اسلام آباد(وقائع نگارخصوصی)سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ کھینچا تانی اورسیاست دانوں کو مینج کرنے کے نتائج اچھے برآمد نہیں ہونگے ، ماضی میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کرنے کے تمام تجربات ناکام ہوچکے ، جمہوری عمل کے تسلسل سے سیاسی نظام بہتر ہوگا، بطورسپیکربیوروکریسی کے رویے کے باعث قومی اسمبلی سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی الودعی تقریب سے خطاب سے کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات منصفانہ نہ ہوئے تو 4کے بجائے 40حلقے کھولنا ہوں گے ۔گزشتہ 5سالوں کے دوران نمایاں قانون سازی کے علاوہ کئی اہم سنگ میل عبور کیے ہیں، قومی اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار سات قوانین مشترکہ اجلاس میں منظور کیے جن میں چار پرائیویٹ ممبر بل شامل ہیں۔ ہر بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر بھرپور طور پر اجاگر کیا۔ سیاست دانوں سے وفاداریاں تبدیل کروانے کے تمام تجربات ماضی میں بری طرح ناکام ہوئے ، پہلی مرتبہ موجودہ حکومت کو اقتدار سیاسی اور جمہوری حکومت سے منتقل ہوا تھا مستقبل میں دو یا تین انتخابات وقت پر ہوئے تو سیاسی نظام سنجیدہ ہوکر سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ میرا حلقہ 6حلقوں میں تقسیم ہوچکا ہے ۔ میرے حلقے کے ووٹرز کو پرویز ملک ، خواجہ سعد رفیق ، خواجہ احسان اور حمزہ شہباز کے حلقوں میں تقسیم کردیا گیا لہذا اب دو ہی آپشن ہیں کہ یا تو میں سیاست سے دستبردار ہوجاؤں یا پارٹی سے درخواست کروں کہ میرے مستقبل کافیصلہ کیا جائے ۔ سپیکر نے کہا کہ موجودہ اسمبلی نے 136قوانین منظور کیے جن میں 49 انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن میں قر آن پا ک کی لا زمی تعلیم کا بل ، گواہ کے تحفظ، سیکورٹی اور فوائدکا بل،معلومات تک رسائی کا بل، انتخابی اصلاحات کا بل، پبلک انٹرسٹ ڈسکلوز بل، او رہندو شادی ایکٹ جیسے قوانین شامل ہیں۔موجودہ اسمبلی نے چار آئینی آرٹیکلز بھی منظور کیے جن میں سے دو انسداد دہشتگردی اور دو انتخابی نظام بہتر بنانے سے متعلق ہیں۔ نوازشریف کے انٹرویو اور بیانیہ سے متعلق سوال کا جواب دیئے بغیر انہوں نے اتنا کہا کہ انٹرویو کے مس رپورٹ ہونے کی بات آچکی ہے ۔