لاہور(سلیمان چودھری)پنجاب حکومت صحت کے شعبے میں بہتری کے انقلابی دعوے کرنے کے بر عکس ٹیچنگ ہسپتالوں میں صرف 3ہزار نئے بستروں کا ہی اضافہ کر سکی،اکثر مکمل کیے گئے منصوبے 10سال قبل پرویز الہی کے دور میں شروع ہوئے تھے ۔ذرائع کے مطابق 200بستروں کے وزیرآباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی تعمیرپرویز الہی کے دور میں شروع کی گئی لیکن موجودہ حکومت نے سیاسی بنیادوں پر منصوبے کو پہلے بروقت مکمل نہ کیا اور جب وہ سالوں بعد مکمل ہوا تواسے فعال نہ کیاجا سکا اورصرف100بسترہی مریضوں کے استعمال میں لائے گئے جس کی وجہ سے ایک ارب سے زائد کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ منصوبہ مریضوں کو علاج فراہم کرنے سے قاصر ہے ۔پرویز الہی کے منصوبہ میو ہسپتال سرجیکل ٹاو ر کو بھی پنجاب حکومت نے 10سال بعد عارضی طور پر فعال کیا لیکن بستروں کی تعداد500سے کم کرکے 385کر دی گئی۔ جناح ہسپتال کے 78بستروں کے برن یونٹ کوسالوں بعد جبکہ سروسز ہسپتال کا او پی ڈی بھی د س سال بعد مکمل کیا گیا ۔بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال میں 178، ملتان انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈائیزئز 150، ملتان برن سنٹر 72، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز 500، ڈی ایچ کیو غلام محمد آباد250، ملتان چلڈرن ہسپتال 150، چلڈرن ہسپتال لاہور 614، لاہور جنرل ہسپتال فیز تھر ی 49، ہولی فیملی ہسپتال 95، ملتان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ایمرجنسی 45، کوٹ خواجہ سعید ایمرجنسی 24، فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ایمرجنسی 48،رحیم یار خان سی سی یو 20ا ور الائیڈ ہسپتال برن سنٹر فیصل آباد میں 55بستروں کا ہی اضافہ کیا گیا ۔