شکارپور(نامہ نگار) شکارپور کے نیوفوجداری تھانے کی پولیس لائن کے رہائشی علی منگنھارنے تھانے پرپہنچ کرالزام لگایاکہ میرے بھائی اے ایس آئی محمدنوازمنگنھارنے اپنے بیٹوں کی مددسے سکول فنکشن میں شریک ہونے پرمیری بیوی زلیخاں،بیٹی فرزانہ،دو نواسوں5سالہ ساجد اور 8 سالہ کاشف کومیرے سامنے جانوروں کی طرح ذبح کرکے لاشوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے بوری میں بند کرکے رات کے اندھیرے میں دریامیں بہادیں۔واقعے بعدعلی نوازمنگھارذہنی تواز کھوبیٹھا،دوسرے دن ہوش میں آنے پرنیوفوجداری تھانے پہنچ کرخود کوپیٹتے ہوئے سارا واقعہ نیوفوجداری پولیس کو بیان کیا۔بعدازاں علی منگنھارنے صحافیوں کوبتایا کہ میری بیٹی فرزانہ سکول پڑھتی ہے ،گزشتہ رات سبززارہ لان میں سکول کی جانب سے منعقدہ فنکشن میں شرکت کے لئے میری بیوی زلیخان ، بیٹی فرزانہ اورمیرے 2 نواسے 5سالہ ساجد اور 8سالہ کاشف شریک ہونے بعدجیسے ہی گھرآئے تو میرے بھائی نے گھرمیں داخل ہوکراپنے بیٹوں کی مددسے مجھے رسیوں سے باندھااور منہ میں کپڑا ڈال دیا،میر ی آنکھوں کے سامنے میری بیوی،بیٹی اور نواسوں کو رسیوں سے باندھ کرذبح کیا اورلاشوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے 2بوریوں میں بھر کرلے گئے ،انہوں نے ایس ایس پی شکارپور،ڈی آئی جی لاڑکانہ ، آئی جی سندھ ،وزیر اعلی سندھ ، وزیرداخلہ،چیف جسٹس آف پاکستان ، چیف آف آرمی سٹاف سے مطالبہ کیا کہ ملوث ملزمان کوگرفتارکرکے سرعام پھانسی دیکرمیرے ساتھ انصاف کیاجائے ۔ نیوفوجداری پولیس نے اے ایس آئی محمد نواز منگنھار،انکے بیٹے اورایک خاتون کوحراست میں لیکرتفتیش شروع کردی ، رابطہ کرنے پر متعلقہ تھانے تھانیدار امام بخش لاشاری نے بتایاکہ پولیس کی جانب سے تفتیش جاری ہے ،اب تک کوئی ثبوت ملانہ ہی کوئی مقدمہ درج ہواہے ۔