روزنامہ 92 نیوز کی رپورٹ کے مطابق عام انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے الیکشن کمیشن نے نیا مانیٹرنگ ونگ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے دو سو نئے عہدوں کی تخلیق اور افسران کی بھرتی کے لیے حکومت سے اجازت طلب کرلی گئی ہے۔ یہ مانیٹرنگ ونگ چاروں صوبوں میں قائم کئے جائیں گے۔ پہلے مرحلہ میں 140 افسران اور دوسرے مرحلہ میں 60 سے زائد افسران کی بھرتی ہوگی۔ بلاشبہ انتخابات میں سب سے اولین ترجیح تو ان کی شفافیت ہی ہوتی ہے، اس حوالے سے اگر کوئی نئی بھرتیاں کی بھی جا رہی ہوں تو یہ کوئی قابل اعتراض عمل نہیں ہے لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ بھرتیاں شفاف طریقے سے ہوں گی یا یہ واقعتاً مطلوبہ مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنیں گی۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ الیکشن کمیشن کے اہداف اور امور فنی نوعیت کے ہوتے ہیں، ان کے لیے ایسے ہی افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو الیکشن کے فنی معاملات اور پیچیدگیوں کو اچھی طرح سمجھتے ہوں۔ لہٰذا بھرتیاں کرتے وقت الیکشن کمیشن کو یہ بات پیش نظر رکھنا ہوگی کہ نئے عہدوں اور ملازمتوں پر صرف ان افراد کو ہی تعینات کیا جائے جو انتخابات کی پیچیدگیوں سے اچھی طرح واقف ہوں اور اس سلسلہ میں درکار فنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرسکیں تاکہ انتخابات شفاف اور منصفانہ طریقے سے کرائے جا سکیں۔ الیکشن کمیشن کو بھرتیاں کرتے وقت اقربا پروری، رشوت اور سفارش کی نفی کرنا ہوگی۔ گویا یہ بھرتیاں دراصل الیکشن کمیشن کا اپنا امتحان اور اس بات کا عندیہ ہوگا کہ انتخابات کتنے شفاف ہوں گے۔ لہٰذا انتخابات سے پہلے بھرتیوں کے عمل کو شفاف رکھا جائے اور ایسے افراد کو ہی بھرتی کیا جائے جو شفافیت کے درکار مقاصد کے حصول کے ساتھ ساتھ عوام کی جانب سے اس موقر ادارے پر اعتماد اور یقین کا باعث بنیں۔