اسلام آباد(خبر نگار)سپریم کورٹ نے کثرت رائے سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کونا اہل قرار دینے کے لئے مسلم لیگ(ن) کے ملک شکیل اعوان کی اپیل خارج کردی۔جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس سجاد علی شاہ نے دو ایک کی اکثریت سے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے شیخ رشید پر غلط بیانی کرنے کے الزامات مسترد کر دیئے ہیں اور قرار دیا ہے کہ شکیل اعوان نے الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کئے ،جسٹس فائز عیسیٰ نے اختلافی نوٹ لکھا ہے اور 7 سوالات اٹھاتے ہوئے فل کورٹ کی تشکیل کی تجویز دی اور کہا ہے کہ جب تک فل کورٹ سے ان سوالات کا جواب نہیں آتا ،شکیل اعوان کی اپیل کا معاملہ زیر التوا رکھا جائے ۔ فیصلہ بدھ کو جسٹس شیخ عظمت سعید نے پڑھ کر سنایا،عدالتی فیصلہ51صفحات پر مشتمل ہے جن میں سے 23صفحات پر مشتمل اکثریتی فیصلہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے تحریرکیا جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے 28صفحات پر مشتمل الگ فیصلہ لکھاہے ۔ جسٹس شیخ عظمت سعید کے تحریرکردہ اکثریتی فیصلہ میں جسٹس فائز عیسیٰ کی طرف سے فل کورٹ کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جن نکات پر فل کورٹ بنانے کا کہا گیا ہے ، عدالت عظمٰی نے نواز شریف کی نااہلیت اور تاحیات نااہلی کے مقدمات کے فیصلوں سمیت متعدد مقدمات کے فیصلوں میں ان نکات کا احاطہ کیا ہے ۔اکثریتی فیصلہ میں قرار دیا گیا ہے کہ اگر اس مرحلے پر شیخ رشید کے مقدمہ کا فیصلہ روکا گیا تو اس سے انتخابی عمل متاثرہوسکتا ہے اور عام انتخابات 2018 کی حیثیت پر سوالات اٹھیں گے ، پورا انتخابی عمل دائو پر لگ جائے گا۔عدالت نے شیخ رشید کے اس موقف کو تسلیم کیا ہے جس میں انہوں نے کہاکہ ان سے جائیداد کے اعداد وشمار کو جمع کرنے میں غلطی ہوئی ۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ شیخ رشید 1081 کنال زمین کے مالک ہیں تاہم کاغذات نامزدگی فارم میں غلطی سے 983 کنال لکھا گیا لیکن جائیداد کی الگ الگ تفصیلات میں پورے 1081 کنال زمین ظاہر کی گئی۔عدالت نے قرادیا ہے کہ شیخ رشید پر زرعی اراضی چھپانے کا الزام ثابت نہیں ہو سکا اورشیخ رشید نے درخواست گزار کے الزام سے بھی زیادہ جائیداد ظاہر کی۔ اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شیخ رشید نے کاغذات نامزدگی میں گھر اور قیمت دونوں ظاہر کیں اور ظاہر کئے گئے ذرائع آمدن کے علاوہ کوئی اکائونٹ یا اثاثہ منظر عام پر نہیں لایا گیا۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ الیکشن ٹریبونل کے فیصلہ میں کوئی خامی نظر نہیں آتی ،اس لئے اپیل خارج کی جاتی ہے ۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے فیصلے میں 7 سوال اٹھا ئے ہیں جن میں کیا گیا ہے کہ کیا کاغذات نامزدگی میں ہر غلط بیانی کا نتیجہ نااہلی ہے ؟ کیا انتخابی تنازعات کے فیصلے سپریم کورٹ کے براہ راست اختیار سماعت کے آرٹیکل 184/3 کے تحت کرکے آرٹیکل 225کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے ؟ کیا 184/3 میں آرٹیکل 62-1ایف کے تحت نااہل کیا جاسکتا ہے ؟ کیا آرٹیکل 62/1ایف کے متن میں کورٹ آف لا کے ذکر میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے ؟کیا عدالتی کارروائی کے دوران ظاہر ہونے والی غلط بیانی کو نااہلی کیلئے زیر غور لایا جاسکتا ہے ؟کیا کسی شخص کی انتخابی عذر داری کو عوامی مفاد کا معاملہ قرار دیا جاسکتا ہے ؟ معاملہ عوامی مفاد کا ہو بھی تو کیا شواہد فراہمی سے متعلق قوانین کا اطلاق ہو گا؟ کیاغلط بیانی پر نااہلی کی مدت تاحیات ہو گی یا آئندہ الیکشن تک؟ یہی سوالات اسحاق خاکوانی کے فیصلے میں بھی اٹھائے گئے ۔ اپنے فیصلہ میں جسٹس فائز عیسی نے بھی شیخ رشید کو نااہل قرار نہیں دیاکیونکہ انہوں نے کہا ہے یہ فیصلہ فل کورٹ سے مذکورہ سوالات کے جواب آنے تک موخر کیا جائے ۔ جسٹس فائز عیسی نے پانامہ لیکس اور عمران خان کی اہلیت کیس کے فیصلے میں وضع کردہ اصولوں کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ تاثر دور ہونا چاہئے کہ عدالت کے فیصلے یکساں نہیں ہوتے ،ایک فیصلے میں سخت اصول کا اطلاق ہوا جبکہ دوسرے فیصلے میں اس اصول سے اجتناب بھرتا گیا، اس لئے فل کورٹ ان سوالات کا جائزہ لے ۔فیصلے کے بعد شیخ رشید نے عام انتخابات میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں گے ۔شیخ رشید نے کہا انھوں نے زندگی میں کوئی غلط کام نہیں کیا اور نہ ہی دولت چھپائی ، خلاف بھی فیصلہ آتا تو قبول کرتا، نواز شریف نہیں کہ فیصلہ قبول نہ کرتا۔انہوں نے کہا جوان کی سیاسی موت دیکھ رہے تھے ،انکی سیاسی موت ہوچکی لیکن وہ ان کی طبعی زندگی چاہتے ہیں۔درخواست گزار ن لیگی رہنما شکیل اعوان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا شیخ رشید کے غلطی تسلیم کرنے کے باوجود اس طرح کا فیصلہ آیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں انصاف کا حصول کتنا مشکل ہے ۔