عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بنچ نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اور ان کی دختر مریم نواز کے خلاف احتساب عدالت میں زیر سماعت ریفرنسوں کو نمٹانے کے لیے ایک ماہ کی مزید مہلت دے دی ہے۔ یہ مہلت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی درخواست پر دی گئی ہے۔ قبل ازیں شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی تھی کہ عدالتی کارروائی مزید کئی ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے اس لیے چھ ہفتوں کی مہلت دی جائے۔ عدالت عظمیٰ نے مہلت میں کمی کا حکم دیا اورخواجہ حارث کے اعتراض پر ہفتہ اور اتوار کے ایام میں بھی سماعت جاری رکھنے کا کہا جس پر خواجہ حارث نے ان ایام میں پیش ہونے سے معذرت کرلی جس پر چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے کہا کہ اگر ’’ہم ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران کام جاری رکھ سکتے ہیں تو آپ ایک وکیل کے طور پر ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟ رواں برس مارچ میں سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو فیصلہ کرنے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی تھی تاہم احتساب عدالت اس مدت میں کارروائی مکمل نہ کرسکی۔ عدالتی کارروائی سے آگاہ خبر نگاروں کے مطابق احتساب عدالت نے شریف خاندان کے ظاہر کئے گئے اثاثے آمدن سے زیادہ ہونے کے متعلق واجد ضیا اور دو دوسرے تفتیشی افسران کے بیانات ابھی قلمبند کرنا ہیں۔ تحریک انصاف سمیت متعدد دیگر جماعتوں کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف جان بوجھ کر ایسی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہیں جس سے یہ تاثر ملے کہ عدالت ان کے خلاف مقدمات کا قانونی جواز تلاش کرنے میں ناکام ہے۔ ناقدین خواجہ حارث کی طرف سے وکالت نامہ واپس لینے کو بھی تاخیری حربے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ خواجہ حارث نے ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران عدالتی کارروائی جاری رہنے کو اپنے لیے دبائو قرار دیا ہے۔ گزشتہ برس 28 جولائی کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بنچ نے پانامہ لیکس کے معاملے میں اپنے متفقہ فیصلے میں میاں نوازشریف کو صادق و امین نہ ہونے پر نااہل قرار دیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کے بنچ نے نیب کو حکم دیا تھا کہ وہ میاں نوازشریف، ان کے تینوں بچوں، داماد اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس دائر کرے۔ نیب نے سپریم کورٹ کے احکامات کا احترام کرتے ہوئے چھ ہفتے کے اندر جے آئی ٹی کے فراہم کردہ ثبوتوں، ایف آئی اے کی تحقیقات اور نیب کے پاس پہلے سے موجود ریکارڈ کی بنیاد پر شریف خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کردیئے۔ احتساب عدالت کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ چھ ماہ کی مدت میں ان ریفرنسوں پر کارروائی مکمل کرے۔ آغاز میں شریف خاندان نے نیب کی تحقیقات میں عدم تعاون کا طرز عمل اختیار کیا۔ بعدازاں ریفرنس کی سماعت کے موقع پر میاں نوازشریف اور ان کی دختر ہر پیشی پر ذرائع ابلاغ کے سامنے حقائق کو غلط انداز میں پیش کرتے رہے۔ عدالت عظمیٰ کی طرف سے ریفرنسوں کی سماعت کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کے پس پردہ بظاہر یہ مقصد نظر آتا ہے کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے۔ ان مقدمات میں پاکستان کا سابق حکمران خاندان ملوث ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی دلچسپی کا عنصر موجود ہے۔ انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد خاص طور پر ان مقدمات کو سیاسی فوائد کے لیے استعمال کئے جانے کا خدشہ موجود ہے۔ میاں نوازشریف کو گزشتہ برس عدالت عظمیٰ نے جب نااہل قرار دیا تو انہوں نے اس فیصلے اور اپنے اوپر لگنے والے دیگر الزامات کا قانونی جواب دینے کی بجائے ہمیشہ ایک غیر منطقی سیاسی نکتہ نظر اپنایا۔ انہوں نے نااہل ہونے کے بعد جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد سے لاہورجانے کا فیصلہ کیا۔ وہ جی ٹی روڈ کے اردگرد اپنے ووٹروں کو اس فیصلے کے خلاف متحرک کرنا چاہتے تھے۔ میاں نوازشریف نے عدالت عظمیٰ کے قانونی نکات کو چھپا کر غلط بیانی پر مبنی جو موقف اختیار کیا اسے اپنا بیانیہ قرار دیا۔ تحریک عدل کے نام پر انہوں نے اپنے حامیوں کو عدلیہ کے خلاف بھڑکایا۔ ریکارڈ گواہ ہے کہ نہال ہاشمی، طلال چودھری، دانیال عزیز، مشاہد اللہ خان، مریم اورنگزیب نے عدلیہ کے متعلق انتہائی نامناسب لب و لہجہ اختیار کیا۔ نہال ہاشمی تو سزا بھی بھگت چکے ہیں جبکہ باقی کچھ لوگوں کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔ کئی مقامات پر عدلیہ کو گالیاں دی گئیں۔ قصور میں نوازشریف کے بیانیہ پر عدلیہ کو برا بھلا کہنے والے اب عدالت سے رحم کے درخواست گار ہیں۔ دنیا کا ہر مہذب ملک ایسے سیاسی نظام کی حمایت کرتا ہے جہاں ریاستی ادارے اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام دیں۔ پاکستان میں جب کبھی جمہوریت کی بحث ہوتی ہے کج فہم لوگ اس کا مطلب مغربی طرز کی اس جمہوریت کو ذہن میں رکھتے ہیں جہاں پارلیمنٹ سب سے سپریم ادارہ تصور ہوتی ہے۔ یقینا کسی پارلیمانی جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کی بالادستی ضروری ہے مگر مغربی معاشرے میں یہ تصور تک محال ہے کہ کوئی رکن پاریمنٹ عوام سے اپنے مالی معاملات چھپا سکتا ہے۔ وہاں ارکان پارلیمنٹ سے شفاف اخلاقی و مالیاتی ریکارڈ کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ یوں سمجھیں وہاں ہمارے آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ جیسی شرائط ہی موجود ہیں۔ میاں نوازشریف کو پورا موقع ملا کہ وہ پارلیمنٹ کی بالادستی ثابت کرتے۔ ان سے جب لندن فلیٹس کی ملکیت اور آف شور اثاثوں کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے قومی اسمبلی کے فلور پر غلط بیانی کی۔ بعدازاں سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کے دوران بھی انہوں نے سچ بولنے سے گریز کیا۔ میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کو پورا موقع دیا گیا کہ وہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کواپنی بے گناہی کا ثبوت فراہم کریں مگر انہوں نے منی ٹریل دینے کی بجائے اپنا بیانیہ ایک سبق کی صورت جاری رکھا۔ الٹا حکومت کی ماتحت ایجنسیوں اور افراد نے جے آئی ٹی کے ارکان اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنا شروع کردیا۔ چیف جسٹس جناب جسٹس میاں ثاقب نثار نے درست طورپر نشاندہی کی کہ عوام شریف خاندان کے خلاف ریفرنسوں کا جلد فیصلہ چاہتے ہیں تاہم نظام انصاف میں موجود بعض خامیاںاور میاں نوازشریف کی طرف تاخیری حربوں کے باعث ریفرنسوں کی سماعت وقت لے رہی ہے۔ چیف جسٹس نے ایک بار پھر احتساب عدالت کو مہلت دے کر گویا شریف خاندان کو موقع دیا ہے کہ وہ اپنے اوپر لگے الزامات کے دفاع میں قانونی شہادتیں پیش کریں۔ میاں نوازشریف کو یہ سمجھناہو گا کہ جمہوریت کا احترام اور کسی شخصیت کے آئینی و جمہوری حقوق اس وقت محفوظ تصور ہوں گے جب ہم قانون کی بالادستی پر یقین رکھیں گے۔ اگر قانون کی بالادستی تسلیم نہیں کی جاتی تو پھر پورا نظام عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ میاں نوازشریف عدالتی مہلت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی قانونی ٹیم کو جلد سے جلد اپنا کام مکمل کرنے کا کہیں۔ اگر وہ واقعی بے گناہ ثابت ہوتے ہیں تو ان کی جماعت کو ان کی بے گناہی کی صورت میں بہت بڑا انتخابی فائدہ ہوسکتا ہے۔