اسلام آباد(خبر نگار خصوصی،نیٹ نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)سینٹ انتخابات میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے متفقہ امیدوار اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ بظاہر نظر آ رہا کہ اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر نیوٹرل ہے ۔ سینٹ انتخابات میں میری فتح جمہوری قوتوں کی فتح ہو گی،پیسے لگانے کی باتیں ہورہی ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ، لوگ مجھے تعلق اور پرفارمنس کی بنیاد پر ووٹ دینگے ۔گزشتہ روزاسلام آباد میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کیساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ مجھ پر اعتماد کرنے پر پی ڈی ایم کا بے حد مشکور ہوں۔ پی ڈی ایم نے مجھے ٹکٹ دیا ، میں پی ڈی ایم کی ترجمانی کرونگا۔مجھے پہلے بھی متفقہ وزیراعظم منتخب کیا گیا تھا۔ آج بھی ہم اپنی مہم شروع کئے ہوئے ہیں جس کااچھارسپانس ہے ۔پی ڈی ایم کے تمام اکابرین کے پاس فرداً فرداً جاؤنگاجو مجھ سے بھی زیادہ میری سپورٹ کررہے ہیں۔ ضمنی انتخاب میں پی ڈی ایم کی پرفارمنس پر مبارکباد دیتا ہوں۔پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کیساتھ میری ملاقات ہوئی نہ ان سے کوئی رابطہ ہوا ہے ،وہ میرے عزیز ہیں، ان کو کہنے کی ضرورت نہیں ۔میں نے ارکان کی عزت کرانی ہے ۔ ممبرپارلیمنٹ کومیری وجہ سے عزت مل رہی ہے ، آج انکی عزت وقارمیں جواضافہ ہواوہ میری وجہ سے ہوا۔وزیر اعظم وزراسمیت ایم این اے اور ایم پی ایز سے مل رہے ہیں اسکی وجہ میں ہی ہوں۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ہیں،انہوں نے میری حمایت کی ، ماضی ماضی ہے آپ مستقبل کی بات کریں ۔اس موقع پر فضل الرحمٰن نے کہا کہ سینٹ الیکشن کا معرکہ سرکرینگے ، یوسف رضا گیلانی سینٹ کیلئے ہمارے مشترکہ امیدوار ہیں۔ پی ڈی ایم یوسف رضا گیلانی کی حمایت میں متحد ہے ، انکے پاس سینٹ کی نشست جیتنے کیلئے 12ممبرز زیادہ ہیں۔ گیلانی کے اعلان کے بعد حکومتی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ یوسف گیلانی کے مقابلے میں حکومت کی جانب سے حفیظ شیخ الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ حکومت کا اپنی صفوں پرعدم اعتماداورخوف نظرآرہا ۔ یوسف رضا وزیراعظم اور سپیکر قومی اسمبلی بھی رہ چکے ہیں انکا چیئرمین سینٹ بننا ہم سب کیلئے اعزاز ہو گا۔ پی ڈی ایم انکی کامیابی کیلئے ہر ممکن کوشش کریگی۔ ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے ، آٹا، چینی، گھی سمیت سب چیزیں اتنی مہنگی ہو چکیں کہ عام آدمی کی قوت خرید جواب دے چکی۔ عوام اڑھائی سال سے شدید کرب کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔قبل ازیں یوسف رضا گیلانی نے فضل الرحمٰن سے ملاقات کی جس میں سینٹ انتخاب اورموجودہ سیاسی صورتحال سمیت مختلف امورپر تبادلہ خیال کیا گیا ۔