آج سے ٹھیک 34برس قبل مشرقی پنجاب کے دارالحکومت امرتسرمیں واقع سکھوں کے سب سے اہم مذہبی مقام دربارصاحب’’ گولڈن ٹیمپل‘‘ پربھارت کے جارحانہ فوجی آپریشن ’’بلوسٹار‘‘کے دن کویادکرتے ہوئے کشمیری رہنماسیدعلی گیلانی نے سکھوں کے ساتھ اظہارہمدردی کرتے ہوئے کہاکہ گولڈن ٹیمپل بھارت کی جانب سے بمباری کے نتیجے میں ہوئی تباہی کے زخموں کوسکھ کبھی نہیں بھول سکتے ۔اس حقیقت میں کوئی جھول نہیں کہ مدت مدیدگزرنے کے باوجودوہ ابھی بھی تازہ اور ہرے ہیںاس کا درد و کرب سکھ خاص طورپرہمیشہ محسوس کرتے ہیںیہ انسانیت کش آپریشن تھا۔ دنیا کی بڑی جمہوریت کاجھوٹا دعویٰ کرنے والا بھارت مسلمانوں اورسکھوں سمیت اقلیتوں کا وجود برداشت نہیں کرپا رہا ہے اور وہ آج بھی اسی طرح ستائے جارہے ہیں جس طرح پہلے ان کے ساتھ ظلم وستم برپا رکھا جارہا تھا۔ بھارتی سرکار چاہے سیکولرازم کا لبادہ اوڑھے کانگریس ہو یا ہندوتوا کے پرچارک زعفرانی بریگیڈ، ہر ایک نے مسلمانوں، سکھوں، دلتوں اور مسیحیوںکو پشت بہ دیوار کردیا ہے۔لیکن ظلم وبربریت اور سفاکیت کا یہ ننگا ناچ کسی بھی مہذب اور جمہوری سماج کے لیے نیگ شگون نہیں ہوسکتا۔اس میں کوئی شک نہیںکہ گولڈن ٹیمپل پر آپریشن بلوسٹار ایسا دردناک اور وحشت ناک واقعہ تھاکہ جوسکھوں کوبھارت سے آزادی اوراپنے لئے الگ وطن ’’خالصتان‘‘کے حصول کے لئے جنگ لڑنے پر حوصلہ اور ہمت دیتارہے گا۔ کشمیری مسلمان بھارت کے استعمار، ظلم وجبر اور بے پناہ زیادتیوں کے شکار ہیں اور وہ ٹھیک طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اپنوں کو کھونے کا غم کتنا بڑا اور دلبرداشتہ ہوتا ہے۔اس لئے سیدعلی گیلانی نے سکھوں کوپہنچائے جانے والے غم کویادکرتے ہوئے سکھوں سے اظہارہمدردی کرتے ہوئے کہاکہ اس حقیقت کو،کوئی ردنہیں کرسکتا کہ ظلم، بربریت اور زبردستی کسی بھی کمزور قوم کو ہمیشہ کے لیے زیر نہیں کرسکتے اورجابر اور غاصب قوتوں کو ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ یہ 3جون 1984ء کی بات ہے کہ بھارتی فوج نے سکھوں کے سب سے بڑے مقام گولڈن ٹیمپل پرحملہ کر دیا جس میں بہت سارے سکھ مارے گئے۔ بھارت نے اس ہولناک لشکر کشی کو آپریشن بلیو سٹار کا نام دیا تھا۔ گولڈن ٹیمپل کمپلیکس میں سکھوں کے ایک لیڈر جرنیل سنگھ بھنڈراوالہ ڈیرے جمائے ہوئے تھے اور اس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کی طرف سے بھارتی فوج کو حملے کا حکم ہوا اور پھر بھارتی توپخانے اور ٹینکوں سے حملہ کر دیا۔گولڈن ٹیمپل میں پانچ دن تک خون خرابہ ہوتا رہا اور جرنیل سنگھ بھنڈراوالہ اور ان کے بہت سے ساتھی مارے گئے۔سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد400 سکھ اور 83 فوجی بتائی گئی لیکن سکھ یہ تعداد ہزاروں میں بتاتے ہیں۔سکھوں کی ہلاکتوں کے بعد پورے مشرقی پنجاب میں ہر طرف سوگ تھا۔ غم وغصہ تھا یہ غصہ گولڈن ٹیمپل پرحملے کے چھ ماہ بعد اس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی پر نکلا جنہیں ان کے ہی دوسکھ محافظوں نے گولیاں مار کر ہلاک کیا اور گولڈن ٹیمپل پر فوج کشی کا بدلہ لیا۔ لیکن اندرا گاندھی کی ہلاکت کے بعد پورے ملک خصوصاً دلی میں سکھ مخالف مظاہرے ہوئے جس میں تین ہزار سے زائد سکھ ہلاک کر دئیے گئے۔جبکہ 2012ء میں اس آپریشن کی بازگشت ایک مرتبہ پھر لندن میں سنی گئی جب چند سکھ نوجوانوں نے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی، انڈین فوج کے لیفٹیننٹ جنرل کلدیپ سنگھ برار پر انکی ریٹائرمنٹ کے بعدچاقو سے اس وقت حملہ کیا جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہوٹل واپس آ رہے تھے۔ کلدیپ سنگھ برار آپریشن بلیو سٹار کے کمانڈنگ آفیسر تھے اور انہیں اس آپریشن کا آرکیٹکٹ بھی کہا جاتا ہے۔ جنرل کلدیپ سنگھ برار کی گردن پر ایک گہرا زخم آیا لیکن وہ جان لیوا ثابت نہ ہوسکا۔ یہ تاریخ کاباضابطہ حصہ ہے کہ تقسیم برصغیرکے وقت قائداعظم نے سکھوں کی قیادت کوپیش کش کی تھی کہ وہ پاکستان میں شمولیت اختیار کرلیں تو انہیں مشرقی پنجاب میں ایک ملحقہ آزاد ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔ یہ پیش کش بڑی حکمت پر مبنی تھی، اگر سکھ لیڈر سردار بلدیوسنگھ اور ماسٹر تاراسنگھ اسے تسلیم کرلیتے تو نہ مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کو مغربی پنجاب کی طرف دھکیلا جاتا، نہ مغربی پنجاب سے سکھوں کو یکایک بھاگ کر مشرقی پنجا ب میں پناہ لینا پڑتی اور1947ء میں وحشت و بہیمیت کا وہ طوفان نہ امنڈ آتا جس نے انسانوں کودرندہ بنادیا۔ انتقالِ آبادی اگر ہوتا توکئی سالوں میں آہستہ آہستہ اپنی مرضی اورمنشا کے ساتھ ہوتا۔ کسی کو کوئی پریشانی نہ ہوتی۔ مزید یہ کہ پاکستان کی حامی سکھ ریاست بھارت کے راستے میں ایک دیوار بن جاتی۔ جواہرلال نہرو،سردارپٹیل اورگاندھی کایہ منصوبہ تھاکہ کسی بھی طور سکھوں کوالگ وطن نہ ملے اس لیے وہ لاکھوں کروڑوں انسانوں کے خون کواپنے سیاسی مفاد کی بھینٹ چڑھاکر قائدِ اعظم کی امن پسندانہ کوشش کوناکام بنانے پر تل گئے۔ جواہر لال نہرو، اورگاندھی نے اس وقت کی سکھ قیادت کوورغلایااورسکھوں کے ساتھ کھلادھوکہ کیااوروہ اپنی ریاست معرض وجود لانے میں ناکام رہے۔ نہرو نے کانگریس کے صدر کی حیثیت سے سکھ لیڈروں کو کہا کہ وہ قائدِ اعظم کی پیش کش پر قطعا غور نہ کریں بلکہ بھارت میں شامل رہیں توانہیں مشرقی پنجاب میں ایک آزاد ریاست دی جائے گی۔ جواہرلال دھوکہ بازا نسان تھا، اس پر سکھ پوری طرح اعتماد نہیں کرتے تھے مگر گاندھی کی سیاست کی کاٹ کسی کے پاس نہ تھی۔ گاندھی دنیا کا وہ سب سے بڑا اداکار تھا جوبادی النظرمیں انکسار، تواضع اورمیٹھے لب ولہجے سے بڑے بڑے سمجھدارلوگوں کوکسی معاہدے کے بغیر اپنے جھانسے میں اتارنے کافن اچھی طرح جانتاتھا۔ سکھوں کی اس وقت کی قیادت نے، گاندھی کوباپو مان کر کسی تحریری معاہدے کے بغیریقین کرلیاکہ مشرقی پنجاب انہی کوملے گا۔ مسلم لیگ جو باقاعدہ معاہدہ کرنے جارہی تھی، سکھوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اوریوں سکھوں کی لیڈرشپ نے اپنی پائوں پر خود کلہاڑی ماری۔ کانگریسی لیڈروں نے سکھوں کو بدنیتی پرمبنی اس امرکایقین دلایاکہ مشرقی پنجاب میں اگر مسلمان اسی طرح آباد رہے تو سکھ ریاست قائم نہیں ہوسکے گی۔ آزاد ریاست سکھوں کی واضح اکثریت کی بنیاد پر ہی قائم ہوسکتی ہے۔ چنانچہ سکھوں کے مسلح دستوںنے ہندئووں کی راشٹریہ سیوک سنگھ کے جھتوں،بھارتی پولیس اورفوج سے مل کرمسلمانوں کا نام ونشان مٹانے میں ایسی ایسی شقاوتوں کاثبوت دیاکہ ابلیس بھی شرماجائے۔ پٹیالہ، کپورتھلہ، جالندھر اورلدھیانہ سے لے کر فیرو ز پور تک ہر جگہ مسلمانوں پرقیامت ڈھائی گئی۔اس وحشت ناکی اورخون آشامی کے دوران جب مسلمانوں کی مملکت پاکستان وجومیں آئی توسکھ خوش تھے کہ انہیں انڈین یونین میں اپنی آزادر یاست ملے گی۔ مگراب مکافاتِ عمل کادور شروع ہوچکاتھا۔ قدرت نے سکھوں کو انہی کم ظرف اوربدبخت ہندو نیتائوں کے ہاتھوں ذلیل کرنا شروع کیا، جن کے کہنے پر انہوںنے مسلم لیگ سے ایک باعزت میثاق نامے کو ٹھکراکر لاکھوں مسلمانوں کو خون میں ڈبودیاتھا۔ سالہا سال تک سکھوںنے پوری کوشش کی کہ وہ بھارت ماتا کے وفادار شہری ہونے کا ثبوت دے کرہندونیتائوں کواتنا ممنون کریں کہ وہ انہیں ایک الگ ریاست ہنسی خوشی دے دیں۔ جو بات بانی پاکستان نے سکھوں کو سمجھائی تھی، وہ سکھوں کو تین عشروں کی تذلیل کے بعد سمجھ آئی اور 1984ء میں وہ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی قیادت میں اپنے حقوق کے لیے کانگریسی حکومت کے سامنے اٹھ کھڑے ہوئے۔ مگر جواب میں اندراگاندھی نے آپریشن بلیواسٹار شروع کرایااورایک ہولناک لشکر کشی کے ساتھ سکھوں کے اہم مذہبی مقام دربار صاحب امرتسر کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ ہزاروں سکھ قتل، ہزاروں گرفتاراورہزاروں لاپتا ہوئے۔ اس دن سکھوں کی آنکھیں کھلیں اورانہیں اندازہ ہواکہ وہ واقعی بہت بھولے ہیں۔ انہیں بات بہت دیر سے سمجھ آتی ہے۔ اب انہوںنے طے کرلیا کہ وہ آزاد خالصتان بناکردم لیں گے۔ سکھ اس بات کومانتے ہیں کہ انہیں 1947ء میں سخت بے وقوف بنایا گیا۔ وہ جانتے ہیں کہ قدرت ان سے انتقام لے رہی ہے۔ مشرقی پنجاب میں ویسے ہی حالات ہیں جیسے کشمیر میں۔ تاہم بھارتی میڈیا ان کودبانے کی کوشش کرتا ہے۔ 1984ء سے اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد سکھوں کو قتل، گرفتار اور لاپتا کیا جاچکا ہے۔ کئی لاکھ سکھ جلاوطن ہوکر دنیا کے ڈیڑھ سو ممالک میں منتشر ہوچکے ہیںجن میں امریکا کے ڈاکٹر امرجیت سنگھ جیسے اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی ہیں۔ڈاکٹر امرجیت سنگھ کا کہنا ہے اگرسکھوں کو بھی جناح جیسا لیڈرمل جاتا تو برصغیر کے حالات بہت مختلف ہوتے۔ ملک پرامن طریقے سے تقسیم ہوتا، سکھ مسلمانوں کے ساتھ مل کر ہندوئوں اورانگریزوں کی سازش کوناکام بنادیتے۔ سکھ آج اپنے آباواجداد کی غلطیوں کی تلافی کے لیے تیار ہیں۔ سکھ آج مشرقی پنجاب کی آزادی میں مدددینے کے عوض کشمیر کی جنگ میں تعاون پر آمادہ ہیں۔ ان کی اس پیش کش پر غور ہوناچاہئے اورقائدتحریک آزادی کشمیرسیدعلی گیلانی کاسکھوں کے ساتھ ہمدردی کااظہارانہی معنوں میں لیاجاناچاہئے۔