وہ خدائے بزرگ و برتر، مالک کون و مکاں جس نے اس کائنات کو خلق کیا، پھر اسے زمین پر اتارے جانے والے خلیفہ فی الارض کے لیے مسخر کیا، اسی نے اس خلیفہ کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے ہر قوم اور علاقے میں اپنے نبی اور رسول بھیجے، صحیفے نازل کئے، پھر اس دنیا کے اختتام سے قبل آخری نبی سید الانبیاء رسول مکرم حضرت محمد مصطفی ﷺکو مبعوث کیا اور رہتی دنیا تک قرآن کو کتاب ہدایت کے طور پر نازل کیا۔ وہ جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے اور دلوں میں گھس جانے والے امراض سے بھی آشنا ہے، جس نے انسان کو کمزور تخلیق کیا، اسے بخوبی علم ہے کہ یہ کہاں کہاں ٹھوکر کھائے گا اور کیسے کیسے راہ ہدایت سے بھٹکے گا۔ اسی لیے اللہ نے قرآن پاک میں ان مقامات کو اس طرح واضح کیا ہے جیسے خطرناک راستے کی جانب مڑنے والوں کے لیے بہت بڑے بڑے وارننگ کے بورڈ لگائے جاتے ہیں۔ قرآن پاک میں شاید ہی کسی اور مقام پر اس قدر واضح اور دوٹوک وارننگ نہیں دی گئی، جتنی کفار کے شہروں، بستیوں اور ملکوں میں چکاچوند اور خوشحالی سے متاثر ہونے والوں کیلئے دی گئی ہے۔ اللہ کے لامحدود علم کی وسعتوں کو یہ اندازہ تھا کہ ایک دن تہذیب مغرب کی چکا چوند سے متاثر ہونے والے مسلمان ایک ایسے احساس کمتری میں مبتلا ہو جائیں گے کہ انہیں اپنے ماحول سے نفرت اور شرمندگی ہونے لگے گی۔ انہیں اپنے اردگرد بسنے والے، اللہ سے ڈر کر دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرنے والے بھی نظر نہیں آئیں گے، عابدِ شب زندہ دار ان کی آنکھوں سے اوجھل رہیں گے اور وہ خود پر بحیثیت قوم لعنت و ملامت کرتے پھریں گے۔ مغرب کی تہذیبی روشنی سے متاثرہ دل اور چندھیائی ہوئی آنکھوں کو میرے اللہ نے قرآن پاک میں چودہ سو سال قبل ایسے خبردار کیا تھا جیسے کھائی میں گرنے والے شخص، ٹوٹے پل کی جانب بڑھنے والے مسافر یا خطرناک جنگل کی طرف مڑ جانے والے سیاح کو کیا جاتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے لاَ یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ فِیْ الْبِلاَد(آل عمران196) ترجمہ: جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کا شہروں/ملکوں میں (خوشحالی سے) چلنا پھرنا تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈال دے۔ میں نے قرآن پاک کا اصل عربی متن اس لئے تحریر کر دیا ہے کہ کہیں مجھ پر یہ الزام نہ لگ جائے کہ میں جھوٹے حوالے گھڑتا ہوں۔ یہ کسی حدیث کے الفاظ نہیں ہیں کہ تحقیق و جستجو سے انہیں ضعیف اور من گھڑت ثابت کرتے پھرو، کسی فقیہہ، مجتہد، صوفی اور صاحب نظر کا قول بھی نہیں کہ یہ کہہ کر انکار کر دو کہ میں تو صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کو حجّت مانتا ہوں۔ عربی زبان کے کسی عالم سے اس آیت کا ترجمہ کروا لیں یا خود ’’المنجد‘‘یا کوئی اور مستند لغت کھول کر اس آیت میں موجود الفاظ کا ترجمہ کر لیں اور پھر وسیع قلب اور تعصبات کو ذہن سے نکال کر اس آیت کو پڑھیں تو آپ کو اللہ کی طرف سے دی ہوئی یہ وارننگ اتنی واضح نظر آئے گی کہ آپ تہذیب مغرب کے ملکوں اور شہروں کی جانب محبت سے دیکھنے سے بھی خوف کھائیں گے کہ کہیں میں اس چکا چوند کی نظر ہوکر گہری کھائی میں نہ گر جاؤں۔ کیونکہ اللہ اسی آیت سے متصل آیات میں اس وارننگ کی وجہ بھی بتا دیتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے یہ تو تھوڑا سا مزہ (جو یہ اڑا رہے ہیں) پھر انکا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بدترین بچھونا ہے (آل عمران 197) اللہ جسے ہدایت کا نور عطا کرتا ہے اسے اپنی اس وارننگ کی سمجھ بوجھ بھی دیتا ہے۔ ہماری زندگیوں میں علامہ اقبال اور قائداعظم، دو ایسی ہستیاں ہیں جو ان مغربی تہذیبوں میں ایک طویل مدت گزار کر اسے پرکھ کر اسکے ناقد بنے۔ اقبال کا کلام تو سارے کا سارا اس آیت کی تفسیراور مغربی تہذیب کی ملامت ہے ۔ یورپ میں بہت روشنی علم و ہنر ہے حق یہ ہے کہ بے چشم حیواں ہے یہ ظلمات بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات اقبال کا تو یہ دعویٰ تھا کہ ’’خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانشِ فرنگ‘‘ کیونکہ میری آنکھ کا سرمہ خاک مدینہ ونجف ہے۔ کلام اقبال میں کئی سو اشعار اس تعفن زدہ اور مکرو مغربی تہذیب پر لعنت بھیجتے نظر آتے ہیں۔ لیکن قائداعظم جنہیں ہم عموما ایک مغرب زدہ شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اپنی زندگی کی آخری تقریر جو انہوں نے یکم جولائی 1948ء کو سٹیٹ بینک کے افتتاح پر کی ہے، اس میں جہاں وہ سودی مغربی معیشت کے خلاف اسلامی طرز معیشت کو اپنانے کا آغاز کرتے ہیں، وہیں وہ مغرب کی تہذیب و تمدن و معیشت کے بارے میں کہتے ہیں ’’مغرب کے معاشی نظام نے نوع انسانی کے لئے ناقابل حل مسائل پیدا کیے ہیں اور بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس وجہ سے دنیا کو جس تباہی کا سامنا ہے، اسے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ مغربی دنیا اپنی ٹیکنالوجی اور صنعتی برتری کے باوجود انسانی تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار ہے‘‘۔ قرآن پاک کی آفاقی وارننگ اور جدید مغربی تہذیب کے دو غوطہ زن قائد اعظم اور اقبال کی گواہی کے بعد بھی اگر کوئی شخص لوگوں کو اس کھائی کے بظاہر چکاچوند حسن کی طرف ترغیب دیتا ہے تو پھر رمضان کے آخری عشرے میں اس کے لیے دل سے ہدایت اور چشم کشائی کی دعا نکلتی ہے۔ مغربی تہذیب کی چکا چوند سے متاثر ان دانشوروں کو اس تعفن زدہ برباد معاشرے کی یہ جھلک کیوں نظر نہیں آتی جس میں ہر روز ہزاروں بوڑھے مرد و زن کی لاشیں تنہائی میں زندگی کاٹتے ہوئے اس وقت برآمد ہوتی ہیں جب پڑوسی مکان سے آنے والی بدبو سے پولیس کو اطلاع کرتے ہیں۔ انہیں وہ لاکھوں اغواء شدہ بچیاں کیوں نظر نہیں آتیں جو مشرقی یورپ، بھارت، بنگلہ دیش اور افریقہ جیسے ممالک سے سمگل کرکے لائی جاتی ہیں اور ان سے امریکہ و یورپ کی نائٹ لائف اور سیاحتی کاروبار چلتا ہے۔ مساج پارلرز، نائٹ کلبوں اور جسم فروشی کے اس دھندے میں یہ اغوا کردہ لاکھوں بچیاں روزانہ چار ہزار یورو سے آٹھ ہزار یورو تک میں فروخت ہوتی ہیں۔ انہیں امریکہ میں ہر دوسرے منٹ ایک عورت جنسی درندگی کا شکار ہوتے ہوئے کیوں نظر نہیں آتی۔ انہیں وہ بد دیانت یورپی کاروباری طبقہ کیوں نظر نہیں آتا جس کی منافع خوری اور جھوٹ کا یہ عالم ہے کہ ادویات کا پورا شعبہ چین سے اگر پانچ ڈالر فی اونس میں ایک دوا خریدتا ہے تو اس دوا کی صرف سوئٹزرلینڈ کی سرزمین چھونے کے بعد قیمت پانچ ہزار ڈالر فی اونس ہو جاتی ہے۔انہیں یہ بڑے بڑے بد دیانت اور چور سرمایہ دار نظر نہیں آتے، انہیں 1998ء کی ہوسٹن کی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نظر نہیں آتی جس نے 1.7 ارب ڈالر کا فراڈ کیا، 2001ء کی ENRON جس کی وجہ سے لوگ 74 ارب ڈالر سے محروم ہوگئے، 2002ء کا World comسکینڈل جس میں چار ارب ڈالر کا فراڈ ہوا۔ ایسے ہزاروں بددیانتوں کی طویل لسٹ ہے جو اجتماعی طور پر جھوٹ بول کر لوگوں کے ہزاروں ارب ڈالر لوٹ کر لے گئے۔ ایسی کئی سو مثالیں ہیں، جو کئی دہائیاں میک اپ، ادویات، کپڑے اور فاسٹ فوڈ نقائص اور سائیڈ ایفکٹ بتائے بغیر بددیانتی سے بچتی رہتی ہیں، حالانکہ انہیں بخوبی علم ہوتا ہے کہ سب کونسی بیماریاں اپنے اندر لیے ہوتے ہیں۔ لوگوں کو بیماری تحفے میں دے کر مال بنانے والا یہ بددیانت مغربی کاروباری اس حالت پر پہنچ چکا ہے کہ صرف 50 افراد کے پاس دنیا کی 65 فیصد دولت ہے۔ انہیں دنیا کے سب سے زیادہ بلکہ نوے فیصد سے بھی زیادہ سیریل کلر نظر نہیں آتے جو مغرب میں پائے جاتے ہیں۔ انہیں وہاں دنیا کے سب سے زیادہ منشیات کے عادی نظر نہیں آتے جن کی طلب کی وجہ سے اس دنیا میں یہ دھندہ زندہ ہے۔ انہیں ہر سال ہزاروں ایسی لڑکیاں نظر نہیں آتیں جنہیں ان کے سابقہ شوہر یا بوائے فرینڈ قتل کردیتے ہیں کہ انہوں نے بستر کیوں بدل لیا۔ یہ دانشور جن کی آنکھیں چکاچوند سے متاثر ہیں انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ ہمارے ہاں آج بھی ماں باپ اولاد کے ہاتھ میں اپنے رب کریم کے حضور جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں لاکھوں معصوم بچیاں اغوا کرکے بازار سجانے کے لیے نہیں لائی جاتیں۔ ہم دنیا میں سب سے زیادہ خیرات دینے والی قوم ہیں ہم میں شاید ہی کوئی سیریل کلر ہو، ہم بحیثیت امت سب سے کم شراب پینے والی قوم ہیں۔ آنکھیں مغربی تہذیب کی چکاچوند سے کھولنے کے لیے اور خود پر فخر کرنے کے لیے یہی کافی ہے۔ ورنہ رمضان کے اس آخری عشرے کی دعا تو یہ ہے کہ اللہ اس قوم کے دانشوروں کو اپنی قوم کے محاسن سے آگاہ کرے اور ان پر فخر کرنا سکھائے۔ورنہ اس قوم میں ایسے کئی ہیں جو شہر میں اعلی مقام پر فائز ہو جائیں تو گاؤں سے آنے والے اپنے دیہاتی باپ سے اتنا شرمندہ ہوتے ہیں کہ اسے گاؤں کا ملازم یا کّمی ظاہر کرتے ہیں۔