ریحان خان کی کتاب نے تو شائع ہونے سے پہلے بھی کہرام مچا دیا ہے۔ چھپے گی تو کیسا کہرام ہو گا‘ ’’ام الکہرام‘‘ ہی ہو گا۔ تحریک انصاف بہت غصے میں ہے اور عمران خان سخت بے چین۔ یار لوگوں کو اندیشہ ہے کہ کتاب آ گئی تو خان صاحب کہیں الیکشن ملتوی کرنے کا مطالبہ ہی نہ کردیں ۔ایسا ہوا تو التوا ناگزیر ہو جائے گا۔ التوا کا مطالبہ کرنے کا خدشہ غیر حقیقی نہیں۔ خاں صاحب کے ایک مداح جو ہر دور میں ’’قصیدہ نگاری‘‘ کے لیے مشہور رہے ہیں۔ اپنے تازہ روحانی کالم میں قلم برداشتہ لکھتے ہیں کہ انتخابات سے عدم استحکام آئے گا‘ افراتفری ہو گی اتنی گرمی ہے لوگوں کو افطاری تراویح سے فرصت نہیں اور یہ چلے ہیں الیکشن کرانے… اس روحانی کالم کو مطالبہ عمرانی کا دیباچہ سمجھئے۔

٭٭٭٭٭

تحریک انصاف کے ایک رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ ریحام خاں کی کتاب کا مواد بہت بے ہودہ ہے۔ فواد چودھری چند روز قبل دوست کھوسہ کی تحریک انصاف میں شمولیت کے مسئلے پر ان کے والد گرامی ذوالفقار کھوسہ سے ایک ’’باہودہ‘‘ ڈانٹ کھا چکے ہیں اور اس باب میں چپ کا روزہ ایسا رکھا ہے کہ چار دن ہو گئے ابھی تک افطاری نہیں کی۔ بہرحال وہ خود ہی بتا دیں ریحام خاں نے بے ہودہ مواد اکٹھا کیا ہے تو اس میں ان کی غلطی کیا ہے۔ انہیں جو مواد بنی گالہ کے شب و روز سے ملا وہی لکھ ڈالا۔ اب مواد تو مواد ہے۔ چاہے بے ہودہ ہو یا باہودہ۔ ولی خاں کے الفاظ میں حقائق حقائق ہوتے ہیں تو زیر نظر معاملے میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ مواد تو مواد ہے بھئی۔ غلط ہے تو تردید کر دو‘ نوٹس بھیج دو اور ابھی کتاب چھپی نہیں مواد کے بے ہودہ ہونے کا تعین کیسے ہو گیا۔ ایک لڑکی کو کسی نے چھیڑا اور بے ہودہ باتیں کیں۔ وہ پرنسپل کے پاس چلی گئی ۔ لڑکے نے ساتھیوں کو بتایا کہ یہ پرنسپل کے سامنے میرے بارے میں بے ہودہ الزامات لگانے گئی ہے۔

لگتا ہے تحریک انصاف سے غلطی ہو گئی۔ کتاب آنے کے بعد تردیدی مہم کرتے تو وزن ہوتا (شاید) پہلے ہی اسے بے ہودہ قرار دے کر انہوںنے عام عوام کو کیا’’پیغام‘‘ دیا ہے یہی کہ بھئی کچھ تو ہو گا!

٭٭٭٭٭

ادھر مشہور خوش گفتار مفتی عامر لیاقت کی خاں صاحب سے ان بن ہو گئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آج کل میں پھر سے صلح ہو جائے کہ خان صاحب نے بلاوا تو بھیجا ہے لیکن اس سے پہلے ان کا ایک دھمکیاتی بیان اخبار میں چھپا ہے۔ فرمایا ہے کہ عمران خان کی وجہ سے خاموش ہوں۔ بولا تو ان میں سے (تحریک انصاف کے لوگ) ہر ایک کا الیکشن جیتنا مشکل ہو جائے گا۔

صلح ہو ہی جانی چاہیے ورنہ عامر لیاقت تو اجتماعی رازوں سے واقف ہیں کہیں کتاب لکھنے کا ارادہ کر لیا تو یک نہ شد‘ دو شد والا معاملہ ہو جائے گا اور فہد چودھری کو پھر پیشگی پریس کانفرنس کرنا پڑے گی کہ عامر لیاقت کی کتاب کا مواد بہت بے ہودہ ہے۔

٭٭٭٭٭

ویسے ’’گیس‘‘ کیجیے! عامر لیاقت کے پاس بولنے کے لیے ایسا کیا ہے کہ سامنے آ گیا تو ان لوگوں کا الیکشن جیتنا مشکل ہو جائے گا۔

کیا ’’گندی گندی باتیں‘‘ہیں؟ اور اگر یہ گندی گندی باتیں ہیں تو کیا ان کا قومی مفاد نہ سہی‘ ووٹروں کے مفاد سے بھی کوئی تعلق ہے ؟ پھر یہ کیسے پوچھیں کہ میاں عامرلیاقت ‘ یہ کیا بات ہوئی کہ مطالبہ نہ مانا تو گندی گندی باتیں پبلک کردوں گا۔ مان لیا تو منہ سی لوں گا۔ یہ ذاتی فائدے کی سوچ نہیں؟ یعنی گندی بات پھر اچھی ہو جائے گی؟ ویسے قصے تو میاں آپ کے بھی بہت سنے ہیں ۔

٭٭٭٭٭


دوست کھوسہ کی تحریک انصاف میں شمولیت ہوئی یا نہیں؟ فہد چودھری نے کہا بالکل نہیں ہوئی۔ ان پر اداکارہ سپنا کے قتل کا معاملہ ہے‘ اس لیے انہیں پارٹی میں نہیں لیا۔ اس پر دوست کھوسہ کے بزرگوار والد نے انہیں ڈانٹ پلائی اور کہا کہ ایسی شرارتوں کی گنجائش نہیں میں اپنے بیٹے سمیت تحریک انصاف میں شامل ہوا ہوں۔

اس بات پر خموشی سی چھا گئی ہے چنانچہ قطعیت سے نہیںکہا جا سکتا کہ نیکوکار فرزند تحریک میں شامل ہوئے یا نہیں۔ چلیے مان لیتے ہیں‘ شامل نہیں ہوئے۔ فاروق بندیال خاں صاحب سے ملے‘ تحریک میں شامل ہو گئے‘ خان صاحب نے تبدیلی والا دو رنگا مفلر بھی ان کے گلے میں ڈالا۔ پھر پتہ چلا کہ ان کو نیکو کار نے تو اداکارہ شبنم کے گھر مسلح ڈکیتی کی تھی اور اجتماعی ریپ بھی کیا تھا جس پر عدالت نے انہیں سزائے موت بھی سنائی تھی لیکن مرد حق ضیاء الحق صاحب نے انہیں معاف کر دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر کہرام مچا تو تحریک کا اعلان آ گیا کہ موصوف کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

سوال ایک یہ بھی پھر بنتا ہے کہ فاروق بندیال ہو یا دوست کھوسہ‘ عامر لیاقت ہو یا مراد سعید‘ ہر ہونہار کی پہلی ترجیح شمولیت کے لیے تحریک انصاف ہی کیوں ہوتی ہے؟ کل ہی پاکپتن سے ’’بالجبر‘‘ اور ’’زیادتی‘‘ کا ایک نامی گرامی ملزم تحریک میں شامل ہو گیا۔

٭٭٭٭٭

لیکن بھئی تصویر کا ایک پہلو روشن بھی تو ہو سکتا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ کتاب میں ’’جلوہ گاہ بنی گالہ ‘‘ کے جلوے بے حجاب ہونے کے بعد تحریک میں شامل ہونے والوں کی قطار لگ جائے۔ اتنے زیادہ لوگ آ جائیں کہ سنبھالے نہ سنبھلیں اور بہت سے دل والے جو ابھی سیاست سے لاتعلقی کی وجہ سے اپنا ووٹ کا حق استعمال نہ کرتے راتوں رات’’مشہوری‘‘ سن کر الیکشن کے دن ’’تبدیلی‘‘ کے ووٹر بن جائیں۔ کتاب کیا ہے تبدیلی کی دلہن کے جلووں کا بکھرائو ہے۔

٭٭٭٭٭

مشہور ناول نگار ایچ اقبال 92نیوز سے منسلک ہو گئے ہیں ہو سکتا ہے کہ کئی قارئین انہیں بہت معروف نہ سمجھتے ہوں ۔ لیکن 1970ء کی دہائی میں ان کا نام بہت چمکا تھا۔ انہوں نے جاسوسی ڈائجسٹ کا اجرا کیا جس کی اشاعت دوسرے تیسرے مہینے ہی آسمان پر پہنچ گئی۔ بعدازاں اس سے الگ ہو کر اپنا الف لیلیٰ ڈائجسٹ نکالا جس نے کئی سال خوب ڈنکے بجائے۔ پھر آہستہ آہستہ سریّ اور جاسوسی ادب کا حصہ ان ڈائجسٹوں سے کم ہوتا گیا۔ جنہوں نے 70کی دہائی میں مارکیٹ پر گویا قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد انہیں زوال آ گیا۔

سری اور جاسوسی ادب کا بانی ڈائجسٹ ’’عالمی‘‘ تھا اس سے سب رنگ ڈائجسٹ نکلا لیکن دو ہی برس بعد اس نے لائن بدل لی اور نیم ادبی نیم داستانی سا پرچہ ہو گیا۔ آج بھی اس مختصر دور کی یادیں ماضی کے دریچے چکا چوند کر دیتی ہیں۔ ایچ اقبال صاحب کو خوش آمدید‘ خدا انہیں اور ان کے قلم کو عمر خضر دے۔ ان کی تحریر میں داستانی دلچسپی پر زبان کا لطف مستزاد ہے۔