جنرل ضیاء الحق نے اپنے دور اقتدار میں فرقہ واریت ، عدم برداشت اور انتہاء پسندی کا جو بیج بویا تھا وہ فصل پک کر جوان ہو گئی اور آج بھی پاکستانی قوم سروں کی فصل کی شکل میں کاٹتی آ رہی ہے، ویسے تو پاکستانی سرزمین کا کوئی ایک ایسا چپہ خالی نہیں جہاں دہشت گردی نہ ہوئی ہولیکن وسیب کے اضلاع ٹانک و ڈی آئی خان دہشت گردوں کے مسلسل نشانے پر ہیں ، خیبرپختونخواہ میں گزشتہ پندرہ سالوں میں مختلف حکومتیں تبدیل ہوئیں ،علماء کرام کی جماعت متحدہ مجلس عمل قوم پرستوں کی جماعت اے این پی اور عمران خان کی تحریک انصاف، ان تینوں جماعتوں کی سوچ مختلف ہے، منشور بھی الگ الگ ہے مگر وسیب کے مقامی لوگوں کو کچلنے اور ان کو نقل مکانی پر مجبور کرنے پر سب کا اتفاق رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک ہزاروں سرائیکی کنبے نقل مکانی کر چکے ہیں اور ان کی جگہ افغانی کنبوں نے لے لی ۔ اس صورتحال کے خلاف میں نے تینوں جمہوری ادوار میں وزرائے اعلیٰ ، گورنرز اور آئی جیز و چیف سیکرٹری صاحبان کو خطوط لکھے مگر کسی نے دو سطر کا جواب تک گوارا نہ کیا۔ انصاف کے اداروں کو بھی از خود نوٹس لینے کیلئے خطوط لکھے مگر وہاں بھی خاموشی کا سکوت طاری ہے۔ حالات سے تنگ آ کر میں نے چیف آف آرمی سٹاف جناب قمر جاوید باجوہ صاحب کو خط لکھا ،مجھے توقع نہ تھی کہ کوئی جواب آئے گا۔ گزشتہ رات ملتان سے محبت کرنے والے صنعتکار جناب شیخ احسن رشید کی طرف سے ملتان کے حوالے سے بنائی گئی ڈاکومینٹری کی نمائش کے انتظامات میں مصروف تھا کہ فون آیا ، بات کرنے والے نے بتایا کہ میرا نام شاہد ہے ، پاک آرمی سے بول کر رہا ہوں آپ نے ڈی آئی خان میں ٹارگٹ کلنگ کے بارے میں آرمی چیف کو خط لکھا تھا اس پر جی ایچ کیو کی طرف سے ایکشن ہوا ہے ، کل صبح آپ اسٹیشن ہیڈ کوارٹرڈی آئی خان کینٹ میں اپنا موقف ریکارڈ کرائیں۔ میں نے مصروفیت کے باعث دو دن کی مہلت چاہی تو شاہد صاحب نے کہا کہ بہتر ہے آپ مصروفیات ترک کر کے اپنا موقف ریکارڈ کرائیں ، سارے کام چھوڑ کر میں ڈی آئی خان پہنچا وہاں بریگیڈیئر عاطف منشاء صاحب اور کرنل عثمان صدیقی صاحب نے انتہاپسندی ، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے پس منظر کے ساتھ ساتھ دوسرے امور پر میرا موقف سنجیدگی سے سنا۔ علاوہ ازیںصوبے کی تحریک ، وسیب کا جغرافیہ ، تاریخ ، ڈی آئی خان و ٹانک کا تاریخی پس منظر اور سرائیکی زبان ادب و ثقافت پر اڑھائی گھنٹے تک سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا ، قطع نظر اس کے کہ میری درخواست پر کیا کارروائی ہوتی ہے ،مجھے یہ اطمینان ضرور ہوا ہے کہ پاکستان میں اب بھی ایک ادارہ ایسا ہے جہاں سب کی سنی جاتی ہے دعائیہ کلمات کے ساتھ میں کہتا ہوں ، شکریہ! چیف آف آرمی سٹاف ۔ میں نے چیف آف آرمی سٹاف کے نام اپنی درخواست میں لکھا تھا کہ صوبہ خیبرپختوانخواہ کے سرائیکی علاقہ جات ڈیرہ اسماعیل خان و ٹانک میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے اور سرائیکی بولنے والوں کی نسل کُشی ہو رہی ہے، ان واقعات کا مقصد خطے میں خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کر کے مقامی لوگوں کو اپنے قدیم وطن سے نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے اور یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگ ڈیرہ اسماعیل خان و ٹانک سے دوسرے علاقوں میں منتقل بھی ہو چکے ہیں، ڈی آئی خان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا کہ حال ہی میں شہید ہونیوالے نوجوان اعجاز کا معاملہ بہت ہی زیادہ المناک ہے کہ اعجاز ولد غلام رسول سات بہنوں کا اکلوتا بھائی تھااور پورے کنبے کا واحد کفیل تھا ، وہ ننگ انسانیت دہشت گردوں کی دہشت گردی کا شکار ہو گیاجونہی اعجاز کی لاش گھر پہنچی تو کہرام اور قیامت بپا ہو گئی، دہشت گردوں میں انسانیت نام کی کوئی چیز دیکھنے میں آج تک نہیں آئی۔اس سے چند دن پہلے پروآ میں ایک زمیندار اور ایک حافظ قرآن کو دہشت گردوں نے گولیوں سے بھون دیا۔ سوال یہ ہے کہ وسیب کے لوگ کب تک لاشیں اٹھائیں؟ کب تک بے بسی اور بے کسی کی تصویر بنے رہیں؟ وسیب کے لوگوں کی نسل کشی کب تک ہوتی رہے گی؟ میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ مذکورہ بالا حالا ت و واقعات کے بنا پر درخواست گزار ہوں کہ ڈی آئی خاں و ٹانک میں ٹارگٹ کلنگ کا اُسی طرح ایکشن لیا جائے جیسا کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا لیا گیا ، اُمید ہے کہ بندہ ٔ ناچیز کی درخواست کو شرف قبولیت بخشا جائے گا اور ایکشن لیکر خیبر پختونخواہ حکومت کو تنبیہہ کریں گے کہ سرائیکی اضلاع ڈی آئی خان و ٹانک میں رہنے والے افراد کی جان و مال کا تحفظ کیا جائے، خوف و ہراس کی کیفیت کا خاتمہ کیا جائے تاکہ لوگ اپنا گھر اور اپنی دھرتی چھوڑنے پر مجبور نہ ہوں۔ ڈی آئی خان پہنچا تو پیارے دوست ملک اسلم اعوان اور جھوک کے ملک وسیم کھوکھر نے میری مدد کی وہاں سرکاری ذرائع سے ہم نے تین سالوں کے ڈیٹ وائز جو اعداد و شمار حاصل کئے ان کے مطابق رواں سال یعنی 2018ء کے دوران اب تک 21 افراد ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہو چکے ہیں، ان میں تحصیل کلاچی کے مقام پتھالہ پر ڈی پی او کے کانوائے پر حملہ بھی شامل ہے جہاں تین پولیس اہلکار شہید اور ڈی پی او صاحب زخمی ہوئے ، اسی طرح 2017میں بائیس اور 2016ء میں 19پولیس اہلکار و شہری ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہوئے ۔ پاکستان کے دوسرے علاقوں کے ساتھ ساتھ ڈی آئی خان و ٹانک میں عرصہ چالیس سال سے انتہاء پسندی ، دہشت گردی اور بم دھماکوں کی صورت میں شہید ہونے والے سینکڑوں افراد کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ میں نے بریگیڈیئر عاطف منشاء اور کرنل عثمان صدیقی کو واضح طور پر بتایا کہ ڈی آئی خان و ٹانک کے ساتھ ساتھ پورے سرائیکی وسیب کے محکوم افراد کی بہتری اور تحفظ اس طرح ممکن ہے کہ الگ صوبہ بنایا جائے ،وسیب کے لوگوں کی اپنی دھرتی ، اپنا جغرافیہ ، اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت ہے ۔تاریخی طور پر صوبہ ملتان اپنی قدامت اور اپنی وسعت کے اعتبار سے پورے ہندوستان کا بڑا صوبہ تھا جسے رنجیت سنگھ اور انگریز سامراج نے ختم کیا۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ رنجیت سنگھ نے پشاور پر بھی قبضہ کیا تھا ، 9 نومبر 1901ء میں وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے صوبہ شمال مغربی سرحدی صوبے کی شکل میں پشاور کا اختیار نہ صرف بحال کیا بلکہ بہت سے سرائیکی اضلاع بھی اُس میں ڈال دئیے جس پر اس وقت بھی بہت احتجاج ہوا اب وقت آ گیاہے کہ رنجیت سنگھ اور انگریزسامراج کے فیصلہ کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا جائے اور سرائیکی صوبے کا قیام عمل میں لایا جائے۔