کا صاحبزادہ ہاریوں اور محنت کشوں کے خلاف صف آرا ’’سٹیٹس کو‘‘ کا کارندہ بن گیا ہے ممکن ہے پیپلز پارٹی سے نفرت میں وہ بھٹک کر اس طرف آ نکلا ہو بہرحال یہ ہوتا ہے کسی کے گھر اس کا برعکس بیٹا بھی پیدا ہو جاتا ہے جیسے کہ ایوب کھوڑو سٹیٹس کو کے خدمت گار تھے ان کی صاحبزادی حمیدہ کھوڑو مرحومہ عوامی حقوق کی علمبردار شعور کی روشنی پھیلانے میں ان کا بھی ناقابل فراموش حصہ ہے ان سب مرحومین کی خدا مغفرت فرمائے۔