اسلام آباد(خبر نگار) سینٹ انتخابات کے بارے صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی ہے کہ سینٹ الیکشن کے مروجہ نظام کو جاری رکھنے کا مطلب منتخب نمائندوں کو پارٹی نظام کی خلاف ورزی کی اجازت دینا ہے ۔پیر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ اچھی جمہوریت کیلئے سیاسی جماعتوں کا مضبوط ہونا ضروری ہے ،اگر سیکرٹ بیلٹ کا طریقہ کار جاری رہے گا تو لوگ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے رہیں گے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا انتخابی نظام ایک جگہ پر رک گیا ،1973کا آئین بن جانے کے بعد ہم ایک دن کے لیے بھی آگے نہیں جاسکے ۔ رضا ربانی نے عدالت کی طرف سے اٹھائے گئے سولات کے جواب میں کہا ملک میں سول بالادستی کو قبول ہی نہیں کیا گیا،میں صورتحال کو جوں کا توں رکھنے کے حق میں نہیں لیکن انتخابات میں سیکریسی ختم کرنے سے ووٹر کوحاصل تحفظ ختم ہو جائے گا، سیکریسی کے باجود ڈیپ سٹیٹ کو پتہ ہوتا ہے کہ کس نے کس کو ووٹ دیا۔ رضا ربانی نے کہا ایک صوبائی اسمبلی کے اراکین کا گروپ قوم پرست جماعتوں کیساتھ مل کر فیصلہ کرے ہم فلاں کو ووٹ دیں گے تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا پھر اسے چھپانے کی کیا ضرورت ہے ،علانیہ ووٹ دے ۔ رضا ربانی نے کہا کہ میرے جیسا بندہ تو انصاف کی فراہمی سے مایوس ہو کر خودکشی کر لے گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسے نہ کہیں آپ مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے رضا ربانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ جس سسٹم کو جاری رکھنا چاہتے ہیں وہ انفرادی ہیروازم کو فروغ دیتا ہے ،جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ پارٹی سسٹم مضبوط ہو، جب تک ہم عرصہ دراز سے جاری طریقہ کار میں تبدیلی نہیں لائیں گے جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی ۔ سماعت آج منگل تک ملتوی کردی گئی ۔